24

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے قابلِ تحسین اقدمات تحریر یاسر دانیال صابری

گلگت بلتستان اس وقت سیاسی، معاشی اور قدرتی مشکلات کے ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی اصل کامیابی اسی وقت تصور ہوگی جب عوام کو عملی ریلیف ملے، متاثرین کی بحالی یقینی بنائی جائے، بنیادی سہولیات بہتر ہوں اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی حکومتی نظام میں برابر کی اہمیت دی جائے۔ حالیہ دنوں میں گندم سبسڈی کے معاملے پر بھی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے وفاقی حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں عوامی مؤقف پیش کیا، جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے 1 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن سبسڈی والی گندم اور 22 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس فیصلے سے خطے کے عوام کو درپیش غذائی ضرورت اور گندم کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ حل ہوا ہے گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ امجد حسین کی جانب سے عوامی مسائل کے حل اور عام شہریوں تک براہِ راست رسائی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ خصوصاً معاشرے کے خصوصی افراد، ڈسیبل پرسنز اور دیگر محروم طبقات کے مسائل سننے کے لیے انہیں اپنے دفتر میں بلا کر براہِ راست ملاقات کرنا ایک مثبت اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔ خصوصی افراد کو درپیش مشکلات سننا، ان کی داد رسی کرنا اور متعلقہ اداروں کو مسائل کے حل کی ہدایت دینا ایک ایسا عمل ہے جسے مزید مؤثر اور مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ کی جانب سے عام شہریوں کے لیے اپنے دفتر کے دروازے کھلے رکھنا بھی عوامی رابطے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ اپنے مسائل اور شکایات لے کر براہِ راست وزیراعلیٰ تک پہنچ رہے ہیں۔ عوام اور حکمران کے درمیان براہِ راست رابطہ نہ صرف اعتماد کو مضبوط کرتا ہے بلکہ انتظامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔دوسری جانب گلگت بلتستان کو درپیش مالی مشکلات بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مختص بجٹ عوامی ضروریات اور خطے کے وسیع انتظامی و ترقیاتی تقاضوں کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث بجٹ کے معاملات میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور تاحال صوبائی بجٹ کی منظوری کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔ ایسے حالات میں وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے جائز مالی حقوق اور ضروریات کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں۔اسی طرح صوبائی کابینہ کی تشکیل اور تکمیل کا عمل بھی مرحلہ وار جاری ہے۔ مختلف انتظامی، سیاسی اور عوامی مسائل کے درمیان حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ حکومتی ترجیحات واضح ہوں اور عوامی مسائل کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر حل کرنے پر توجہ دی جائے.حالیہ سیلاب سے متاثرین کو سیف جگہ شفٹ کرنے کی بھی یقین دہانی کرایا ۔حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے گلگت بلتستان کے کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سڑکیں، پل، بجلی، پانی، زرعی زمینیں اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر متاثر ہوئے ہیں جبکہ متعدد خاندان مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایسے مشکل وقت میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے متاثرہ علاقوں اور عوامی مسائل پر توجہ دینا، متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو سیف جگہ منتقل،متعلقہ اداروں کو متحرک کرنا اور لوگوں کی شکایات سننا ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری امداد کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر حفاظتی اور بحالی کے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔گلگت بلتستان اس وقت سیاسی، معاشی اور قدرتی مشکلات کے ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی اصل کامیابی اسی وقت تصور ہوگی جب عوام کو عملی ریلیف ملے، متاثرین کی بحالی یقینی بنائی جائے، بنیادی سہولیات بہتر ہوں اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی حکومتی نظام میں برابر کی اہمیت دی جائے۔خصوصی افراد سے براہِ راست ملاقات ہو، عام شہریوں کے لیے دفتر کے دروازے کھلے رکھنا ہو، وفاق سے مالی وسائل کے حصول کی کوشش ہو یا سیلاب متاثرین کی داد رسی—اگر یہ اقدامات مستقل مزاجی، شفافیت اور عملی نتائج کے ساتھ جاری رہیں تو عوامی اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور ان کی پوری ٹیم کو عوام کی بہتر خدمت کرنے، مشکلات پر قابو پانے اور گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے مزید اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں