انسانی تہذیب آج تاریخ کے اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں ترقی، عروج، زوال، اور حیرت کے تمام پیمانے ٹوٹ چکے ہیں۔ اگر ہم تاریخی پس منظر پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کے دور سے لے کر ڈیجیٹل ایج تک انسان نے سفر تو طویل طے کیا ہے، مگر اس کی جبلت آج بھی اسی وحشت اور تضاد میں گرفتار ہے جس کا شکار وہ قبل از تاریخ کے غاروں میں تھا۔ معاشرتی سطح پر یہ دور اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جسمانی قربتیں بڑھنے کے باوجود قلبی فاصلے آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ گلوبلائزیشن کے دعوے کے تحت جب دنیا کو ایک عالمی گاؤں بنانے کے منصوبے پر عمل شروع کیا گیا تو ماہرین کو یہ امید تھی کہ ثقافتی تبادلہ رواداری کو فروغ دے گا، مگر اس کے برعکس دنیا ایسے تنگ نظر قبائلی حصاروں میں تقسیم ہو چکی ہے جہاں اختلافِ رائے کو جرمِ عظیم سمجھا جاتا ہے۔ قومی سطح پر ریاستوں کا کردار انتہائی عجیب اور مضحکہ خیز ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس گواہ ہیں کہ دنیا کی بڑی معیشتیں دفاع اور جنگی تیاریوں پر سالانہ اربوں ڈالر جھونک رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف کروڑوں انسان صاف پانی، بنیادی تعلیم اور دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جب بھی سلطنتیں اپنی عسکری قوت کے نشے میں چُور ہو کر اخلاقی زوال کا شکار ہوئیں، اور آج کی سپر پاورز کا رویہ بھی اس تاریخی حقیقت کی ہو بہو عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب جنگیں صرف بارود کے زور پر نہیں بلکہ معاشی پابندیوں، ڈیجیٹل پروپیگنڈا، اور مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ روایتی سفارت کاری اب قصہِ پارینہ بن چکی ہے اور دنیا کی تقدیر چند کارپوریٹ اداروں کے سربراہان کے ہاتھ میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ تاریخی دستاویزات اور معاشی شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بیسویں صدی کے وسط میں جو سرد جنگ دو بڑے بلاگز کے درمیان لڑی گئی تھی، اکیسویں صدی میں اس کا روپ بالکل بدل چکا ہے۔ اب یہ سرد جنگ خلاء کی تسخیر، مائیکرو چپس کی سپلائی چین، اور ریئر ارتھ میٹلز یعنی نایاب دھاتوں پر قبضے کی جنگ بن چکی ہے۔ اس کی زندہ مثال تائیوان کی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ہے، جو پوری دنیا کی ڈیجیٹل معیشت کا مرکز ہونے کے باوجود ایک ایسے جغرافیائی و سیاسی آتش فشاں پر بیٹھی ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ہر لمحہ لرزہ براندام رہتی ہیں۔ معاشرتی انحطاط کا عالم یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز نے جو دعویٰ کیا تھا کہ وہ دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے جمہوریت کو فروغ دیں گے، وہی آج انسانی نفسیات کو یرغمال بنانے اور جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ کیمبرج اینالیٹیکا جیسے سکینڈلز اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ کس طرح رائے عامہ کو ڈیجیٹل ڈیٹا کے ذریعے ہیک کیا گیا اور دنیا بھر کے انتخابات کے نتائج کو پسِ پردہ رہ کر تبدیل کیا گیا۔
اس تمام صورتحال کا سب سے حیرت انگیز اور تشویشناک پہلو انسانی رویوں کی وہ دوغلی کیفیت ہے جسے آج کے فلسفی ٹیکنالوجیکل سزاریزم کا نام دیتے ہیں۔ انسان نے فضا کو مسخر کر لیا، جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ڈی این اے کے کوڈز تبدیل کر کے خدا بننے کی ناکام کوششیں شروع کر دیں، اور مریخ پر انسانی آبادی بسانے کے لیے خلائی جہاز روانہ کر دیے، لیکن وہ زمین پر اپنے ہی ہمسائے کی بنیادی انسانی ضرورت اور نفسیاتی تنہائی کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہے۔ تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رومن سلطنت کے زوال کے وقت بھی اشرافیہ روٹی اور تماشوں کے کھیل میں مصروف تھی، اور آج کی گلوبل ایلیٹ بھی ٹک ٹاک اور ریلز کی اس نہ ختم ہونے والی دوڑ میں مبتلا ہے جہاں حقائق اور فکشن کے درمیان کی لکیر مکمل طور پر مٹ چکی ہے۔ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے ٹھوس سائنسی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، اور ساحلی شہر ڈوبنے کے دہانے پر ہیں، لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی فورمز پر صرف کاغذی قراردادیں پاس کی جاتی ہیں اور زمینی سطح پر مفادات کی جنگ جاری رہتی ہے۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا اور بھیانک تضاد ہے کہ ہمارے پاس مسئلے کے حل کے لیے علم، ٹیکنالوجی اور وسائل سب کچھ موجود ہے، لیکن سیاسی عزم اور اخلاقی جرات کا فقدان ہے۔
یہی وہ تاریخی اور معاشرتی المیہ ہے جو آج کی دنیا کو ایک انوکھا اور حیران کن تماشا بنا دیتا ہے۔ جب ہم ماضی کے کھنڈرات پر کھڑے ہو کر حال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انسان نے کائنات کے مخفی رازوں کو تو پا لیا ہے لیکن وہ اپنے اندر کی تاریکی کو روشن کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے انبار، جراثیمی لیبارٹریز، اور مصنوعی ذہانت کی لامحدود طاقت نے کرہ ارض کو ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری صدیوں کی تہذیبی کمائی کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔ بین الاقوامی معیشت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا کی دولت کا نوے فیصد حصہ محض ایک فیصد لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو چکا ہے، جو کہ ایک گہرے معاشرتی زوال کی علامت ہے۔ سائنس نے انسان کو خدا کے مرتبے پر فائز کرنے کی جو دوڑ شروع کی ہے، اس نے دراصل انسان کو خود اپنا سب سے بڑا دشمن بنا دیا ہے۔ آج کا انسان یہ بھول چکا ہے کہ اس کی مادی ترقی اس کی روحانی اور اخلاقی پستی کا پردہ نہیں بن سکتی۔ یہ دنیا، جو بظاہر روشنیوں میں نہائی ہوئی، تیز رفتار اور پرسکون دکھائی دیتی ہے، دراصل تاریخ کے سب سے بڑے فکری اور اخلاقی بحران سے گزر رہی ہے۔ اس تمام منظر نامے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اگر انسانیت نے وقت رہتے اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں عدل، توازن اور انسانیت پسندی کو واپس نہ ڈالا، تو آنے والی تاریخ اس عہدِ رواں کو انسان کی خود ساختہ ہلاکت اور غفلت کی سب سے عبرت ناک داستان کے طور پر یاد رکھے گی، جہاں کائنات کی سب سے ذہین مخلوق نے اپنی ہی اندھی ہوس کے ہاتھوں اپنی ہی تاریخ کا یہ انوکھا اور بھیانک خاتمہ رقم کیا۔
18











