15

محکمۂ تعلیم کے ماتھے کا جھومر – ڈاکٹر محمد شفیق طاہر تحریر: رفیع صحرائی

کسی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، کشادہ سڑکیں، بڑے بڑے عہدے یا دولت کے انبار نہیں ہوتے۔ قوموں کی حقیقی شناخت وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے کردار، علم، دیانت اور خدمت سے دوسروں کے لیے مثال بن جائیں۔ ایسے لوگ خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کے نقوش دوسروں کے دلوں پر ثبت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد شفیق طاہر بھی ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے کردار اور کارکردگی سے محکمۂ تعلیم میں اپنی طویل پیشہ ورانہ زندگی کے دوران عہدوں سے زیادہ اپنے فرائض کو اہمیت دی اور منصب سے زیادہ خدمت کو اپنا شعار بنایا۔
1966ء میں جیٹھ پور گاؤں میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر محمد شفیق طاہر ابھی تیسری جماعت کے طالب علم تھے کہ ان کے والدین نے شہرِ اولیاء حجرہ شاہ مقیم کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہی شہر پھر ان کی تعلیم، تربیت اور عملی زندگی کا مرکز بن گیا۔ ان کے والد ایک محنتی انسان تھے اور بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا خواب دل میں لیے اوور ٹائم کام کیا کرتے تھے۔ اس اضافی محنت سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی اپنے ہونہار بیٹے کے تعلیمی اخراجات کے لیے الگ رکھتے۔ مگر وہ صرف اخراجات ہی پورے نہیں کرتے تھے، اپنے بیٹے کو زندگی کا سب سے قیمتی سبق بھی دیتے تھے:
’’بیٹا! ہمیشہ حلال رزق کمانا اور حلال کھانا۔‘‘
یہ مختصر سا جملہ شاید ایک باپ کی عام نصیحت تھی، مگر محمد شفیق طاہر نے اسے اپنی زندگی کا اصول بنا لیا۔ آگے چل کر زندگی کے ہر موڑ پر یہ مختصر سا جملہ ان کے لیے راہنما ستارا بنا۔
حجرہ شاہ مقیم، دیپال پور اور اوکاڑہ کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے لاہور سے بی ایڈ کیا اور 1993ء میں بطور ایس ایس ٹی اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔ 2008ء میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول منڈی احمد آباد میں تعینات ہوئے۔ علم کی پیاس مگر ملازمت کے حصول کے بعد بھی ختم نہ ہوئی۔ دورانِ ملازمت پنجاب یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور یوں خود کو اس حقیقت کا عملی نمونہ ثابت کیا کہ ایک اچھا استاد زندگی بھر سیکھتا رہتا ہے۔
بطور معلم ضلع اوکاڑہ میں انہوں نے ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ طلبہ کے ساتھ محبت، تدریس کے ساتھ وابستگی اور فرائض کی ادائیگی میں اخلاص نے انہیں محض ایک استاد نہیں رہنے دیا بلکہ ایک ایسی شخصیت بنا دیا جسے طلبہ اور عوام دونوں احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ استاد کو اگر اپنے شاگردوں کی محبت اور اعتماد حاصل ہوجائے تو اس سے بڑا اعزاز شاید کوئی نہیں۔
بعدازاں انہیں بطور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دیپال پور ذمہ داری سونپی گئی۔ یہاں ان کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک نیا باب سامنے آیا۔ انہوں نے افسر بن کر حکم چلانے کے بجائے رہنما بن کر مسائل حل کرنے کو ترجیح دی۔ اسکولوں کے دوروں کے دوران ان کا انداز کسی حاکم کا نہیں بلکہ ایک ایسے رہبر کا ہوتا جو اپنے ساتھیوں کی مشکلات سمجھتا اور انہیں حل کرنے میں ان کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ اس رویے نے اساتذہ کا اعتماد بحال کیا اور محکمۂ تعلیم کے ماحول میں ایک مثبت تبدیلی پیدا کی۔
ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اکثر آدھی آدھی رات تک دفتر میں بیٹھ کر سالوں سے زیرِ التوا معاملات نمٹاتے رہے۔ اساتذہ کے مسائل کو فائلوں کے ڈھیر میں گم ہونے نہیں دیا۔ ان کے نزدیک سرکاری ملازمت محض دفتر آنے، حاضری لگانے اور چھٹی کرنے کا نام نہیں تھی بلکہ یہ ایک قومی ذمہ داری تھی جسے پوری دیانت اور احساسِ فرض کے ساتھ ادا کرنا ضروری تھا۔
جب انہوں نے ڈپٹی ڈی ای او دیپال پور کی نشست چھوڑی تو ان کے لیے تحصیل بھر کے مختلف اسکولوں میں الوداعی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کسی سرکاری پروٹوکول کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی محبت کا اظہار تھا۔ کسی افسر کے لیے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے کہ اس کی رخصتی پر ماتحت نہیں، بلکہ پورا تعلیمی حلقہ اسے یاد کرے!
بعدازاں ڈاکٹر محمد شفیق طاہر نے بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لاہور بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔ لاہور جیسے بڑے اور پیچیدہ تعلیمی ضلع میں کام کرنا آسان نہیں، مگر انہوں نے اپنی قابلیت، تجربے، معاملہ فہمی اور محنت سے اس مشکل ذمہ داری کو بھی احسن انداز میں نبھایا۔ آج وہ گورنمنٹ ہائی اسکول کوٹ شوکت سلطان، حجرہ شاہ مقیم میں بطور سینئر ہیڈماسٹر فرائض انجام دے رہے ہیں اور ضلع بھر کے اساتذہ، طلبہ اور افسران کے لیے ایک آئیڈیل شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد شفیق طاہر کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ان کی دیانت داری ہے۔ بڑے عہدے، وسیع اختیارات اور مختلف مواقع انسان کا اصل امتحان ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر بہت سے لوگ اپنے اصولوں سے سمجھوتا کرلیتے ہیں، مگر ڈاکٹر صاحب نے اپنے والد کی نصیحت کو ہمیشہ دل سے لگائے رکھا۔
“بیٹا! ہمیشہ حلال رزق کمانا اور کھانا”
انہوں نے قناعت کو زندگی کا حصہ بنایا اور اپنی طویل سرکاری ملازمت کے دوران ناجائز ذریعۂ آمدن سے خود کو محفوظ رکھا۔
یہ معمولی بات نہیں کہ ایک سرکاری افسر کے طویل کیریئر میں اس پر رشوت یا بدعنوانی کا الزام نہ لگے۔ آج کے دور میں صاف دامن کے ساتھ ریٹائر ہونا یا طویل عرصہ منصب پر رہنا بلاشبہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ ڈاکٹر محمد شفیق طاہر کی اصل دولت شاید ان کی ڈاکٹریٹ، عہدے یا انتظامی تجربہ نہیں بلکہ ان کا بے داغ کردار ہے۔
قومیں ایسے ہی لوگوں سے بنتی ہیں۔ ایک باکردار استاد صرف کلاس روم نہیں سنوارتا، وہ نسلیں سنوارتا ہے۔ ایک دیانت دار افسر صرف فائلیں نہیں نمٹاتا، وہ اداروں میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور ایک مخلص انسان صرف اپنے فرائض ادا نہیں کرتا، وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
ڈاکٹر محمد شفیق طاہر بلاشبہ محکمۂ تعلیم کے ماتھے کا ایک ایسا جھومر ہیں جس کی چمک عہدے سے نہیں بلکہ کردار سے پیدا ہوئی ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ کامیابی صرف بلند منصب حاصل کرنے کا نام نہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان بلند منصب پر پہنچ کر بھی اپنے اصولوں سے بلند نہ ہو، بلکہ اپنے کردار کی بلندی کو برقرار رکھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر محمد شفیق طاہر کو صحت، سلامتی، عزت اور مزید توفیق عطا فرمائے، ان کے جذبۂ خدمت کو ہمیشہ جوان رکھے اور انہیں علم کے چراغ روشن کرنے، نئی نسلوں کی رہنمائی کرنے اور لوگوں کی راہوں سے کانٹے صاف کرنے کی توفیق دیتا رہے۔ بے شک ایسے لوگ کسی ایک ادارے کا نہیں، پورے معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں