ہٹیاں بالا( بیورورپورٹ )مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کو آٹے اور بجلی میں جو ریلیف ملا ہے وہ پاک فوج کی سفارش پر دیا گیا اور یہ سبسڈی جاری رہے گی۔ اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔انہوں نے یہ بات اپنے حلقہ انتخاب نین سکھ، فلاٹی، سردن، چکوٹی موڑ اور صادق کے مقام پر منعقدہ کارنر میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ایکشن کمیٹی نے کبھی 3 روپے فی یونٹ بجلی اور 1000 روپے من آٹے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہڑتال نہیں بلکہ بغاوت ہے۔ گالم گلوچ اور معاشی اقدار تباہ کی جا رہی ہیں۔ اگر یہ روش کامیاب ہو گئی تو کوئی شریف آدمی گھر سے باہر نہیں نکل سکے گا۔انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آٹے کی فراہمی یقینی نہیں بنا رہی جبکہ اپنی جماعت کے امیدواروں کو الیکشن لڑوانے کے لیے سرکاری خزانے سے فی کس 2 کروڑ روپے اور ترقیاتی پیکجز دینے کے لیے تمام وسائل موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کا یہ موقف کہ “ہماری حکومت کا موقف الگ اور جماعت کا الگ ہے” دوغلے پن کی بدترین مثال ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ایسا نظام آیا کہ 4 وزرائے اعظم بدل گئے۔ ہم چاہتے تو پانچواں بھی لا سکتے تھے لیکن ہم نے اصرار کیا کہ الیکشن بروقت ہوں۔ آزاد کشمیر کا سماجی ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب آٹا اور بجلی سستی ہوئی تھی تو اس وقت 3 افراد کیوں جان سے گئے۔ دونوں اطراف سے اب تک 2 درجن سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کا حساب کون دے گا۔راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے اندر ایک منظم سیاسی جماعت کی حکومت کی ضرورت ہے جو ٹھوس فیصلے کرے، عوام کے مسائل حل کرے اور طویل المدتی جامع پالیسی کے تحت نظام کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھائے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ایکشن کمیٹی کے ووٹ بھی مل جائیں اور کام بھی چل جائے۔ موجودہ حالات میں جتھوں کی سیاست کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ عوام کو بلیک میل کر کے مطالبات نہیں منوائے جا سکتے۔ حکومت پہلے ہی بہت رعایتیں دے چکی ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کو 5 کروڑ روپے دیے جائیں اور ساتھ لوگوں کو ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ انتخابات بروقت ہوں گے اور یہ الیکشن آزاد کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔پاک فوج سے اظہار یکجہتی راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ جس فوج کو کچھ لوگ برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ ہماری اپنی فوج ہے۔ اس فوج میں آزاد کشمیر کے 1 لاکھ سے زائد جوان اور اس سے زیادہ پنشنرز موجود ہیں۔ ہم آزاد فضاؤں میں جو سانس لے رہے ہیں وہ اسی فوج کی بدولت ہے۔ فوج کو برا بھلا کہنے والے کشمیریوں کے مخلص نہیں ہو سکتے۔سیکڑوں افراد کا مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان اس موقع پر مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سلاٹی سے چوہدری ندیم، چوہدری عارف اکرم، چوہدری شہزاد، چوہدری لیاقت، چوہدری امجد، چوہدری ساجد، چوہدری شفاعت، چوہدری اظہر، چوہدری وجاہت، چوہدری شفقت، قاضی نوید، قاضی مقبول، قاضی صغیر، الطاف اوان، اشتیاق اوان، اکرم اوان، قاضی نجیب اوان، قاضی طلحہ اوان، قاضی طیب اوان اور قاضی اظہر اوان شامل ہوئے۔ڈبنا تمرال سے چوہدری حسن محمد، چوہدری صابر، چوہدری آصف، چوہدری اکبر علی، چوہدری صداقت، محمد راقب، چوہدری زید، زیر الدین اور قادر دین شامل ہوئے۔ڈاریہ سے چوہدری سعید، چوہدری عبدالقیوم، چوہدری شیر، چوہدری میر حسین، چوہدری عبد اور چوہدری سلیمان نے شمولیت اختیار کی۔نین سو کی معروف شخصیت اور مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما محمد زمان عباسی نے اپنے پورے قبیلے کے ہمراہ مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے راجہ محمد فاروق حیدر کی حمایت کا اعلان کیا۔تقریب سے قاضی منیر اوان، محمد گل خان، قاضی شمیم، جویریہ حسن، خطیب اللہ خان، ممبر ضلع کونسل راجہ انور، راجہ منیب چکاروی، چوہدری عارف اکرم ایڈوکیٹ اور راجہ ساجد سعید نے بھی خطاب کیا۔
13











