65

اپنے بچوں کو گھر سے دکان پر بھیجتے ہوئے درج ذیل ہدایات یاد کرائیں

جب چھوٹے بچے یا بچیاں اکیلے دکان پر سامان لینے جائیں، توانہیں درج ذیل باتیں لازمی سکھانی چاہئیں:
1. دکان پر کھڑے ہونے کی صحیح جگہ
کاؤنٹر کے باہر رہیں: بچوں کو واضح طور پر بتائیں کہ انہیں ہمیشہ دکان کے کاؤنٹر یا گلے کے باہر، پبلک جگہ پر کھڑے ہونا ہے۔
کبھی بھی دکان کے اندر، پردے کے پیچھے، یا کاؤنٹر پار کر کے ایسی جگہ نہیں جانا جہاں سے باہر کھڑے لوگ انہیں دیکھ نہ سکیں۔
فاصلہ رکھیں: دکاندار یا دوسرے گاہکوں سے ایک مناسب فاصلہ (کم از کم دو ہاتھ کی دوری) رکھ کر کھڑے ہوں۔
راستہ کھلا رکھیں: ہمیشہ ایسی جگہ کھڑے ہوں جہاں سے بھاگنے یا باہر نکلنے کا راستہ بالکل صاف ہو۔
2. بات چیت کا طریقہ اور لہجہ
مضبوط اور اونچی آواز:
بچوں کو سکھائیں کہ دکاندار سے بات کرتے ہوئے ڈرنے یا شرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی بات (سامان کا نام) بالکل صاف اور اتنی اونچی آواز میں کہیں کہ آس پاس کے لوگوں کو بھی سنائی دے۔
فضول باتوں سے گریز:
دکاندار کو صرف کام کی بات بتائیں، اپنے گھر کے حالات، امی ابو کہاں ہیں، یا گھر میں کون کون ہے، ایسی معلومات دکاندار یا کسی بھی اجنبی کو بالکل نہ دیں۔
3. “ناں” کہنے کی عادت
بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈالیں کہ اگر کوئی دکاندار بدتمیزی کرے، غصہ دکھائے،
سامان دینے میں جان بوجھ کر دیر کرے، یا دکان کے اندر بلائے، تو وہاں کھڑے رہنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ فوراً کہیں: “مجھے نہیں چاہیے” اور گھر آجائیں۔
چیزیں واپس کرنا:
اگر دکاندار خراب چیز دے یا پیسے پورے واپس نہ کرے، تو وہیں کھڑے ہو کر بحث کرنے کے بجائے چیز وہیں چھوڑیں اور گھر آ کر بڑوں کو بتائیں۔
4. جسمانی حفاظت اور “نو ٹچ” (No Touch) اصول
ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں: بچوں کو سختی سے سمجھائیں کہ دکاندار ہو یا کوئی گاہک، کسی کو بھی انہیں پیار سے یا کسی اور بہانے سے ہاتھ لگانے، ۔کندھے پر ہاتھ رکھنے، یا گال تھپتھپانے کی اجازت نہیں ہے۔
5-کوئی چیز مفت نہ لیں:
اگر دکاندار اپنی طرف سے کوئی ٹافی، چاکلیٹ یا آئس کریم مفت میں دے، تو وہ ہرگز نہ لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں