آزاد جموں و کشمیر میں عوامی احتجاج، گلگت بلتستان میں آئینی حقوق اور قدرتی وسائل پر اختیار کے مطالبات، لداخ میں ریاستی حیثیت اور آئینی تحفظات کی تحریک، جموں کے مختلف علاقوں میں منصفانہ نمائندگی، متوازن ترقی اور علاقائی شناخت کے سوالات اور وادی کشمیر میں سیاسی حقوق، حقِ خود ارادیت، شناخت اور بنیادی شہری حقوق و آزادیوں سے متعلق دیرینہ کشمکش، بظاہر الگ الگ سیاسی مظاہر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ مگر اگر انہیں محض مقامی یا وقتی مسائل کے بجائے ایک وسیع تر تاریخی اور انسانی تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ ایک ہی بنیادی حقیقت کے مختلف اظہار معلوم ہوتے ہیں: ریاست جموں و کشمیر کا وہ نامکمل سیاسی تصفیہ، جو 1947ء سے آج تک جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی، معیشت اور انسانی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ریاست کے ہر حصے میں ابھرنے والی تحریکیں ایک ہی سیاسی مقصد رکھتی ہیں۔ ہر خطے کی اپنی تاریخ، سماجی ساخت اور سیاسی ترجیحات ہیں۔ اسی طرح ہر بڑے خطے کے اندر بھی تاریخی تجربات اور عوامی مطالبات میں نمایاں تنوع پایا جاتا ہے۔ جموں کے پیر پنچال اور چناب ویلی اور لداخ کے لیہ اور کرگل، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اس تمام تنوع کے باوجود ایک بنیادی حقیقت ان سب کو باہم مربوط کرتی ہے: ریاست جموں و کشمیر کی غیر متعین سیاسی حیثیت، جس نے گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے پورے خطے کی سیاسی، آئینی اور ادارہ جاتی تشکیل پر مسلسل اثر ڈالا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کو محض ایک سرحدی تنازع یا صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی اختلاف سمجھنا اب کافی نہیں۔وقت کے ساتھ یہ ایک ساختی تنازع کی صورت اختیار کر چکا ہے، یعنی ایسا طویل المدتی سیاسی تعطل جس کے اثرات سرحدوں اور سفارت کاری سے آگے بڑھ کر حکمرانی، ادارہ جاتی استحکام، عوامی اعتماد، سیاسی نمائندگی، انسانی سلامتی، معاشی ترقی اور روزمرہ زندگی تک پھیل چکے ہیں۔ یہ سطور اگرچہ کشمیری عوام کے حقوق اور سیاسی امنگوں سے گہری وابستگی رکھنے والے پسِ منظر سے لکھی جا رہی ہیں، تاہم ان کا مقصد کسی مخصوص سیاسی فارمولے کی وکالت نہیں، بلکہ یہ جائزہ لینا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی غیر متعین سیاسی حیثیت نے کس طرح مختلف علاقوں میں شناخت، نمائندگی اور انسانی سلامتی سے متعلق سوالات کو متاثر کیا ہے۔ ایک پائیدار حل وہی ہو سکتا ہے جو ریاست کے تمام حصوں اور تمام طبقات کے وقار، حقوق اور مستقبل کے تقاضوں کو یکساں اہمیت دے۔
اس تعطل کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخی جڑوں پر نظر ضروری ہے۔ ریاست جموں و کشمیر 1846ء کے معاہد امرتسر کے بعد وجود میں آئی۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے دوران مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کا اعلان ایسے وقت میں کیا جب ریاست کے مختلف حصوں میں ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف سیاسی تحریک جاری تھی اور بعض علاقوں میں مسلح مزاحمت بھی شروع ہو چکی تھی۔ اس فیصلے نے ایک گہرے سیاسی اور قانونی تنازع کو جنم دیا، کیونکہ ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی کی خواہشات، جغرافیائی حقائق اور تقسیمِ ہند کے بنیادی اصولوں کے تناظر میں اس پر ابتدا ہی سے شدید اختلاف رہا۔ بعد ازاں پہلی پاک–بھارت جنگ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں نے اس تنازع کو بین الاقوامی حیثیت دے دی، جن میں ریاست کے عوام کے مستقبل کے سیاسی تعین کے اصول کو تسلیم کیا گیا۔ تاہم یہ مسئلہ آج تک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔
بعد کی دہائیوں میں متعدد جنگیں، حقِ خودارادیت کی مختلف سیاسی تحریکیں، لائن آف کنٹرول کا قیام، جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں مختلف ادوار کے دوران آزادی اور حقِ خودارادیت سے وابستہ سیاسی و مسلح تحریکوں کا ظہور، 2000ء میں اُس وقت کی جموں و کشمیر ریاستی اسمبلی کی جانب سے قبل از 1953ء آئینی خودمختاری کی بحالی کے حق میں متفقہ قرارداد اور اگست 2019ء میں آرٹیکل 370 کی منسوخی جیسی آئینی تبدیلیاں رونما ہوئیں، مگر بنیادی سیاسی اختلاف برقرار رہا۔ پاکستان اور بھارت آج بھی اس تنازع کی نوعیت اور حل کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ اس تعطل کی سب سے بھاری قیمت ریاست کے مختلف حصوں میں بسنے والے لاکھوں شہریوں نے سیاسی غیر یقینی، انسانی مشکلات اور محدود سماجی و معاشی ترقی کی صورت میں ادا کی ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ کشمیر کئی دہائیوں سے بین الاقوامی سطح پر ایک تسلیم شدہ حل طلب تنازع رہا ہے اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادیں، حقِ خود ارادیت کا اصول اور بین الاقوامی انسانی قانون اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس کا پائیدار حل محض انتظامی اقدامات سے نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور جامع سیاسی تصفیے سے ممکن ہے۔
اسی پس منظر میں آج ریاست کے مختلف حصوں کے مطالبات کو دیکھیں تو اگرچہ لوگوں کی مذہبی وابستگیاں، نسلی شناختیں اور سیاسی ترجیحات مختلف ہیں، لیکن ایک بنیادی خواہش انہیں باہم جوڑتی ہے: طویل غیر یقینی کا خاتمہ اور ایسا مستقبل جو امن، وقار، انصاف اور استحکام پر مبنی ہو۔ بھارت کے زیرِ انتظام وادی کشمیر، پیر پنچال اور چناب ویلی میں عوامی حقوق، شناخت اور حقِ خود ارادیت سے وابستہ سیاسی و مسلح جدوجہد بنیادی موضوعات رہے ہیں؛ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سیاسی سرگرمیوں، اظہارِ رائے، میڈیا اور شہری آزادیوں
سے متعلق خدشات نے یہ حقیقت مزید نمایاں کی کہ وسیع عوامی اعتماد کے بغیر محض آئینی یا انتظامی اقدامات پائیدار استحکام پیدا نہیں کر سکتے۔جموں کے دیگر علاقوں میں ترجیحات نسبتاً مختلف رہی ہیں، جہاں منصفانہ نمائندگی، وسائل کی متوازن تقسیم اور علاقائی شناخت کے مطالبات نمایاں ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت منفرد ہے، کیونکہ یہ نہ پاکستان کے باقاعدہ آئینی صوبے ہیں، نہ مکمل خودمختار ریاستیں، اور نہ ہی قومی پارلیمان میں ان کی براہِ راست نمائندگی موجود ہے۔آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج نے مؤثر حکمرانی، احتساب اور بنیادی خدمات کے مسائل کو نمایاں کیا، جبکہ گلگت بلتستان میں آئینی حیثیت، قدرتی وسائل پر مقامی اختیار، زمین کے حقوق اور سی پیک کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم زیرِ بحث رہے ہیں۔ لداخ میں بھی لیہ اور کرگل کی ترجیحات یکساں نہیں؛ یونین ٹیریٹری بننے کے بعد منتخب اسمبلی، ریاستی حیثیت اور آئین کے شیڈول ششم کے تحت تحفظات کے مطالبات نمایاں ہوئے۔ ان سب کی نوعیت مختلف ہے، مگر یہ سب ایک ہی غیر متعین سیاسی حیثیت کے سائے میں تشکیل پاتے ہیں۔
ان سیاسی اور آئینی مباحث کے پیچھے لاکھوں انسانوں کی روزمرہ زندگی کی ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے، جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ لائن آف کنٹرول نے صرف جغرافیہ نہیں بلکہ رشتے بھی تقسیم کر رکھے ہیں۔ بے شمار خاندان سرحد کے دونوں جانب بٹ کر رہ گئے ہیں۔ ایک ماں برسوں سے اپنی بیٹی سے دور ہے، ایک بھائی اپنے بھائی سے جدا ہے اور بے شمار خاندان جدائی کے کرب کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ شادی، جنازے یا کسی عزیز کی بیماری جیسے عام انسانی مواقع بھی سفری دستاویزات، سکیورٹی کلیئرنس اور دیگر انتظامی رکاوٹوں کے باعث ایک کٹھن آزمائش بن جاتے ہیں۔
انسانی روابط کی بحالی کے لیے مختلف ادوار میں اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے، جن میں سری نگر–مظفرآباد بس سروس، پونچھ–راولاکوٹ رابطہ اور لائن آف کنٹرول کے آر پار محدود تجارت شامل تھے۔ ان اقدامات نے منقسم خاندانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی، مگر وقت کے ساتھ یہ روابط معطل یا محدود ہو گئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی فیصلوں کے اثرات بالآخر عام انسانوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں۔طویل تنازع کے اثرات صرف سیاسی اور آئینی مباحث تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام انسانوں کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ بعض علاقوں میں زمینوں اور جائیدادوں کی ضبطی یا نقصان نے خاندانوں کی رہائش، خوراک اور روزگار کے بنیادی ذرائع کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے زمین ملکیت سے بڑھ کر معاشی بقا کا ذریعہ ہوتی ہے، اس لیے اس سے محرومی گہرے انسانی اثرات پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح نقل و حرکت کی پابندیاں، سفری دستاویزات کے حصول میں مشکلات اور سکیورٹی کلیئرنس کی شرط نے تعلیم، روزگار اور معمولاتِ زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
ان روزمرہ مشکلات سے آگے، گزشتہ آٹھ دہائیوں میں اس تنازع نے ایک بہت بڑی انسانی قیمت وصول کی ہے۔ مختلف ادوار میں بے شمار انسانی زندگیاں ضائع ہوئیں، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور بے شمار لوگوں نے حراستوں، پابندیوں، خاندانوں کی جدائی اور طویل غیر یقینی کے اثرات برداشت کیے۔ ان تمام حالات کا سب سے گہرا اثر خواتین، بچوں اور نوجوانوں پر پڑا، جن کی زندگیوں پر اس تنازع کے معاشی، سماجی اور نفسیاتی اثرات نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ یہ حقیقت یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی طویل سیاسی تنازع کی اصل قیمت بالآخر عام انسان اور آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں۔یہ کہنا درست نہیں کہ ان تمام مسائل کی واحد وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ ریاست کے ہر حصے کے اپنے تاریخی، سماجی، معاشی اور انتظامی عوامل بھی موجود ہیں، جنہوں نے مقامی مسائل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آٹھ دہائیوں سے جاری غیر متعین سیاسی حیثیت نے ان عوامل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب کوئی بنیادی سیاسی اختلاف طویل عرصے تک حل طلب رہے تو وہ حکمرانی، عوامی اعتماد، سرمایہ کاری اور ترقی کے امکانات کو بھی متاثر کرتا ہے اور یوں سیاسی بے یقینی اور ادارہ جاتی کمزوریاں ایک دوسرے کو مزید گہرا کرتی چلی جاتی ہیں۔
یہ تنازع صرف ماضی کے نقصانات کا نام نہیں، بلکہ ہر گزرتے دن نئی سیاسی، معاشی اور انسانی قیمت بھی وصول کر رہا ہے۔ ریاست کا نامکمل سیاسی تصفیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ایک مستقل سبب رہا ہے، اور دونوں ممالک کی جوہری صلاحیت اس کشیدگی کو علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی تشویش کا موضوع بھی بنا دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دفاعی اخراجات میں اضافہ، محدود علاقائی تعاون اور کمزور اقتصادی روابط ایسے وسائل جذب کرتے رہے ہیں جو تعلیم، صحت، روزگار اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال ہو سکتے تھے۔ یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال، اپنی تمام خامیوں کے باوجود، کسی غیر یقینی سیاسی عمل سے زیادہ محفوظ ہے۔ ان کے نزدیک ایک حساس اور جوہری ماحول میں بڑی تبدیلی کی کوشش نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے، اس لیے موجودہ انتظام کو برقرار رکھنا زیادہ دانشمندانہ راستہ ہے۔ یہ مؤقف اپنی جگہ قابلِ غور ہے، لیکن اس میں ایک بنیادی مفروضہ پوشیدہ ہے: گویا تعطل ایک جامد کیفیت ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ غیر حل شدہ تنازعات وقت کے ساتھ خود بخود ختم نہیں ہوتے بلکہ خاموشی کے باوجود بداعتمادی کو گہرا کرتے، نئی نسلوں میں غیر یقینی کو منتقل کرتے اور ہر نئے بحران کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے محض موجودہ کیفیت کو برقرار رکھنا بذاتِ خود کوئی پائیدار حل نہیں، بلکہ ایک ایسے مسئلے کو طول دینا ہے جس کی انسانی، سیاسی اور معاشی قیمت ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ اس تناظر میں جمود کو مستقل حکمتِ عملی سمجھنا نہ پائیدار امن کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے، نہ انسانی وقار اور انصاف کے تقاضوں سے، اور نہ ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا استحکام کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
اگر کشمیر کو ایک ساختی تنازع کے طور پر دیکھا جائے تو امن کی تعریف بھی محض جنگ بندی یا سرحدی کشیدگی میں کمی تک محدود نہیں رہ سکتی۔ پائیدار امن صرف ریاستی سلامتی کا نہیں بلکہ انسانی سلامتی کا بھی تقاضا کرتا ہے، یعنی ایسا ماحول جہاں لوگ خوف، محرومی اور عدم تحفظ سے آزاد ہو کر باوقار زندگی گزار سکیں۔ اسی لیے دیرپا امن کی بنیاد صرف تشدد کے خاتمے پر نہیں بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی، مؤثر اور جواب دہ اداروں، انسانی حقوق اور بامعنی سیاسی شمولیت پر استوار ہوتی ہے۔
اس پیچیدہ تنازع کا نہ کوئی سادہ حل ہے اور نہ کوئی یک رخی راستہ۔ نہ بہتر حکمرانی کو منصفانہ سیاسی تصفیے کا متبادل سمجھا جا سکتا ہے اور نہ سیاسی تصفیے کے انتظار میں عوام کی روزمرہ ضروریات کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ایک طرف مسئلہ کے منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل کے لیے ایسی سنجیدہ کوششیں جاری رہنی چاہئیں جو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور
ریاست کے عوام کے وقار اور سیاسی خواہشات کا احترام کریں اور جن میں ان کی بامعنی شمولیت اور رضامندی مرکزی حیثیت رکھے؛ دوسری طرف، اسی انتظار میں عوام کو بہتر حکمرانی سے محروم نہیں رہنا چاہیے—قانون کی بالادستی، شفاف و جواب دہ ادارے، مؤثر عوامی خدمات، مقامی نمائندگی، معیاری تعلیم و صحت اور پائیدار معاشی ترقی کو فوری ترجیح ملنی چاہیے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ تکملہ ہیں؛ بہتر حکمرانی عوامی اعتماد کو مضبوط کرتی ہے اور بامعنی سیاسی عمل دیرپا استحکام کی بنیاد رکھتا ہے۔
کسی بھی دیرپا انتظام کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ ریاست کے مختلف حصوں کے لوگ محض موضوعِ بحث نہیں بلکہ بامعنی شراکت دار سمجھے جائیں۔ جامع سیاسی عمل کا مطلب کسی ایک مؤقف کی تائید نہیں، بلکہ ایسا شمولیتی مکالمہ ہے جس میں مختلف علاقے، سیاسی رجحانات، خواتین، نوجوان اور شہری نمائندے مؤثر شرکت کریں۔ اسی طرح اعتماد سازی کے اقدامات محض سفارتی سرگرمیاں نہیں بلکہ مستقبل کے مکالمے کی بنیاد ہیں: منقسم خاندانوں کے روابط میں آسانی، تعلیمی و ثقافتی تبادلے، ماحولیاتی و آبی تعاون، قدرتی آفات اور صحتِ عامہ میں اشتراک اور محدود سرحد پار تجارت ایسے عملی قدم ہیں جو اختلافات کو ختم کیے بغیر بھی تعاون کی گنجائش پیدا کرتے ہیں: جیسا کہ ماضی کے کراس ایل او سی روابط نے، اپنی محدود مدت کے باوجود، ثابت کیا۔
اگر یہ تنازع منصفانہ طور پر حل کی طرف بڑھے تو اس کے فوائد صرف کشیدگی کے خاتمے تک محدود نہیں رہیں گے۔ ریاست جموں و کشمیر اپنے محلِ وقوع کے باعث جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت اور تعاون کا مرکز بن سکتی ہے؛ تجارتی راہداریوں کی بحالی، آبی و توانائی وسائل میں اشتراک، سیاحت کا فروغ اور دفاعی وسائل کا رخ تعلیم و صحت کی طرف موڑنا مشترکہ خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ یوں امن صرف جنگ کی غیر موجودگی نہیں بلکہ ترقی اور باہمی نفع کا
ذریعہ بن جاتا ہے۔
بالآخر ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ محض سرحدوں یا جغرافیے کا تنازع نہیں بلکہ شناخت، نمائندگی، انصاف، انسانی وقار اور مستقبل کا سوال بھی ہے۔ وقت اس میں کوئی غیر جانب دار عنصر نہیں؛ ہر گزرتی دہائی اعتماد کو کمزور، اختلافات کو گہرا اور حل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، اور اس کی قیمت بالآخر عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ کوئی ایک اقدام،خواہ جنگ بندی ہو، آئینی تبدیلی، ترقیاتی منصوبہ یا سفارتی مذاکرات—اکیلا اس مسئلے کا مستقل حل نہیں؛ دیرپا استحکام اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی بصیرت، قانون کی حکمرانی، انسانی سلامتی، جامع سیاسی شرکت اور علاقائی تعاون ایک مربوط عمل کا حصہ بنیں۔ اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ بھارت اور پاکستان دوراندیشی اور بامعنی مکالمے کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کی طرف سنجیدہ پیش رفت کریں، اور ساتھ ہی اعتماد سازی، انسانی حقوق کے تحفظ، بہتر حکمرانی اور عوامی روابط کو ترجیح دیں،کیونکہ یہ سیاسی حل کا متبادل نہیں بلکہ اس کے لیے سازگار ماحول کی بنیاد ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک تدریجی راستہ ہے، مگر پیچیدہ اور دیرینہ تنازعات میں پائیدار امن عموماً اسی طرح، چھوٹے مگر مسلسل قدموں سے تعمیر ہوتا ہے۔
کشمیر کا نامکمل باب اسی وقت مکمل ہونے کی سمت بڑھے گا جب سری نگر، جموں، کرگل، لیہ، گلگت، اسکردو، مظفرآباد، میرپور اور پونچھ سمیت ہر خطے کے لوگ خود کو محفوظ، بااختیار اور اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید محسوس کریں۔ پائیدار امن کا اصل پیمانہ سرحدوں پر خاموشی نہیں، بلکہ وہ اعتماد، وقار اور تحفظ ہے جو لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کریں اور وہ دن، جب لائن آف کنٹرول کے آر پار بٹی ہوئی وہی ماں اپنی بیٹی کو بغیر کسی رکاوٹ کے دوبارہ گلے لگا سکے۔ اگر جنوبی ایشیا اس سمت میں بڑھ سکا تو کشمیر صرف ایک دیرینہ تنازع کی علامت نہیں رہے گا، بلکہ اس بات کی مثال بن سکتا ہے کہ پیچیدہ ترین تاریخی اختلافات بھی مکالمے، انصاف اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعاون کے ذریعے ایک زیادہ مستحکم اور پُرامن مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں












