119

اختلاف اپنی جگہ، ایک شہید کی میت کو مزید اذیت نہ دی جائے: عامر محبوب

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران پلندری میں شہید ہونے والے سپاہی عاقب رشید کی میت تاحال ورثا اور پولیس کے حوالے نہیں کی جا رہی، جبکہ ایک زخمی پولیس اہلکار شہزاد کو بھی آگ لگا کر جلانے کی کوشش کی گئی تھی مگر انہیں بروقت ریسکیو کر لیا گیا تاہم ان کی گاڑی جلا دی گئی۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ ایک انسانی المیہ بنتی جا رہی ہے۔
سپاہی عاقب رشید کوئی دشمن نہیں تھے۔ وہ اسی سرزمین میرپور کے بیٹے تھے، جنہوں نے ریاست کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری نبھانے کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ وہ کسی ذاتی مقصد کے لیے وہاں موجود نہیں تھے بلکہ اپنے فرض کی ادائیگی کر رہے تھے۔ آج ان کے اہلِ خانہ اپنے پیارے کی آخری جھلک دیکھنے اور اسے باوقار طریقے سے سپردِ خاک کرنے کے حق سے محروم ہیں۔ ان کی بے بسی، انتظار اور کرب کا احساس ہر صاحبِ دل انسان کر سکتا ہے۔
ہم عوامی ایکشن کمیٹی سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ امن، مفاہمت اور انسانی اقدار کو مقدم رکھتے ہوئے سپاہی عاقب رشید کی میت فوری طور پر ان کے ورثا اور پولیس کے حوالے کی جائے تاکہ ان کے کرب میں کچھ کمی تو ممکن ہو۔
ہم آئی جی آزاد کشمیر ملک لیاقت اعوان اور دیگر متعلقہ حکام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے کے پرامن اور فوری حل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں اور آئی جی پولیس کے شہید کی میت وصول کرنے کے لیے خود موقع پر جائیں کیونکہ شہید کی میت آپ کی ذمہ داری ہے اور یہ آپ کا فرض ہے کہ میت وصول کر کے خود ورثا کے حوالے کریں۔
یہ معاملہ صرف شہید کی میت کی تکریم کا نہیں بلکہ آپ کی فورس کے مورال کا بھی ہے، اطلاعات کے مطابق جب میت اٹھا کر لانے کی کوشش کی گئی تب بھی اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔ اگر تین تین دن تک شہدا کی میتیں بھی حاصل نہیں کی جا سکیں گی تو پولیس سروس کس مورال کے ساتھ اپنی قانونی ذمہ داریاں ادا کرے گی؟
جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بھی امید ہے کہ وہ اس حساس معاملے پر ہمدردی، تدبر اور انسانیت کا مظاہرہ کرے گی۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر ایک عاقب شہید کی میت کی تکریم نہ کرنا کسی کے مفاد میں نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں