17

الیکٹرک بسیں خوش آئندہ، مگر کیا جنوبی پنجاب کی تمام محرومیوں کا ازالہ صرف الیکٹرک بسیں ہیں

ارسلان ساحل سومرو (جرنلسٹ اسلام آباد)

پنجاب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی منصوبوں میں جنوبی پنجاب کو خصوصی اہمیت دی اور الیکٹرک بسوں کا آغاز سب سے پہلے جنوبی پنجاب سے کیا گیا جہاں 125 الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں اور اس وقت جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے 10 اضلاع میں یہ منصوبہ کامیابی سے جاری ہے، جبکہ مزید تحصیلوں تک بھی اس کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ دیگر منصوبوں سے بھی جنوبی پنجاب کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور اور اسلام آباد تک محدود رہنے کے بجائے جنوبی پنجاب کا دورہ کیا جائے تو وہاں ہونے والی ترقی واضح طور پر نظر آئے گی۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ترقیاتی منصوبوں میں جنوبی پنجاب کو خصوصی اہمیت دی ہے اور ان کی نظر میں پورا پنجاب یکساں حیثیت رکھتا ہے۔یہ سب منصوبے حکومت پنجاب کے قابلِ پیمائش ترقیاتی اقدام ہیں ۔ لیکن اگر جنوبی پنجاب کے عوام کہتے ہیں کہ مسئلہ صرف ٹرانسپورٹ نہیں بلکہ مجموعی علاقائی پسماندگی اور اختیارات کی تقسیم کا ہے، تو اس دلیل کو بھی کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
درحقیقت، کسی بھی خطے کی ترقی صرف ایک منصوبے سے نہیں ہوتی۔ ایک الیکٹرک بس شہری آمدورفت بہتر بنا سکتی ہے، لیکن وہ اسپتال میں ڈاکٹر کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔ وہ یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی کمی، صنعتوں کی عدم موجودگی، زرعی منڈیوں کے مسائل یا نوجوانوں کے روزگار کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی۔ سرائیکی وسیب تقریباً پنجاب کے نصف رقبے پر مشتمل ہے، جس کی آبادی دو کروڑ سے زائد ہے۔ اس خطے میں صحت، تعلیم، صنعت، آبپاشی، پینے کے صاف پانی، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں طویل عرصے سے نمایاں کمی محسوس کی جاتی رہی ہے۔ متعدد سرکاری رپورٹس، منصوبہ بندی کے دستاویزات اور معاشی تجزیے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہائیوں سے جنوبی پنجاب میں ترقیاتی سرمایہ کاری تاریخی طور پر وسطی پنجاب کے مقابلے میں کم رہی ہے۔
پنجاب کے موجودہ بجٹ پر بھی یہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مختلف بجٹ دستاویزات اور اسمبلی میں ہونے والی بحث کے مطابق لاہور شہر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 113 ارب روپےمختص کیے گئے، جبکہ جنوبی پنجاب کے 14 اضلاع کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 76 ارب روپےرکھے گئے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک شہر کو پورے سرائیکی وسیب پر ترجیح دینا علاقائی مساوات کے اصول سے مطابقت رکھتا ہے؟ تخت لاہور میں اربوں کے منصوبے مگر کیا کبھی سرائیکی وسیب کے محروم اضلاع کی بھی داد رسی ہو سکے گی، کیا صرف حکومت دعوے کرتی رہے گی یا کبھی عملی اقدمات بھی ہوں گے؟یہ ہی وہ خاموش سوال ہے جو کئی دہائیون بعد آج بھی جنوبی پنجاب کے عوام کے ذہنوں میں گونج رہا ہے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنوبی پنجاب میں کئی بڑے سرکاری اسپتال آج بھی ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، جدید مشینری اور ادویات کی کمی کا شکار ہیں۔ متعدد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتالوں میں مریضوں کو علاج کے لیے تخت لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے اداروں، تحقیقی مراکز اور صنعتی زونز کی تعداد بھی آبادی کے تناسب سے ناکافی سمجھی جاتی ہے۔ بے روزگاری کی بلند شرح نوجوانوں کو روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کرتی ہے۔
زرعی اعتبار سے بھی جنوبی پنجاب پاکستان کا اہم ترین خطہ ہے، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ نہری نظام کی بہتری، جدید آبپاشی، زرعی ویلیو ایڈیشن، فوڈ پروسیسنگ اور مقامی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی رفتار ابھی بھی عوامی توقعات سے کم دکھائی دیتی ہے۔ اگر کسان کے لیے منڈی، صنعت کار کے لیے صنعتی زون اور نوجوان کے لیے روزگار نہ ہو تو صرف سفری سہولت اس کی معاشی حالت تبدیل نہیں کر سکتی۔
اسی لیے جنوبی پنجاب کے عوام کا یہ مؤقف بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ ان کی محرومی صرف ٹرانسپورٹ کی نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، انتظامی اختیارات، صحت، تعلیم، صنعت اور روزگار کی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس خطے میں الگ صوبے یا کم از کم مؤثر انتظامی خودمختاری کا مطالبہ مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور کا حصہ رہا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعا ت عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی نظر میں پورا پنجاب یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن میں لاہور کے چند ماہ قبل کے بھاٹی گیٹ کے واقعے کی جانب روشنی ڈالنا چاہوں گا جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متعلقہ واقعے پر اجلاس میں جنوبی پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا “یہ راجن پور، لیہ یا بھکر کا کیس نہیں ہے، یہ لاہور کا واقعہ ہے، جو سیف سٹی ہے۔ اتنا بڑا واقعہ ہماری ناک کے نیچے ہو گیا۔ہر سطح پر مجرمانہ فعل ہوا ہے۔یہ قتل اور بھاٹی گیٹ کے واقعے میں کوئی فرق نہیں۔” وزیراعلیٰ صاحبہ کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر ایسا کوئی واقعہ جنوبی پنجاب کے کسی شہر میں ہو جاتا تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر لاہور میں ایک چھوٹا سا ٹریفک حادثہ بھی اخباروں کی زینت بن جاتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ وزیراعلیٰ مریم نواز اور صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کے بیان میں زمین آسمان کا تضاد ہے ۔ تو اس لحاظ سے کیسے کہا جا سکتا ہے کہ سرائیکی وسیب پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ لیکن اگر پھر بھی حکومت واقعی جنوبی پنجاب کو اپنی ترجیح قرار دیتی ہے تو اس کا بہترین ثبوت صرف الیکٹرک بسیں نہیں بلکہ بجٹ کی منصفانہ تقسیم، بڑے سرکاری اسپتالوں کا قیام، نئی جامعات، صنعتی زونز، جدید آبپاشی منصوبے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، مقامی حکومتوں کو اختیارات اور نوجوانوں کے لیے وسیع روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہونا چا ہیے اور یہ سب فقط حکومتی دعووں تک محدود نہیں بلکہ ایسے منصوبوں کے اعلان کے ساتھ ان پر عملی اقدمات ہر صورت یقینی بنایا جائے تو یہ بات قابل تحسین ہوگی کہ حکومت اقتدار واقعتاً جنوبی پنجاب کو یکساں اہمیت دیتی ہے ۔
الیکٹرک بسیں یقیناً ترقی کی علامت ہیں، لیکن ترقی صرف سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کا نام نہیں۔ اصل ترقی تب ہوگی جب جنوبی پنجاب کا نوجوان تعلیم اور روزگار کے لیے تخت لاہور یا دیگر بڑے شہروں میں ہجرت کرنے پر مجبور نہ ہو، جب مریض کو علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سفر نہ کرنا پڑے، جب کسان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت ملے اور جب ترقیاتی وسائل کی تقسیم آبادی اور ضرورت کے مطابق ہو۔
جنوبی پنجاب کو صرف جدید بسیں نہیں، بلکہ ایک جامع ترقیاتی ویژن، مساوی بجٹ، مضبوط ادارے اور پائیدار معاشی منصوبہ بندی درکار ہے۔ اگر حکومت اس سمت میں بھی اسی سنجیدگی سے پیش رفت کرے جس طرح اس نے الیکٹرک بسوں کا منصوبہ شروع کیا ہے، تو یقیناً یہ خطہ بھی ترقی کے قومی دھارے میں حقیقی معنوں میں شامل ہو سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں