کبھی تاریخ کے ماتھے پر ایسا سویرا طلوع ہوتا ہے جسے سورج کی روشنی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کبھی وقت کے سینے میں ایسا چراغ جلتا ہے جس کی لو صدیوں کے اندھیروں کو راستہ دکھاتی ہے۔ اور کبھی انسانیت کو ایسا رہبر عطا ہوتا ہے جس کی آمد صرف ایک قوم، ایک خطے یا ایک زمانے کا واقعہ نہیں رہتی، بلکہ وہ پوری انسانیت کے لیے رحمت کا عنوان بن جاتی ہے۔ربیع الاول اسی رحمت کی یاد کا موسم ہے۔
یہ وہ مہینہ ہے جس میں مکہ کی سنگلاخ وادیوں نے ایک ایسی ہستی کی آمد دیکھی جس نے پتھروں سے بھی زیادہ سخت دلوں کو محبت کا مفہوم سمجھایا، جس نے تلوار کے عہد میں اخلاق کو قوت بنایا، انتقام کے ماحول میں عفو کو عظمت دی، غلاموں کو انسان ہونے کا احساس دیا، یتیم کو معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ ذمہ داری قرار دیا اور عورت کو محض کسی کی ملکیت نہیں بلکہ عزت و حرمت کا حامل انسان بنایا۔
وہ ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔
قرآن نے آپ ﷺ کی ذات کو کسی ایک طبقے یا قوم تک محدود نہیں کیا بلکہ اعلان کیا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
یعنی آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
یہاں لفظ رحمت محض ایک جذباتی کیفیت نہیں؛ یہ ایک مکمل تہذیبی، اخلاقی اور انسانی فلسفہ ہے۔
میلاد النبی ﷺ کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ ہم صرف چراغاں نہ کریں، اپنے اندر چراغ روشن کریں۔
ہم گلیاں سجائیں، مگر دلوں میں نفرت کے جالے نہ رہنے دیں۔
ہم درود و سلام پڑھیں، مگر زبان کو غیبت سے بھی محفوظ کریں۔
ہم نعتیں پڑھیں، مگر کسی انسان کی عزت مجروح نہ کریں۔
ہم سیرت کے جلسے کریں، مگر اپنے معاملات میں دیانت کو جگہ دیں۔
ہم محبتِ رسول ﷺ کے دعوے کریں، مگر رسولِ رحمت ﷺ کی سنتِ اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بھی بنائیں۔
کیونکہ محبت صرف آنکھ کی نمی کا نام نہیں، محبت کردار کی تبدیلی کا نام ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے ہمیں بتایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو گرا دے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ آپ ﷺ نے فتح کے لمحے میں انتقام نہیں، معافی کا راستہ اختیار کیا۔ طائف کی سنگ باری کے جواب میں بددعا کے بجائے ہدایت کی امید رکھی۔ دشمنوں کے ساتھ بھی انسانی وقار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ آج کے انسان سے سوال کرتی ہے:
تم نے میرے نبی ﷺ سے محبت کا دعویٰ تو کیا، مگر کیا تم نے ان کی رحمت کو بھی اپنے کردار میں اتارا؟
آج دنیا علم کے بلند مینار تعمیر کر چکی ہے، مگر انسان کے اندر کا انسان کہیں کہیں ملبے تلے دبا ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے مٹا دیے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔ انسان چاند تک پہنچ گیا، مگر کبھی کبھی اپنے ہی ہمسائے کے دکھ تک نہیں پہنچ پاتا۔
ایسے میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھتی ہے جس میں تہذیب کا اصل چہرہ دکھائی دیتا ہے۔
وہ تہذیب جس میں بھوکے کا پیٹ بھرنا عبادت ہے۔
وہ معاشرہ جس میں یتیم کی آنکھ کا آنسو ریاست کی ذمہ داری ہے۔
وہ اخلاق جس میں پڑوسی کا سکون اپنی آسائش سے زیادہ اہم ہے۔
وہ انسانیت جس میں کمزور کی عزت طاقتور کے غرور سے محفوظ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مسجد بھی بنائی اور معاشرہ بھی۔ عبادت بھی سکھائی اور معاملات بھی۔ اللہ سے تعلق بھی مضبوط کیا اور انسان سے تعلق کا حق بھی ادا کرنا سکھایا۔
یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت کسی ایک دن کی تقریر نہیں؛ زندگی بھر کا دستور ہے۔
عید میلاد النبی ﷺ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہمارے گھروں کو صرف روشنیوں کی نہیں، سیرت کی روشنی کی ضرورت ہے۔ ہمارے بازاروں کو صرف رونق کی نہیں، دیانت کی ضرورت ہے۔ ہمارے اداروں کو صرف عمارتوں کی نہیں، امانت و انصاف کی ضرورت ہے۔ ہماری سیاست کو صرف نعروں کی نہیں، خدمت کی ضرورت ہے۔ ہماری گفتگو کو صرف بلند آہنگی کی نہیں، شائستگی کی ضرورت ہے۔
اگر میلاد کے بعد بھی ہمارے ہاتھ کسی کمزور کو دھکیلتے رہیں، زبان کسی کی عزت اچھالتی رہے، قلم جھوٹ لکھتا رہے، تاجر ناپ تول میں کمی کرتا رہے، صاحبِ اختیار ظلم کو نظرانداز کرتا رہے اور صاحبِ ثروت اپنے آس پاس کے بھوکوں سے بے خبر رہے تو ہمیں رک کر اپنے جشن کے مفہوم پر غور کرنا ہوگا۔
میلادِ مصطفیٰ ﷺ چراغ جلانے سے پہلے دل روشن کرنے کا نام ہے۔
ربیع الاول کا چاند ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ تاریخ میں ایک ایسی ہستی گزری ہے جس نے انسان کو اس کی اصل قدر سے روشناس کرایا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ نسب نہیں، تقویٰ انسان کی قدر ہے؛ دولت نہیں، کردار انسان کی پہچان ہے؛ اقتدار نہیں، خدمت انسان کی عظمت ہے۔
آج اگر ہم واقعی عاشقِ رسول ﷺ ہیں تو ہمیں اپنے عہد کے اندھیروں میں وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو ایک چراغ ادا کرتا ہے۔
جہاں نفرت ہو وہاں محبت بن جائیں۔
جہاں ظلم ہو وہاں انصاف کی آواز بن جائیں۔
جہاں بھوک ہو وہاں دسترخوان بن جائیں۔
جہاں مایوسی ہو وہاں امید بن جائیں۔
جہاں انسان انسان سے خوفزدہ ہو وہاں رحمت کا سایہ بن جائیں۔
کیونکہ حضور اکرم ﷺ کی آمد کا سب سے خوبصورت تعارف یہی ہے کہ آپ ﷺ رحمت بن کر آئے۔
آئیے اس عید میلاد النبی ﷺ پر ہم صرف یہ نہ کہیں کہ ہمیں اپنے نبی ﷺ سے محبت ہے؛ بلکہ اپنی زندگی کو اس محبت کی گواہی بنا دیں۔
ہمارا گھر کسی کے لیے سکون بن جائے۔
ہماری زبان کسی کے لیے تسلی بن جائے۔
ہمارا قلم حق کے لیے آواز بن جائے۔
ہمارا اختیار کمزور کے لیے تحفظ بن جائے۔
اور ہمارا وجود کسی انسان کے لیے رحمت بن جائے۔
تب شاید ہماری محفل کا چراغ آسمان تک نہ پہنچے، مگر اس کی روشنی کسی ٹوٹے ہوئے دل تک ضرور پہنچ جائے گی۔
اور یہی تو میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اصل چراغ ہے—
جو گلیوں سے پہلے دلوں میں جلتا ہے،
جو آنکھوں سے پہلے کردار میں چمکتا ہے،
اور جو ایک دن نہیں، پوری زندگی کو منور کرتا ہے۔
صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم۔
6











