65

کشمیر بحران،حقائق سامنے لانے کیلئے بااختیار کمیشن بنایا جائے،بلاول بھٹو

مظفرآباد (خبرنگار)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحران کی وجوہات سامنے لانے کے لیے “ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن” قائم کیا جائے، جسے مکمل اختیارات حاصل ہوں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ آزاد کشمیر کے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی قوتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے موجودہ حالات ایک وفاقی وزیر کے بیانات کے بعد پیدا ہوئے، اس لیے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحران کو پرامن طریقے سے حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کبھی نہیں چاہے گی کہ کشمیر میں دہشت گردی کی سیاست پروان چڑھے۔ ان کے بقول افواجِ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف بات کرنے والوں کو قبول نہیں کیا جا سکتا، جبکہ امن کے قیام میں فیلڈ مارشل کے کردار کو بھی سراہا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر نہ صرف کشمیری بلکہ پورا پاکستان پریشان ہے، اس لیے تمام سیاسی رہنماؤں، احتجاج کرنے والوں اور ذمہ دار حلقوں کو اپنے الفاظ کے چناؤ میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے تاکہ کوئی دشمن قوت ان حالات سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا پسینہ گرے گا تو ہمارا خون گرے گا، ہر شہری کی جان قیمتی ہے، خواہ وہ عام شہری ہو یا سکیورٹی اہلکار۔ انہوں نے کہا کہ پرامن شہریوں کو دہشت گرد یا کسی کا ایجنٹ قرار دینا مناسب نہیں اور نہ ہی اسلام آباد میں بیٹھا کوئی شخص یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ موجودہ حالات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، تحمل اور ذمہ داری میں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کشمیر میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے مکمل اختیارات کے ساتھ ایک کمیشن تشکیل دیا جائے، جس میں تمام سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کریں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے مطابق تحقیقات مکمل کریں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ حالات میں آزاد کشمیر میں انتخابات کا انعقاد ایک مشکل مرحلہ ہے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کبھی بھی انتخابات سے نہیں بھاگتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک آزاد کشمیر میں حالات معمول پر نہیں آتے، کشمیر کاز کو نقصان پہنچتا رہے گا، اس لیے مسئلے کا پرامن حل نکالنا ناگزیر ہے۔بلاول بھٹو نے مہاجرین کی نمائندگی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر میں ایسی سیاست نہیں چاہتے جیسی ماضی میں کراچی میں دیکھی گئی۔علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران پر جنگ مسلط ہونے سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک ساتھ تھے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے اقدامات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ طاس معاہدے پر حملہ کیا گیا تو پورا پاکستان اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور دریائے سندھ کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا علاوہ ازیں  میں 14 جولائی 2026 کو موصول ہونے والے آپ کے خط کی وصولی کا اعتراف کرتا ہوں۔آزاد جموں و کشمیر میں قیمتی جانوں کا مسلسل ضیاع، بشمول گزشتہ روز رپورٹ ہونے والی ہلاکتیں، ایک قومی المیہ ہے۔ میں ہر سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ ہر کشمیری کی جان انمول ہے۔ کسی پرامن شہری کی موت کو سیاسی اختلاف کا قابلِ قبول نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بالکل اسی طرح جیسے ہر پولیس اور سیکیورٹی اہلکار کی زندگی کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی، معاشی اور آئینی تحفظات پر پرامن طریقے سے آواز اٹھانے کا بلا شبہ حق حاصل ہے۔ پرامن شہریوں کو محض اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے پر بلا تفریق دہشت گرد، پاکستان مخالف یا کسی بیرونی طاقت کا ایجنٹ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی، تشدد کا کوئی بھی مخصوص واقعہ، خواہ وہ کسی مظاہرین کے خلاف ہو یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار کے خلاف، اس کی انفرادی، غیر جانبدارانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں۔موجودہ محاذ آرائی کو طاقت کے استعمال یا اشتعال انگیز الزامات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی تحریری طور پر کیے گئے وعدوں کو اس بحث کی نذر ہونے دیا جا سکتا ہے کہ کیا لاگو ہوا اور کیا نہیں ہوا۔حالیہ واقعات، مختلف فریقین کے رویے، گزشتہ معاہدوں پر عمل درآمد، جے کے جے اے اے سی (JKJAAC) کے اراکین کے خلاف درج مقدمات اور تنظیم پر پابندی کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ان معاملات کا فیصلہ الزامات، اجتماعی ملامت یا مزید محاذ آرائی کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔چنانچہ میں تمام متعلقہ فریقین کی رضامندی سے ایک *”حقائق اور مصالحت کا کمیشن” (Truth and Reconciliation Commission)* قائم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں۔ اس کمیشن کو ایک وسیع مینڈیٹ دیا جانا چاہیے تاکہ وہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لے سکے، متعلقہ حقائق کا تعین کر سکے، تمام فریقین کے تحفظات اور موقف پر غور کر سکے، زیرِ التوا سیاسی، قانونی اور انتظامی سوالات کا جائزہ لے، اور آگے بڑھنے کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار راستہ تجویز کر سکے۔میں پہلے ہی راولاکوٹ کے عوام کی کشمیری شناخت پر سوال اٹھانے والے بیانات کی مخالفت کر چکا ہوں۔ میں ایک بار پھر دہراتا ہوں: اسلام آباد میں بیٹھے کسی بھی شخص کو یہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا وقار اور شناخت کسی بھی حکومت کے ساتھ ان کے اتفاقِ رائے کی محتاج نہیں ہے۔میں جے کے جے اے اے سی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی تحریک کے پرامن ہونے کو یقینی بنائے اور فوری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں تعاون کرے۔ یہ اپیل ہتھیار ڈالنے یا خاموش رہنے کی درخواست نہیں ہے، بلکہ ایک منصفانہ سیاسی حل کی تلاش کے دوران قیمتی جانوں کو بچانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔پاکستان کا کشمیری عوام کے ساتھ رشتہ رضامندی، وقار، جمہوری حقوق اور باہمی احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس سنگین گھڑی میں، ہماری اولین ذمہ داری مزید خون خرابے کو روکنا اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔اس لیے میں جے کے جے اے اے سی سے اپیل کرتا ہوں کہ کمیشن کی تشکیل پر اتفاقِ رائے ہوتے ہی وہ اپنے مجوزہ لانگ مارچ اور دھرنے معطل کر دے۔ اسی طرح، حکام کو بھی حقائق اور مصالحت کے کمیشن کے نتائج آنے تک مزید کسی قسم کی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے۔اگر یہ تجویز حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد جموں و کشمیر اور مظاہرین دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو، تو پاکستان پیپلز پارٹی کشمیری عوام کے بہترین مفاد میں موجودہ بحران کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں