آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کے نام سے چلنے والی تحریک اب آزاد کشمیر کے لوگوں کو بغاوت کی طرف اکسانے لگی ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔۔۔۔ریاست آزاد جموں و کشمیر کے عوام کئی بار پاکستان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر چکے ہیں اور وہ آج بھی نظریہ الحاق پاکستان پرقائم ہیں لیکن آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنیادی حقوق کی آڑ میں اپنی سمت کھوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔۔۔۔۔راولاکوٹ میں جاری دھرنے کے سٹیج سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کے جانب سے ریاست مخالف بیانیہ اور فوج میں موجود کشمیری باشندوں کو بغاوت پر اکسانے کی تقاریر سامنے آئیں جس کے باعث اس تحریک کو اب ریورس گیئر لگتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔۔ایک طرف کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اب بھی اپنے مطالبات منوانے پر بضد نظرآتی ہے تو دوسری جانب حکومت کی طرف سے بھی بار بار کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔۔۔۔کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بہت بڑی تحریک ایک بہت چھوٹے مقصد کیلئے استعمال ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔۔۔۔چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے اس وقت معاملہ مہاجرین مقیم جموں و کشمیر کی بارہ سیٹوں پر اٹکا ہوا ہے۔۔۔ مہاجرین کی بارہ سیٹیں ایک آئینی مسئلہ ہے جس کو صرف سیاسی طور پر اسمبلی کے ذریعے تمام سٹیک ہولڈرز کی موجودگی اور رضا مندی سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔یہ ایسے نہیں ہے کہ لوگ احتجاج کریں گے۔۔۔شٹر ڈائون ہوگا اور دوسرے دن وزیراعظم ہائوس سے نوٹیفکیشن جاری ہو جائے کہ سیٹیں ختم ہوگئی ہیں۔۔۔نہیں یہ اتنا سیدھا معاملہ نہیں ہے۔۔۔ایکشن کمیٹی والوں کاموقف ہے کہ مہاجرین کی بارہ سیٹیں ریاست کی عوام پر بوجھ ہیں اور یہ حکومت بنانے یا گرانے کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔۔۔۔یہ بات قابل بحث ہے۔۔۔لیکن اگر ہم مہاجرین کی بارہ نشستوں کا تاریخی پس منظر دیکھیں تو اس کی کشمیر کاز سے متعلق ایک تاریخی اہمیت رہی ہے۔۔۔۔۔1947 کے بعد سے آج تک مہاجرین کی نمائندگی مختلف ادوارکے سیاسی نظام کے مطابق رہی ہے۔۔۔انتظامی خرابی ہوسکتی ہے لیکن ان سیٹوں کو ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔۔۔کیا ان سیٹوں کے خاتمے سے ریاست کی عوام کو کوئی فائدہ ہوگا۔۔۔۔؟تو جواب ہے نہیں۔۔۔۔یا ان سیٹوں کے موجود رہنے سے ریاست کی عوام کو کوئی نقصان ہورہاہے؟۔۔۔تو اس کا بھی جواب ہے نہیں۔۔۔۔۔کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی والوں کو چاہیے کہ اگر وہ واقعی عوامی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں تو ان بارہ نشستوں سے نکل کر اس مطالبے کیساتھ احتجاج کریں کہ آئندہ آزاد کشمیر کے کسی الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔صاف شفاف انتخابات ہونگے اور جو جیتے گا اسی کی حکومت بنے گی۔۔۔۔۔کوئی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔۔۔۔۔آج اگر مہاجرین کی سیٹیں ختم کردی جائیں تو کیا کسی نے مہاجرین مقیم پاکستان سے پوچھا ہے کہ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ مہاجرین کی یہ بارہ سیٹیں ختم ہونی چاہیے کہ نہیں۔۔۔۔۔آج کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی بدولت یہ سیٹیں ختم کربھی دی جائیں تو کل کو مہاجرین مقیم پاکستان احتجاج شروع کر سکتے ہیں کہ ہماری شناخت پر ضرب کیوں لگائی گئی؟۔۔۔۔۔یہ معاملہ ریاست کے عوام میں مزید تفریق کا باعث بنے گا۔۔۔۔۔کئی اعلیٰ شخصیات سے ملاقات اور بار بار حکومتی موقف سننے کے بعد اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ ریاست پہلے کی طرح اس بار لچک دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے۔۔۔۔۔آج سے قبل جو احتجاج یورپ میں بھارتی سفارتخانوں کے باہر ہوا کرتے تھے وہ احتجاج اب پاکستانی سفارتخانوں کے باہر شروع ہو گئے ہیں۔۔۔اس سے بظاہر لگتا ہے کہ بھارت اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا جارہاہے۔۔۔۔۔۔اس وقت اس ساری صورتحال پر بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے معاملے کو مزید بدامنی کی طرف لیکر جانا چاہتاہے کیوں کے بھارت کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن ہو۔۔۔سوشل میڈیا پر بھارت جعلی اکائونٹس کے ذریعے پاکستانی اداروں کیخلاف زہر اگل رہاہے اور کئی مقامی لوگ بھی جانے ان جانے میں بھارت کی سہولتکاری میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔ چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کے حوالے سے وفاقی کی جانب سے بھی مختلف دعوے دیکھنے اورسننے کو ملتے رہے اور ایکشن کمیٹی والوں سے مزید وقت بھی مانگا گیا۔۔۔۔لیکن کالعدم ایکشن کمیٹی 9 جون کی کال پر ڈٹی رہ۔۔۔۔۔اس وقت آزاد کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے بلیک آئوٹ ہے اور انٹر نیٹ سروس کی بندش۔۔۔مارکیٹوں کی بندش ، آزاد کشمیر کے مختتلف علاقوں کو جانے والے ٹرانسپورٹ جزوی معطل ہونےسے شہریوں کو کافی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہاہے۔لیکن حکومت اور مظاہرین میں تاحال ڈیڈل لاک برقرار ہے۔۔۔کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے اپنی زد اور انا کو بالائے تاک رکھتے ہوئے مفاہمت کا راستہ اختیار کرے اور حکومت آزاد کشمیر بھی مزید لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کا حتمی حل نکالے۔۔۔۔
6











