اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)ادارہ فروغِ قومی زبان (حکومتِ پاکستان) اور گلوبل صوفی مشن کے زیرِ اہتمام ممتاز صوفی محقق، مصنف اور دانشور ڈاکٹر پیر ظہیر عباس قادری کے اعزاز میں ایک پروقار تقریبِ رونمائیِ کتب و اعزاز منعقد ہوئی۔ تقریب کی سرپرستی اسکالر آف صوفی اسٹڈیز صاحبزادہ محمد بابر رضا قادری نقشبندی (چیئرمین گلوبل صوفی مشن) نے کی، جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض گلوبل صوفی مشن کے پریزیڈنٹ قاری محمد ذیشان حیدر نے سرانجام دیے۔ تقریب کی صدارت آبشارِ علم و حکمت، پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد ظفر اقبال جلالی (پرنسپل و شیخ الحدیث جامعہ اسلام آباد اور خلیفۂ مجاز آستانۂ عالیہ بھکھی شریف) نے کی، جبکہ یہ علمی و ادبی نشست پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر (ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغِ قومی زبان) کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ظہیر عباس قادری (چیئرمین صوفی فکر انٹرنیشنل برطانیہ و پاکستان) کی تصنیف کردہ کتب “خیر و شر اور مسلم خاندانی نظام” اور “سیرت النبی ﷺ (انگلش)” کی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ تقریب میں علمی، ادبی اور دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات نے شرکت کی اور مصنف کی تحقیقی و فکری خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گلوبل صوفی مشن کے چیئرمین، صاحبزادہ محمد بابر رضا قادری نقشبندی نے ادارہ فروغِ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے اس پروقار نشست کا اہتمام ممکن ہوا۔ انہوں نے صدارت فرمانے پر پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد ظفر اقبال جلالی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ صاحبزادہ محمد بابر رضا قادری نے متعارف کروائی گئی کتب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ظہیر عباس قادری کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو سراہا اور انہیں بہترین الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ گلوبل صوفی مشن کے چیئرمین کی حیثیت سے بات کرتے ہوئے انہوں نے صوفیانہ فکر، انسانیت دوستی اور ‘احیاء صوفیاء” کے تاریخی و فکری تناظر پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قومی زبان اردو کی اہمیت و ترویج پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی زبان ہمارے تشخص کی علامت ہے۔ انہوں نے تقریب میں تشریف لانے والے تمام شرکاء اور مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے دوران نظامت
(کمپیئرنگ) کے فرائض گلوبل صوفی مشن کے صدر (پریزیڈنٹ) قاری محمد ذیشان حیدر نے انتہائی احسن اور پروقار انداز میں سرانجام دیے۔ انہوں نے اپنے مخصوص علمی و ادبی اسلوب میں اسٹیج سیکرٹری کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے معزز مہمانوں کو اظہارِ خیال کی دعوت دی اور حاضرین کو تقریب کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر گلوبل صوفی مشن قاری محمد ذیشان حیدر نے معزز مہمانِ گرامی ڈاکٹر ظہیر عباس قادری کی علمی و فکری خدمات کو سراہا اور تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی خوبصورت اور سحر انگیز نظامت نے محفل کے علمی ماحول کو آخر تک برقرار رکھا۔اس موقع پر ڈاکٹر ظہیر عباس قادری، چیئرمین صوفی فکر انٹرنیشنل برطانیہ و پاکستان، کی تصنیف کردہ کتب “خیر و شر اور مسلم خاندانی نظام” شانِ نُزول” اور “سیرت النبی ﷺ (انگلش)” کی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ تقریب میں علمی، ادبی اور دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی اور مصنف کی تحقیقی و فکری خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تلاوت قرآن حکیم کا شرف قاری محمد فاروق الازہری حاصل کیا۔ نعت شریف ذیشان علی بخاری اور علی رضا ارشد سہروردی نے پیش کی ۔ محققین پروفیسرز نے تینوں کتابوں پر مقالہ جات پڑھے۔ڈاکٹر عبدالباسط مجاہد نے “خیر و شر” ڈاکٹر کوثر عباس نے”سیرت النبی” جبکہ ڈاکٹر عطاء المصطفٰے نے “شانِ نُزول” پر اپنے مقالہ جات پیش کرکے مصنف کی علمی و تحقیقی کُتُب کو سراہا اور اہمیت اجاگر کی۔چیف ایڈیٹر و نامور کالم نگار ملک محبوب الرسول قادری،چیف آرگنائزر مشائخ و علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ سعید الرشید عباسی، مسلم ھینڈز انٹرنیشنل سے ڈاکٹر ریحان قادری،مرکزی فنانس سیکرٹری جمعیت علماء پاکستان طاہر تنولی،ضیاءالامت فاؤنڈیشن پاکستان کے کنٹری ھیڈ جعفر ماجد نے خطابات کئے اور مصنف کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد ظفر اقبال جلالی نے ڈاکٹر ظہیر عباس قادری کی علمی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے معاشرے میں دینی، فکری اور اخلاقی اقدار کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ علم و تحقیق کی حوصلہ افزائی معاشرے کی فکری تعمیر اور مثبت رہنمائی کے لیے ناگزیر ہے۔معروف سماجی شخصیت چوہدری مبشر انر پنڈی تکہ ہاؤس ،حافظ حسنین ساقی قاری محمد نبیل رضا قادری ،کاروباری شخصیت محسن ورک ،سماجی شخصیت چودھری بابر جمشید قادری ،صدر پاکستان سنی تحریک اسلام آباد اویس احمد رضا قادری ،قاری احمد رضا ضیائی ،قاری محمد ہارون الخیری ،قاری عمیر آصف، قاری وسیم عباس سمیت دیگر سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔ دعا میں بالخصوص خلیفہ دوم سیدنا فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یومِ شہادت کی مناسبت سے آپؓ کے درجاتِ رفعت و بلندی، امتِ مسلمہ کی فلاح و کامیابی، وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ شرکائے تقریب نے اس علمی و ادبی نشست کو تصوف، تحقیق اور فکری خدمات کے اعتراف کا ایک خوبصورت اور قابلِ قدر اظہار قرار دیا۔












