5

تصادم کے سائے گہرے، آزاد کشمیر میں کشیدگی برقرار،اموات بڑھ گئیں


مظفرآباد، کوٹلی، نیلم، باغ، راولاکوٹ، بھمبر، میرپور ، ڈڈیال، ہجیرہ ، سماہنی، پلندری ( نمائندگان )آزاد حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال برقرار ، جبکہ ریاست بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی بدستور معطل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث مختلف شہروں میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے اور عوامی حلقوں میں بے چینی اور غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق کوٹلی کے نواحی علاقے کراس کے قریب مختلف علاقوں سے آنے والے مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں 8 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں ڈاکٹر احسن سلیم، مولوی محمد اختر، ایک خاتون ارسہ وکالت اور ایک شخص بھولا کے نام شامل بتائے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر چار افراد کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ذرائع کے مطابق کھوئی رٹہ، سہنسہ اور ڈڈیال سمیت مختلف علاقوں سے مظاہرین کے قافلے کوٹلی کی جانب روانہ ہیں، جس کے باعث شہر میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ آزاد حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض قائدین، جن میں شوکت نواز میر، عمر نزیر کشمیری، سردار امان اور مہران ایڈووکیٹ شامل ہیں، کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالات کی مزید خرابی سے بچنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں