آزاد کشمیر کے ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ، جو قانون ساز اسمبلی کے اہم انتخابی حلقہ ایل اے 14 باغ-1 (دھیرکوٹ) کا مرکز ہے، سیاسی اعتبار سے ہمیشہ ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ اس حلقے میں تیزیال راجپوت برادری ایک بڑی، بااثر اور تاریخی حیثیت رکھنے والی برادری کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اندازاً اس برادری کے 35 سے 40 ہزار ووٹ موجود ہیں، جو کسی بھی انتخابی حلقے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ اتنی بڑی سیاسی قوت اور عددی اکثریت رکھنے کے باوجود گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں میں یہ برادری اپنا کوئی ایسا متفقہ اور مضبوط سیاسی رہنما پیدا نہیں کر سکی جو ایل اے 14 باغ-1 (دھیرکوٹ) سے کامیابی حاصل کرکے برادری اور علاقے کی مؤثر نمائندگی کر سکتا۔
یہ امر اس لیے بھی زیادہ توجہ طلب ہے کہ ضلع باغ کے دیگر حلقوں میں ایسی برادریاں موجود ہیں جنہوں نے اپنی اجتماعی طاقت، سیاسی بصیرت اور اتحاد کی بدولت اپنے نمائندوں کو نہ صرف اسمبلی تک پہنچایا بلکہ خطے کی سیاست میں نمایاں مقام بھی دلایا۔ خصوصاً نار برادری اس کی ایک واضح مثال ہے، جس نے اپنی یکجہتی اور سیاسی شعور کے ذریعے متعدد مرتبہ اپنے نمائندوں کو کامیاب بنایا۔ ان میں راجہ محمد صبیل خان، راجہ کرنل نسیم خان اور عبدالرشید ترابی جیسی قد آور سیاسی شخصیات شامل ہیں، جنہوں نے اسمبلی میں پہنچ کر اپنے علاقوں اور عوام کی بھرپور نمائندگی کی اور اپنی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
اس کے برعکس، دھیرکوٹ میں تیزیال راجپوت برادری جو حلقہ ایل اے 14 باغ-1 (دھیرکوٹ) کی سب سے بڑی برادری سمجھی جاتی ہے، آج بھی اپنی عددی برتری کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجوہات میں باہمی اختلافات، گروہ بندی، ذاتی مفادات کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دینا اور ایک متفقہ قیادت پر اعتماد نہ کر پانا شامل ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم یا برادری صرف تعداد کی بنیاد پر ترقی نہیں کرتی بلکہ اتحاد، نظم و ضبط اور مشترکہ مقصد کے ذریعے کامیاب ہوتی ہے۔
آج اگر تیزیال راجپوت برادری سنجیدگی سے اپنے سیاسی مستقبل پر غور کرے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ برادری کے بااثر اور متحرک افراد، جن میں راجہ افتخار ایوب، راجہ سجاد ایڈووکیٹ، راجہ انصر شفیق، راجہ فیصل آزاد خان، راجہ خالد محمود، راجہ مبشر اعجاز، راجہ خاور قیوم، راجہ فہیم فاروق، راجہ افتخار افضل، راجہ وقار نزیر، راجہ آزاد خان، راجہ پرویز اشرف اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں، اگر ذاتی وابستگیوں اور اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک قابل، باصلاحیت اور متفقہ امیدوار پر اتفاق کر لیں تو یہ برادری اپنی سیاسی تاریخ کا نیا باب رقم کر سکتی ہے اور ایل اے 14 باغ-1 (دھیرکوٹ) کی سیاست میں ایک مؤثر قوت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
یہ تمام شخصیات اپنی اپنی جگہ سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ اگر ان کی صلاحیتوں، تجربات اور عوامی روابط کو برادری کے وسیع تر مفاد کے لیے یکجا کیا جائے تو تیزیال راجپوت برادری نہ صرف اپنے ووٹ بینک کو منظم کر سکتی ہے بلکہ ایک مضبوط سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے حلقے میں فیصلہ کن کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔
آزاد کشمیر کے طول و عرض میں راجپوت برادری نے بے شمار سیاسی رہنما پیدا کیے ہیں، جنہوں نے وزارتوں، اسمبلیوں اور اہم قومی ذمہ داریوں تک رسائی حاصل کی۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دھیرکوٹ جیسا بڑا حلقہ، جہاں تیزیال راجپوت برادری ایک مضبوط اکثریت رکھتی ہے، ابھی تک اپنی سیاسی طاقت کو مؤثر نمائندگی میں تبدیل نہیں کر سکا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں کا جائزہ لیا جائے، باہمی اعتماد کو فروغ دیا جائے اور برادری کے نوجوانوں اور اہل افراد کو آگے لانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ اگر آج بھی اتحاد اور اتفاق کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں بھی یہی سوال اٹھائیں گی کہ آخر اتنے بڑے ووٹ بینک کے باوجود تیزیال راجپوت برادری اپنا ایک مضبوط اور باوقار سیاسی قائد کیوں پیدا نہ کر سکی۔
یاد رکھنا چاہیے کہ بڑی تعداد ہونا طاقت ضرور ہے، مگر اس طاقت کو کامیابی میں بدلنے کے لیے اتحاد، اعتماد، قربانی اور اجتماعی سوچ ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر تیزیال راجپوت برادری اپنی اجتماعی قوت کو منظم کر لے تو حلقہ ایل اے 14 باغ-1 (دھیرکوٹ) میں اس کی سیاسی حیثیت مزید مستحکم ہو سکتی ہے اور وہ مستقبل میں اپنی حقیقی سیاسی طاقت کو مؤثر نمائندگی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔











