کوئٹہ بلوچستان اسمبلی کا صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نو شیروانی نے 1089 بلین روپے کا بجٹ پیش کردیا۔ ایوان میں بجٹ پیش کرتے ہوئے میر شعیب نوشیروانی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں مختص کردہ بجٹ کا 115 فیصد استعمال کیا، رواں مالیاتی سال کے دوران 2966 جاری اور نئی ترقیاتی سکیمیں اس سال کے آخر تک مکمل ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے کل اخراجات کا تخمینہ 1089 بلین روپے ہے، رواں مالی سال کی کل آمدن 886 بلین روپے رہی، غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 797 بلین روپے ہے، مجموعی صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حجم 206 بلین روپے ہے۔وزیرخزانہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ نئی سکیموں کے لئے 106 جبکہ جاری سکیموں کے لیے 100 بلین روپے رکھے گئے ہیں، فیڈرل ڈویلپمنٹ گرانٹس کی مد میں 45 بلین روپے اور فارن پروجیکٹس اسسٹنس کی مد میں 40 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ ہمارے صوبے کا بجٹ سرپلس میں ہے، صوبائی آمدنی میں بھی بہتری لائی جارہی ہے، صوبائی آمدنی کو 170 بلین روپے تک پہنچایا جائے گا، وفاق کے تعاون سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ڈیمز کی تعمیر جاری ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان پہلی مرتبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بولان انشورنس کمپنی لمیٹڈ قائم کرچکی ہے، انشورنس کے ذریعے سرکاری املاک، حادثات، قدرتی آفات،صحت اور دیگر منصوبوں کو انشور کیا جائے گا۔وزیرخزانہ بلوچستان نے کہا کہ زرعی شعبے کی بہتری اور سستی توانائی کی فراہمی کے لئے ٹیوب ویلز کی سولر ائزیشن کے لئے 3.8 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔میر شعیب نوشیروانی کا کہنا تھا کہ بینک آف بلوچستان کے قیام کے لئے 10 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں، بلوچستان ایویشن کمپنی کے لئے 3 بلین روپے رکھے گئے ہیں، ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کے ماسٹر پلان کے لئے 3 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ معدنی وسائل کے فروغ اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لئے 490 میلن روپے مختص کئے گئے ہیں، ثقافت اور آثار قدیمہ کے فروغ کے لئے 85 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال 2026-27 میں نوجوانوں کے لئے 5000 نئی آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں، ان آسامیوں میں 3000 اسکول ایجوکیشن،500 محکمہ صحت،1000 آسامیاں نئے اضلاع اور 500 آسامیاں مختلف محکموں کی ہیں۔میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ مالی سال 2026-27 میں محکمہ صحت کے لئے 6 بلین روپے رکھے گئے ہیں، صحت کے شعبے میں غیر ترقیاتی بجٹ بغیر اثاثہ جات کے لئے 90 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں
8











