قارئین کرام ۔ اس آفاقی حقیقت کا ادراک عصرِ حاضر کے عالمی اور پاکستان کے قومی منظرنامے پر نظر ڈالنے سے بالکل واضح ہوتا ہے جہاں اخلاقیات، سچائی اور انصاف کی حقیقی روشنی تو مفادات کے قید خانوں میں بند ہے، مگر اس کے برعکس جھوٹ، منافقت، فریب اور تماشوں کے سائے کھلے عام منڈیوں میں فروخت ہو رہے ہیں۔ اگر ہم موجودہ بین الاقوامی نظام کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک اور عالمی اداروں نے انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادیِ اظہارِ رائے جیسی روشن اقدار کو محض اپنی تجارتی اور سیاسی ضرورتوں کے لیے یرغمال بنا رکھا ہے۔ جہاں مظلوم اقوام کی چیخ و پکار پر مصلحتوں کے تالے پڑے ہیں، وہاں امن کے نام پر جنگی ہتھیاروں کی تجارت عروج پر ہے، یعنی امن کی حقیقی روشنی قید ہے اور جنگ و بارود کے ہولناک سائے پوری دنیا میں بیچے جا رہے ہیں۔ یہی روش گلوبل کیپیٹلزم (عالمی سرمایہ داری نظام) کی ہے جس نے مادی اشیاء کی چمک دمک کے پیچھے انسانی روح کے سکون کو قید کر دیا ہے اور انسان سچی خوشی سے محروم ہو کر برانڈز اور مصنوعی آسائشوں کے سایوں کو خریدنے میں اپنی زندگی صرف کر رہا ہے۔
پاکستان کے موجودہ سماجی، سیاسی اور اقتصادی حالات بھی اسی تلخ فلسفے کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ملک کا سیاسی نظام سچی جمہوری اقدار اور آئین کی بالادستی کی روشنی سے محروم ہے کیونکہ اقتدار کی ہوس اور مفادات کی جنگ نے عوامی فلاح کو پسِ پشت ڈال کر احتساب اور انصاف کے نظام کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ یہاں سچ بولنے والے، دیانتدار اور مخلص لوگ پسِ دیوار قید ہیں یا خاموش کر دیے گئے ہیں، جبکہ ٹی وی اسکرینوں، سوشل میڈیا کے فورمز اور سیاسی جلسوں میں جھوٹے دعووں، دلاسوں اور سستے بیانیوں کے سائے دھڑلے سے بیچے جا رہے ہیں جنہیں مایوس عوام حقیقت سمجھ کر خریدنے پر مجبور ہیں۔ ملکی معیشت کا حال یہ ہے کہ غریب کے چولہے کی روشنی مہنگائی، ٹیکسوں کے بوجھ اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے اندھیروں میں قید ہو چکی ہے، جبکہ اشرافیہ کے محلات میں مراعات اور سرمائے کے سائے رقص کر رہے ہیں۔ معاشرتی سطح پر اخلاقی انحطاط اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ علم، تحقیق اور حقیقی شعور کی شمعیں قید ہیں جبکہ ڈگریوں کی خرید و فروخت، سطحی شہرت اور سوشل میڈیا کے سنسنی خیز تماشوں کے سائے نوجوان نسل کو گمراہ کر کے فروخت کیے جا رہے ہیں۔ الغرض، عالمی سطح سے لے کر پاکستان کے گلی کوچوں تک، سچائی کی روشنی طاقت، سرمائے اور مصلحت کے قید خانے میں سسک رہی ہے اور سائے کی شکل میں موجود متبادل جھوٹ کا بازار ہر طرف گرم ہے۔
9











