97

ماں مہر و وفا کا سایہ اور جدائی کا طویل سفر :‌محمد امین انجم مغل

ماں باپ کی لازوال ہستی

کائنات کے ماتھے پر “ماں” اور “باپ” وہ سب سے خوبصورت اور پاکیزہ الفاظ ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور بھی نامکمل ہے۔ ماں اگر زمین پر رب کی رحمت کا سب سے معتبر روپ اور مہر و وفا کا سایہ ہے، تو باپ اس کڑی دھوپ میں تحفظ کی وہ مضبوط دیوار ہے جو اولاد کو زمانے کے ہر طوفان سے بچاتی ہے۔ جب تک یہ دونوں سائے سر پر قائم رہتے ہیں، انسان خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت اور طاقتور ترین انسان سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے پاس دعاؤں کا ایک ایسا حصار ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی مصیبت یا ناکامی توڑ نہیں سکتی۔
10 جولائی 2020ء وہ تاریک دن اور المیہ
زندگی کی کتاب میں کچھ تاریخیں ایسی ہوتی ہیں جو دل پر ہمیشہ کے لیے ایک گہرا زخم چھوڑ جاتی ہیں۔ 10 جولائی 2020ء کی صبح فجر کا وقت تھا میری ماں کا سر میری گود میں تھا اور میری زندگی کا وہی کٹھن اور سیاہ ترین دن تھا، جب میری شفیق اور محترمہ والدہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو، گھر کی در و دیوار اداس ہو گئے ہوں اور زندگی کی بساط سے رونقیں روٹھ گئی ہوں۔ ان کے رخصت ہونے سے صرف ایک ہستی دنیا سے نہیں گئی، بلکہ وہ ہستی چلی گئی جو پورے گھر کو ایک لڑی میں پروئے رکھتی تھی، جن کی مسکراہٹ سے گھر کا صحن چمکتا تھا اور جن کے ہاتھ ہر وقت اولاد کی سلامتی کے لیے اٹھے رہتے تھے۔
چھ سالہ سفر:
کامیابی کا عروج اور والدین کی کمی کا درد
سن 2020ء سے لے کر آج 10 جولائی 2026ء تک، ان چھ سالوں کا سفر کہنے کو تو وقت کا ایک بہاؤ ہے، مگر حقیقت میں یہ ہر لمحہ ان کی کمی کو محسوس کرنے کا نام ہے۔ ان سالوں میں زندگی نے ایک بڑا موڑ لیا:
والدین کی دعاؤں کا اثر:
میں آج زندگی کے جس معتبر مقام پر بھی فائز ہوں، مجھے جو عزت، مرتبہ اور ایک اچھی سرکاری پوسٹ ملی ہے، یہ میری کسی محنت کا کمال نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف میری ماں کی راتوں کی جاگی ہوئی عبادات، ان کی سسکتی ہوئی دعاؤں اور میرے والد صاحب کی دن رات کی مشقت کا اثر ہے، جنہوں نے مجھے پڑھایا، سکھایا اور اس قابل بنایا۔
کامیابیوں کا ادھورا پن:
آج جب میں ایک اچھے اور باوقار عہدے پر پہنچا ہوں، جب زمانے کی نظر میں مجھے مقام اور کامیابی ملی ہے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ زندگی کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ آج جب میں اس کامیابی کا جشن منا سکتا تھا، جب اپنی پہلی تنخواہ یا اپنی ترقی کا پروانہ ان کے قدموں میں رکھ سکتا تھا، تو میرے پاس میری کامیابی کو دیکھنے کے لیے میرے ماں باپ ہی موجود نہیں ہیں۔
ادھوری داد کا صدمہ:
دنیا مجھے سلام کرتی ہے، میری پوسٹ اور مقام کی تعریف کرتی ہے، لیکن دل تڑپ اٹھا کہ کاش آج میری ماں زندہ ہوتیں تو مجھے گلے سے لگا کر میری نظر اتارتیں، اور میرے والد صاحب فخر سے میری پیشانی چوم لیتے۔ ان کی داد، ان کی خوشی اور ان کی دعاؤں کے بغیر یہ بڑا عہدہ اور یہ مقام بھی اندر سے بالکل خالی اور ادھورا لگتا ہے۔
دنیا کی ہر نعمت متبادل رکھتی ہے، مگر ماں کے لمس، باپ کی شفقت اور ان کی بے غرض محبت کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ آج کا یہ اونچا مقام بھی ان کے قدموں کی خاک کے برابر نہیں ہے۔
تربیت اور دعاؤں کا سدا بہار سایہ
اگرچہ میرے والدین جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا وجود ان کی دی ہوئی خوبصورت تربیت، ان کے سکھائے ہوئے اصولوں اور ان کی پاکیزہ محبت کی صورت میں میرے اندر آج بھی سانس لیتا ہے۔ وہ ایسے سدا بہار شجر تھے، جن کی بوئی ہوئی محبت کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی دعاؤں کی خوشبو میری زندگی کے راستوں کو معطر کر رہی ہے اور مجھے ہر بلا سے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
ایک لامتناہی انتظار اور ابدی دعا
ماں باپ کی جدائی کا یہ سفر ایک ایسا انتظار ہے جو اب اس فانی دنیا میں کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ اب تو بس ان کی یادیں ہی دل کا سرمایہ ہیں اور ان کا نقشِ قدم زندگی کا رہنما۔ ان کی جدائی کے ان سالوں کا حاصل صرف اور صرف وہ مصلّیٰ ہے جہاں بیٹھ کر اب میں ان کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں۔ میری ربِ کریم سے عاجزانہ دعا ہے کہ:
یا الٰہی! میری پیاری ماں اور میرے محترم والد کو جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین باغات میں جگہ عطا فرما۔ ان کی قبروں کو نورِ الٰہی سے منور کر دے، انہیں ہر دکھ اور سختی سے محفوظ رکھ، اور مجھے ان کے لیے ایک بہترین صدقہ جاریہ بنا کر روزِ قیامت ان کے ساتھ اپنے سایہ رحمت میں دوبارہ اکٹھا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں