10

روزانہ پٹرول کی قیمتیں: حکومتی دعوے، عوامی تحفظات تحریر: رفیع صحرائی

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہمیشہ عوامی بحث کا مرکز رہی ہیں۔ مہنگائی کی ایک بڑی وجہ یہی ایندھن ہے کیونکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ بھی ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش، زرعی لاگت، صنعتی پیداوار اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کی تجویز نے عوام، صنعت اور ماہرینِ معیشت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے شفافیت آئے گی، مسابقت بڑھے گی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ختم ہوگی اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی یا اضافہ اسی دن عوام تک منتقل ہو جائے گا۔ بلاشبہ اگر ایسا ہو جائے تو یہ پاکستان کے پٹرولیم شعبے میں ایک بڑی اصلاح ہوگی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے انتظامی ڈھانچے، مالیاتی پالیسیوں اور ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے عوام اس دعوے پر آسانی سے یقین کر سکتے ہیں؟
پاکستانی عوام کا تجربہ کچھ اور کہتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو چند گھنٹوں میں پاکستانی صارف بھی اس کا بوجھ اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن جب وہی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو ریلیف عوام تک پہنچنے میں ہفتے لگ جاتے ہیں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عالمی قیمتوں میں کمی سے پیدا ہونے والا ریلیف حکومت پٹرولیم لیوی یا دوسرے بالواسطہ ٹیکس بڑھا کر خود جذب کر لیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عالمی منڈی میں سستا ہونے والا تیل پاکستانی صارف کے لیے کبھی اتنا سستا نہیں ہوتا جتنا ہونا چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ آج عوام کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا روزانہ قیمتوں کے نظام میں عالمی منڈی میں ہونے والی کمی واقعی اسی دن عوام تک منتقل ہوگی؟ اگر ایسا ہوا تو یقیناً یہ ایک انقلابی قدم ہوگا، لیکن اگر ماضی کی طرح کسی نہ کسی عنوان سے لیوی یا دوسرے محصولات بڑھا کر ریلیف ختم کر دیا گیا تو پھر روزانہ قیمتوں کا نظام صرف ایک انتظامی تبدیلی بن کر رہ جائے گا، عوامی ریلیف نہیں۔
پٹرول پمپ مالکان کے تحفظات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ انہوں نے مجوزہ ہڑتال کا عندیہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک دن پہلے مہنگے داموں خریدا گیا پٹرول اگلے دن سستا ہو جائے تو نقصان کون برداشت کرے گا؟ لاکھوں روپے مالیت کا ذخیرہ چند گھنٹوں میں خسارے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قیمت بڑھنے کی صورت میں صارفین اور انتظامیہ کی جانب سے بھی مختلف قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت اگر واقعی اس نظام کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو اسے صنعت کے ان خدشات کا قابلِ عمل حل بھی دینا ہوگا۔
دوسری طرف حکومت کا مؤقف بھی اپنی جگہ وزن رکھتا ہے۔ اگر قیمتوں کا تعین اوگرا آزادانہ اور مکمل شفاف طریقے سے کرے، اگر ذخیرہ اندوزی پر سخت نگرانی ہو، اگر ریئل ٹائم ڈیٹا دستیاب ہو اور اگر سپلائی چین کو جدید خطوط پر استوار کر دیا جائے تو یقیناً مارکیٹ زیادہ منصفانہ ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سب کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں، مضبوط ادارے، غیر جانبدار نگرانی اور مسلسل احتساب بھی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم کا ایک اور بیان بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مقامی سطح پر تیل کے ذخائر تلاش کرے گا تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہو سکے۔ بظاہر یہ خوش آئند اعلان ہے کیونکہ توانائی میں خود کفالت ہر ملک کا خواب ہوتی ہے، لیکن اس اعلان نے کئی نئے سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا نہ ہوتی تو کیا حکومت مقامی تیل و گیس کی تلاش کو اسی تیزی سے آگے بڑھاتی؟ کیا پاکستان میں موجود ممکنہ ذخائر پہلے کسی کو معلوم نہیں تھے؟ اگر یہ ذخائر واقعی موجود ہیں تو گزشتہ کئی دہائیوں میں ان کی دریافت اور ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟ کیا یہ منصوبہ پہلے سے تیار تھا یا مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے حکومت کو اس کی طرف متوجہ کیا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ اگر حکومتی بیانات میں اس کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ متعلقہ حلقے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو عارضی نہیں بلکہ نسبتاً طویل بحران سمجھ رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر حکومت کو صرف تیل کی تلاش کا اعلان نہیں بلکہ توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی منصوبہ بھی عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو صرف درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ توانائی کی پوری حکمتِ عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ مقامی تیل و گیس کی تلاش، شمسی اور ہوائی توانائی میں سرمایہ کاری، جدید ریفائنریاں، ایندھن کی اسمگلنگ کا خاتمہ، ذخیرہ اندوزی کی سخت نگرانی، پٹرولیم لیوی کے نظام میں شفافیت اور عوام کو قیمتوں کا مکمل فارمولا فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت خود یہ تسلیم کرتی ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ غریب آدمی اٹھاتا ہے۔ اگر یہ اعتراف درست ہے تو پھر پٹرولیم لیوی کو سرکاری آمدنی کا سب سے آسان ذریعہ بنائے رکھنے کی پالیسی پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے۔ کیونکہ پٹرول پر عائد ہر اضافی روپیہ صرف گاڑی چلانے والے سے وصول نہیں ہوتا بلکہ وہ سبزی، دودھ، آٹے، ادویات، اسکول وین، بس کے کرائے اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت میں شامل ہو جاتا ہے۔
حکومت اگر واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے چند عملی اقدامات فوری طور پر کرنے چاہئیں۔ روزانہ عالمی قیمت، درآمدی لاگت، اوگرا کا حساب، پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکس عوام کے سامنے جاری کیے جائیں۔ یہ بھی بتایا جائے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی کمی کا کتنا حصہ صارف تک منتقل ہوا اور کتنا حکومتی محصولات کی نذر ہوگیا۔ اسی شفافیت سے اعتماد پیدا ہوگا، ورنہ ہر نئی پالیسی کو عوام ایک نئے بیانیے یا “لالی پاپ” سے زیادہ اہمیت نہیں دیں گے۔
اصلاحات کا اصل امتحان اعلانات سے نہیں بلکہ نتائج سے ہوتا ہے۔ اگر حکومت اس بار واقعی یہ ثابت کر دے کہ عالمی منڈی میں قیمت کم ہونے کا فائدہ بھی اسی رفتار سے پاکستانی عوام تک پہنچے گا جس رفتار سے اضافہ پہنچتا ہے، اگر لیوی کو عوامی ریلیف نگلنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، اگر اوگرا واقعی سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کرے گا اور اگر صنعت و صارف دونوں کے مفادات میں توازن قائم رکھا جائے گا تو یہ اصلاح ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر تاریخ نے خود کو دہرایا، اگر کمی کا فائدہ پھر بھی عوام تک نہ پہنچا، اگر ہر بار محصولات بڑھا کر ریلیف واپس لے لیا گیا اور اگر شفافیت صرف بیانات تک محدود رہی تو پھر عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ تبدیلی صرف نظام کی ہوئی ہے یا صرف الفاظ کی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں