8

روز بدلتی قیمتیں، سسکتی عوام :تحریر سید ساجد علی شاہ

ہر روز طلوع ہونے والا سورج پاکستانی عوام کے لیے کسی نئی امید کا نہیں بلکہ ایک نئے امتحان کا پیغام لے کر آتا ہے۔ کبھی بجلی مہنگی ہو جاتی ہے، کبھی گیس کے نرخ بڑھ جاتے ہیں، کبھی آٹے اور چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، اور کبھی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ردوبدل کر کے پوری معیشت کو ایک نئے طوفان کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملک میں ہر شے کی قیمت کا دار و مدار صرف پٹرول پر ہے۔ اگر پٹرول ایک روپیہ بھی مہنگا ہو جائے تو چند گھنٹوں کے اندر کرایے، سبزیاں، دودھ، آٹا، دالیں، گوشت، ادویات اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، لیکن جب پٹرول سستا ہوتا ہے تو بازار میں کسی چیز کی قیمت کم نہیں ہوتی ، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی نے عام آدمی کی زندگی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ سفید پوش طبقہ جو اپنی عزتِ نفس بچاتے ہوئے محدود آمدنی میں گھر چلاتا ہے، آج سب سے زیادہ پریشان ہے۔ سرکاری ملازم، پنشنرز، مزدور، چھوٹے دکاندار اور دیہاڑی دار افراد سب اس مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کی آمدنی وہی ہے لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔
حکمران جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہیں تو اس کے حق میں مختلف دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ کبھی عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کبھی روپے کی قدر میں کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، اور کبھی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان تمام فیصلوں کا بوجھ ہمیشہ صرف غریب عوام ہی کیوں اٹھائیں؟ کیا حکمران طبقے نے کبھی اپنی شاہانہ مراعات، سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری اخراجات اور فضول سرکاری خرچ کم کرنے کا بھی سوچا؟پاکستان کا غریب آدمی اب صرف مہنگائی سے نہیں بلکہ بے یقینی سے بھی خوفزدہ رہنے لگا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آج اگر پٹرول مہنگا ہوا ہے تو کل ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی۔ اس کے بچے کی اسکول وین کا کرایہ بڑھے گا، دفتر جانے کا خرچ بڑھے گا، سبزی مہنگی ہوگی، دودھ مہنگا ہوگا اور گھر کا بجٹ مزید بگڑ جائے گا۔دوسری طرف پٹرول پمپ مالکان بھی اکثر عوام کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔ اگرچہ ہر پمپ مالک قصوروار نہیں ہوتا، لیکن کچھ عناصر ایسے ضرور ہوتے ہیں جو قیمتوں میں اضافے کے اعلان سے پہلے فروخت روک دیتے ہیں، اسٹاک چھپا لیتے ہیں یا عوام کو گھنٹوں قطاروں میں کھڑا رکھتے ہیں تاکہ نئی قیمت نافذ ہوتے ہی زیادہ منافع حاصل کر سکیں۔ ایسے رویے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرتی بددیانتی بھی ہیں۔ یہاں انتظامیہ کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ اگر ضلعی انتظامیہ بروقت نگرانی کرے، ذخیرہ اندوزی روکے، مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ کرے تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ افسوس کہ اکثر کارروائیاں صرف خبروں اور تصویروں تک محدود رہ جاتی ہیں جبکہ زمینی حقیقت مختلف ہوتی ہے۔اسی طرح پیرا فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ جب قیمتوں میں اضافے کے بعد عوامی احتجاج ہوتا ہے تو یہی اہلکار سخت گرمی، سردی اور بارش میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ وہ بھی اسی مہنگائی کا شکار ہوتے ہیں جس کا سامنا عام شہری کرتا ہے، مگر وردی کی ذمہ داری انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایک سپاہی، ایک کانسٹیبل یا ایک اہلکار بھی اسی بازار سے آٹا، گھی، سبزی اور پٹرول خریدتا ہے جہاں عام شہری خریداری کرتا ہے۔ اس لیے مہنگائی کا درد صرف عوام ہی نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے ملازمین بھی محسوس کرتے ہیں۔معاشرے کی اصل طاقت اس کا متوسط اور سفید پوش طبقہ ہوتا ہے۔ جب یہی طبقہ معاشی دباؤ کا شکار ہو جائے تو قوم کی ترقی رک جاتی ہے۔ آج ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو مہینے کے آخری دنوں میں ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بچے اپنی خواہشات دبا لیتے ہیں، والدین اپنی ضروریات قربان کر دیتے ہیں، مگر پھر بھی مہنگائی کا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ مہنگائی صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، بلکہ یہ لاکھوں انسانوں کی ٹوٹتی امیدوں، بجھتے چولہوں اور ادھورے خوابوں کی داستان ہے۔ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ کھیت سے منڈی، منڈی سے دکان اور دکان سے گھر تک ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ کسان کھاد اور ڈیزل مہنگا خریدتا ہے، ٹرانسپورٹر کرایہ بڑھا دیتا ہے، دکاندار اپنا منافع بڑھا لیتا ہے اور آخر میں تمام بوجھ عام صارف کے کندھوں پر آ گرتا ہے۔سفید پوش طبقہ اس صورتحال کا سب سے بڑا متاثرہ فریق ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور نہ ہی اپنی مجبوریوں کا چرچا کرتے ہیں۔ ان کے گھروں میں مہمان آ جائیں تو مسکراہٹ برقرار رہتی ہے، مگر باورچی خانے میں راشن کم ہوتا جا رہا ہوتا ہے۔ بچوں کی فیس، بجلی کے بل، گیس کے اخراجات، دوائیں اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرتے کرتے ان کی جمع پونجی ختم ہو جاتی ہے، مگر کسی کو ان کے درد کا احساس نہیں ہوتا۔حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو صرف پٹرول کی قیمتوں کے اعلانات کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں جن سے مہنگائی کا بوجھ کم ہو، ذخیرہ اندوزی ختم ہو، ناجائز منافع خوروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مارکیٹ میں قیمتوں پر حقیقی نگرانی قائم کی جائے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر فیصلے وقتی ہوتے ہیں جبکہ مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیے جاتے۔پٹرول پمپ مالکان میں بہت سے لوگ دیانت داری سے اپنا کاروبار کرتے ہیں، لیکن چند عناصر کی بے ایمانی پورے شعبے کو بدنام کر دیتی ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی خبر آتے ہی بعض پمپوں پر فروخت روک دی جاتی ہے، لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور عوام کو بے بسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔انتظامیہ کی کامیابی صرف چھاپے مارنے یا تصویری کارروائیوں سے نہیں بلکہ اس وقت ثابت ہوگی جب بازار میں عام شہری کو حقیقی ریلیف محسوس ہوگا۔ اگر ہر ضلع میں مؤثر مانیٹرنگ، فوری کارروائی اور شفاف احتساب کا نظام قائم ہو جائے تو ناجائز منافع خوری پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی صرف معیشت کو نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب گھروں میں مالی پریشانی بڑھتی ہے تو ذہنی دباؤ، گھریلو تنازعات، بے روزگاری، جرائم اور مایوسی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ایک مضبوط قوم صرف مضبوط معیشت سے نہیں بلکہ مطمئن شہریوں سے بنتی ہے، اور مطمئن شہری اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب انہیں انصاف، روزگار اور بنیادی ضروریات مناسب قیمت پر میسر ہوں۔وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، انتظامیہ، تاجر برادری، پٹرول پمپ مالکان اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اگر ہر طبقہ صرف اپنا فائدہ دیکھے گا تو نقصان پوری قوم کو ہوگا۔ پاکستان اس وقت ایسے فیصلوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے تاکہ غریب اور سفید پوش طبقہ بھی سکون کا سانس لے سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں