49

راولاکوٹ محاذ آرائی یا مذاکرات؟ حمید علی

آزاد جموں و کشمیر اس وقت اپنی حالیہ تاریخ کے ایک نہایت حساس سیاسی اور آئینی بحران سے گزر رہا ہے۔ راولاکوٹ گزشتہ اٹھارہ روز سے احتجاج، دھرنوں اور کشیدہ حالات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ابتدا میں یہ احتجاج مہاجرین سیٹ کے معاملے اور دیگر عوامی مطالبات کے گرد گھومتا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے ایک وسیع سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر لی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہری اٹھا رہے ہیں، جن کا نہ سیاست سے کوئی براہِ راست تعلق ہے اور نہ ہی وہ اس محاذ آرائی کا حصہ ہیں۔

جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے اور احتجاج کو بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کی آواز سنے، ان کے تحفظات کو سمجھے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرے۔ دوسری جانب احتجاج کرنے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ عوامی مشکلات میں غیر ضروری اضافہ نہ ہونے دیں۔ بدقسمتی سے راولاکوٹ میں جاری بحران میں یہ توازن کہیں نظر نہیں آ رہا۔

مہاجرین سیٹ کا معاملہ کئی برسوں سے سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع رہا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس مسئلے سمیت دیگر عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، اسی لیے وہ مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حکومت اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان فاصلے کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے چلے گئے۔ نتیجتاً راولاکوٹ اور گردونواح میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کاروباری مراکز ویران ہیں، ٹرانسپورٹ کی روانی متاثر ہے، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد بے روزگاری کا شکار ہیں، اشیائے خور و نوش کی قلت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں اور مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ تمام مسائل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہر فریق عوامی مفاد کو اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر ترجیح دے۔

حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا، جبکہ اس کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امن و امان اور ریاستی نظم برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی اس فیصلے کو سیاسی آزادیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔ اسی دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے نمایاں رہنما شوکت میر کی گرفتاری نے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا، جس کے بعد احتجاج میں شدت دیکھنے میں آئی۔

سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ انتظامی اقدامات وقتی طور پر حالات کو قابو میں لانے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن دیرپا سیاسی مسائل کا حل صرف طاقت سے ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے معاملات میں اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ریاست اعتماد سازی، برداشت اور مکالمے کا راستہ اختیار کرے۔ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے اسے سیاسی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا ہی جمہوری نظام کی اصل روح ہے۔

اس بحران کا ایک اور اہم پہلو آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف آزاد کشمیر نے آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے انتخابی عمل سے الگ ہونے کا فیصلہ یقیناً سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ جمہوری نظام کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اختلافات کے باوجود تمام سیاسی قوتیں آئینی اور انتخابی عمل کا حصہ رہیں۔ اگر سیاسی قوتیں انتخابی میدان سے باہر نکلتی ہیں تو اس سے نہ صرف جمہوری عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی کمزور پڑتا ہے۔

یہ وقت الزام تراشی، انتقامی سیاست اور محاذ آرائی کا نہیں بلکہ سنجیدگی، برداشت اور سیاسی بصیرت کا ہے۔ حکومت کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ طاقت کے استعمال سے وقتی خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، مگر عوامی بے چینی ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں کو بھی یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے عوام کو مشکلات سے بچانا ضروری ہے۔ اگر ایک مریض بروقت ہسپتال نہ پہنچ سکے، ایک مزدور کئی دنوں تک روزگار سے محروم رہے یا ایک طالب علم کی تعلیم متاثر ہو تو اس کا نقصان پوری ریاست کو اٹھانا پڑتا ہے۔

آزاد کشمیر کی تاریخ میں متعدد سیاسی بحران آئے، مگر بالآخر ان کا حل مذاکرات ہی سے نکلا۔ موجودہ بحران بھی اس سے مختلف نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی ایکشن کمیٹی سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کی میز پر دعوت دے، مہاجرین سیٹ سمیت تمام متنازع امور پر کھلے دل سے بات کرے اور ایسا راستہ اختیار کرے جو آئین، قانون اور عوامی خواہشات کے مطابق ہو۔ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی چاہیے کہ وہ احتجاج کو مکمل طور پر پرامن رکھے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے عام شہری مزید مشکلات کا شکار ہوں۔

آج راولاکوٹ کے عوام کسی سیاسی فتح یا شکست کے خواہاں نہیں بلکہ وہ امن، استحکام اور معمولاتِ زندگی کی بحالی چاہتے ہیں۔ ریاست کا وقار بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی آواز سنے، جبکہ احتجاج کرنے والوں کی کامیابی بھی اسی میں ہے کہ وہ عوامی مفاد کو مقدم رکھیں۔ ضد اور ہٹ دھرمی کسی بھی بحران کا حل نہیں ہوتی۔ مسائل کا حل ہمیشہ افہام و تفہیم، برداشت اور “کچھ لو اور کچھ دو” کی سیاسی حکمتِ عملی سے ہی نکلتا ہے۔

اگر حکومت، اپوزیشن، عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر سیاسی قوتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف عوام کے مفاد کو سامنے رکھیں تو یقیناً موجودہ بحران ختم ہو سکتا ہے۔ راولاکوٹ کے عوام مزید کشیدگی نہیں بلکہ ایک باوقار، منصفانہ اور پائیدار حل کے منتظر ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی استحکام، جمہوری روایات اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں