27

نظرِ بد: حقیقت، احتیاط اور توکل محمد یوسف بھٹی

ہمارے معاشرے میں نظرِ بد کا تذکرہ تو بہت ہوتا ہے، مگر اس حوالے سے دو انتہائیں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ ہر چھوٹی بڑی پریشانی کو نظرِ بد کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے، جبکہ دوسرا اسے محض وہم اور خیالی بات قرار دیتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھا جائے تو دونوں رویے درست نہیں۔ اسلام نے نظرِ بد کو ایک حقیقت قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کا اثر صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔

سورۂ یوسف کی آیت 67 میں حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “میرے بچو! ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔” مفسرین، خصوصاً مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے تیسیر القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اندیشہ تھا کہ ان کے خوبصورت، جوان اور باوقار بیٹوں کو لوگوں کی نظر نہ لگ جائے، اس لیے انہوں نے احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ لیکن اسی کے ساتھ فوراً یہ بھی فرمایا کہ “میں اللہ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا، حکم تو صرف اللہ ہی کا چلتا ہے، اسی پر میرا بھروسہ ہے۔” گویا اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تدبیر بھی اختیار کی جائے اور توکل بھی صرف اللہ تعالیٰ پر ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی نظرِ بد کی حقیقت کو واضح فرمایا: “نظر لگنا برحق ہے، اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جا سکتی تو نظر لے جاتی۔” اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نظرِ بد کا انکار درست نہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی دعا فرمایا کرتے تھے، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ نظرِ بد سے حفاظت کا بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج نظرِ بد کے نام پر غیر شرعی عملیات، جعلی تعویذ، دھاگے، ٹونے ٹوٹکے اور نام نہاد عاملوں کا سہارا لیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام نے ان چیزوں کی تعلیم نہیں دی۔ قرآن و سنت ہمیں بتاتے ہیں کہ صبح و شام کے مسنون اذکار، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت، بچوں پر مسنون دعائیں پڑھنا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا ہی مومن کا راستہ ہے۔

اگر ہم کسی کی نعمت، خوبصورتی یا کامیابی دیکھیں تو حسد یا بےاحتیاطی سے دیکھنے کے بجائے “ما شاء اللہ، لا قوۃ إلا باللہ” یا “بارک اللہ لک” کہنا چاہیے۔ یہ اسلامی تہذیب بھی ہے اور نظرِ بد سے بچاؤ کا بہترین اخلاقی طریقہ بھی۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کی نصیحت آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اسباب بھی اختیار کرتا ہے، احتیاط بھی کرتا ہے، مگر اس کا دل صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے اور یہی قرآن و سنت کی تعلیم ہے کہ حفاظت کے تمام ظاہری ذرائع اختیار کرنے کے باوجود یقین صرف اس ذات پر ہو جس کے ہاتھ میں پوری کائنات کا نظام ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ، سنت کے مطابق عمل اور کامل توکل کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں