5

حفاظتی ٹیکوں سے محروم بچے: ایک خاموش المیہ تحریر: رفیع صحرائی

قوموں کی ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سڑکوں اور معاشی اشاریوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کس حد تک محفوظ، صحت مند اور باوقار مستقبل فراہم کر رہی ہیں۔ اگر کسی ملک کے لاکھوں بچے ایسی بیماریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جائیں جن سے صرف ایک حفاظتی ٹیکہ بچا سکتا ہو تو یہ صرف شعبۂ صحت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی ترجیحات، اجتماعی شعور اور ریاستی ذمہ داری کا سوال بن جاتا ہے۔
تشویشناک خبر یہ ہے کہ پاکستان میں چھ لاکھ اکاون ہزار بچے پیدائش کے بعد حفاظتی ٹیکوں سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ چھ لاکھ اکاون ہزار خاندانوں، خوابوں اور مستقبلوں کی کہانی ہے۔ ہر وہ بچہ جو حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ جاتا ہے، وہ خسرہ، پولیو، کالی کھانسی، تشنج اور دیگر خطرناک بیماریوں کے سامنے دفاع سے محروم کھڑا ہوتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ بیماریاں، جنہیں دنیا کے بیشتر ممالک تقریباً ختم کر چکے ہیں، دوبارہ ہمارے معاشرے میں قدم جما سکتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان ان پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں دنیا کے تقریباً نوے فیصد ایسے بچے موجود ہیں جنہیں کوئی حفاظتی ٹیکہ نہیں لگ سکا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس فہرست میں شامل دیگر ممالک جنگ، خانہ جنگی یا ریاستی انہدام جیسے سنگین بحرانوں سے دوچار ہیں، جبکہ پاکستان کو ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ اس کے باوجود اگر ہمارے بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں ہماری منصوبہ بندی، انتظامی صلاحیت، نگرانی اور عوامی آگاہی میں سنجیدہ کمزوریاں موجود ہیں۔
حفاظتی ٹیکے دراصل طب کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہی کی بدولت چیچک جیسی مہلک بیماری دنیا سے ختم ہوئی، پولیو دنیا کے بیشتر حصوں سے تقریباً مٹ چکا اور لاکھوں بچوں کی زندگیاں ہر سال محفوظ ہو رہی ہیں۔ ویکسین صرف ایک انجکشن نہیں بلکہ بیماری، معذوری، علاج کے بھاری اخراجات اور خاندانوں کے دکھوں سے بچاؤ کی ضمانت ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب بھی بعض علاقوں میں ویکسین کے بارے میں بے بنیاد افواہیں، مذہبی یا سماجی غلط فہمیاں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی معلومات والدین کو تذبذب میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب فیصلہ سائنسی حقائق کے بجائے افواہوں کی بنیاد پر کیا جائے تو اس کی قیمت معصوم بچے اپنی صحت اور بعض اوقات اپنی جان کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ علماء کرام، اساتذہ، ڈاکٹروں، میڈیا اور سماجی رہنماؤں کو ایک مشترکہ قومی مہم کے ذریعے والدین تک درست معلومات پہنچانی چاہئیں۔
حکومت کی ذمہ داری بھی کسی صورت کم نہیں ہوتی۔ صرف ویکسین دستیاب ہونا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ ملک کے آخری گاؤں، پہاڑی علاقے، صحرائی بستی اور کچی آبادی تک حفاظتی ٹیکے بروقت پہنچیں۔ کولڈ چین نظام جدید بنایا جائے تاکہ ویکسین اپنی افادیت برقرار رکھ سکے، ویکسینیٹرز کی تعداد اور تربیت میں اضافہ کیا جائے، ہر نومولود بچے کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے اور ایسے اضلاع کی مسلسل نگرانی کی جائے جہاں حفاظتی ٹیکوں کی شرح کم ہے۔ موبائل ہیلتھ یونٹس اور جدید ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم اس مقصد میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حفاظتی ٹیکوں کو صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قومی تحریک بنایا جائے۔ جس طرح پولیو کے خلاف پورا ملک متحرک ہوتا ہے، اسی جذبے کے ساتھ معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو بھی قومی ترجیح دی جائے۔ کیونکہ ایک بھی غیر محفوظ بچہ نہ صرف اپنی جان کے لیے خطرہ ہے بلکہ وہ پورے معاشرے میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
والدین کے لیے بھی یہ سوچنے والی بات ہے کہ بچوں کو اچھی تعلیم، عمدہ لباس اور بہتر خوراک دینا یقیناً ضروری ہے، لیکن صحت مند زندگی کی بنیاد حفاظتی ٹیکوں سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔ چند لمحوں کی غفلت عمر بھر کی پشیمانی میں بدل سکتی ہے، جبکہ بروقت لگایا گیا ایک ٹیکہ زندگی بھر کا تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج کا بچہ کل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان، سپاہی اور قومی رہنما ہے۔ اگر ہم نے اس کی صحت کی حفاظت نہیں کی تو دراصل ہم اپنے ہی مستقبل کو کمزور کر رہے ہوں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، طبی ماہرین، میڈیا، مذہبی و سماجی قیادت اور والدین سب مل کر یہ عہد کریں کہ پاکستان کا کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہیں رہے گا۔ کیونکہ ایک صحت مند بچہ ہی ایک مضبوط خاندان، ایک توانا معاشرے اور ایک خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس کی حفاظت آج کی جائے تو کل پوری قوم اس کے ثمرات سے فیض یاب ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں