پاکستان اور آزاد کشمیر لازم و ملزوم،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر نظرثانی ، آپریشنز روکے جائیں،
اسلام آباد(سٹی رپورٹر)کشمیر سالیڈیرٹی کونسل کے چیئرمین اور اوورسیز کشمیری رہنما جاوید راٹھور نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری کشیدہ صورتحال نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پاکستان کے قومی مفادات، عالمی تشخص اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے،پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان نفرت پیدا کرنے والی سوچ اور بیانیوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے، جاری آپریشنز روکے جائیں، انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے اور تمام تنازعات اور اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے،میڈیا، سیاسی قیادت اور تمام متعلقہ حلقوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی کے بجائے مفاہمت، قومی یکجہتی اور مسئلہ کشمیر کے وسیع تر تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید راٹھور نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، جس کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور مختلف علاقوں میں ہلاکتوں اور کشیدگی کے واقعات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر دنیا بھر میں مقیم کشمیری شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور بیرون ملک کشمیری برادری کے تحفظات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں اوورسیز کشمیری ہمیشہ بھارتی سفارتخانوں کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کرتے تھے، لیکن آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بعض مقامات پر پاکستانی سفارتخانوں کے سامنے بھی احتجاج دیکھنے میں آ رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔جاوید راٹھور نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں کے درمیان مذہبی، ثقافتی، معاشرتی اور خاندانی رشتے موجود ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان ہی مسئلہ کشمیر کے حل اور خطے کے امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت اٹھا رہا ہے، جو اس صورتحال کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا کریں۔اوورسیز کشمیری رہنما نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں اختلافات کا حل مذاکرات اور عوامی رائے کا احترام ہوتا ہے۔ اگر حکومت اور مختلف تنظیمیں اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہیں گی تو مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ نفرتیں جنم لیتی ہیں جن کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔جاوید راٹھور نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے، جاری آپریشنز روکے جائیں، انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے معاملات کو آزاد کشمیر کی منتخب حکومت کے ذریعے حل ہونا چاہیے اور وفاقی سطح پر ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو کشمیری عوام میں احساس محرومی پیدا کریں۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد کشمیر اور فیلڈ مارشل سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے فوری طور پر تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لائیں تاکہ مزید خون خرابے اور کشیدگی سے بچا جا سکے۔ایک سوال کے جواب میں جاوید راٹھور نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور دیگر معاملات پر مختلف آراء موجود ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ تمام مسائل کا حل صرف بات چیت اور مشاورت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان نفرت پیدا کرنے والی سوچ اور بیانیوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم کشمیری پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی اور جذباتی رشتے کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان اعتماد اور محبت کے رشتے مزید مضبوط ہوں۔جاوید راٹھور نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے بلکہ ایک کشمیری اور پاکستانی کی حیثیت سے یہ اپیل کر رہے ہیں کہ موجودہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جائے، تمام فریق تحمل، برداشت اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے ایسا حل تلاش کریں جو پاکستان، کشمیر اور خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں ہو۔انہوں نے میڈیا، سیاسی قیادت اور تمام متعلقہ حلقوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی کے بجائے مفاہمت، قومی یکجہتی اور مسئلہ کشمیر کے وسیع تر تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔
4










