اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے، تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف ٹیکس سلیبز میں کمی اور بعض شعبوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بجٹ کے مطابق قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے، وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے جبکہ مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت نے معاشی شرح نمو 4 فیصد، افراطِ زر 8.2 فیصد اور بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد رہنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔وزیر خزانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے کنٹینٹ کریئیٹرز اور انفلوئنسرز پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے، 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز پیش کی۔ دوسری جانب خواتین کے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔حکومت نے تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی فروخت اور خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی، آئی ٹی برآمدات پر ٹیکس رعایت میں 2029 تک توسیع اور برآمد کنندگان کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس کم کرنے کی تجویز دی ہے۔ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مقصد معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ بجٹ تجاویز پارلیمانی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوں گی۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ پنشنمیں 7فیصد اضافہ کے تجویز اور مزدور کی اجرت 40ہزار روپے مقرر کی گئی ہے
2










