35

اسکول کے اوقات میں اضافہ: فائدہ یا بوجھ؟ ممتاز سندھی

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی ضمانت ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام باشعور، ذمہ دار اور باصلاحیت نسل تیار کرتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور تدریس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ تاہم، کسی بھی تعلیمی پالیسی میں تبدیلی لانے سے پہلے اس کے عملی اثرات، زمینی حقائق اور طلبہ و اساتذہ کی ضروریات کو مدنظر رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے پرائمری اسکولوں سے کالجوں تک تعلیمی اداروں کے اوقات صبح 8:30 بجے سے دوپہر 2:30 بجے تک مقرر کرنے کے فیصلے کے حوالے سے بھی کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

بلاشبہ، تعلیمی اداروں میں وقت کی پابندی اہم ہے، لیکن صرف اسکول کے اوقات بڑھانے سے تعلیمی معیار بہتر ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔ اس فیصلے کا اثر صرف اسکولوں اور کالجوں تک محدود نہیں بلکہ یہ لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور والدین کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست وابستہ ہے۔ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے حالات یکساں نہیں ہیں۔ کچھ طلبہ اور اساتذہ اپنے گھروں کے قریب واقع اداروں میں جاتے ہیں، جبکہ بہت سے افراد کو روزانہ کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں دوپہر 2:30 بجے چھٹی ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گھر واپس پہنچنے میں اضافی وقت صرف ہو۔

بڑے شہروں میں ٹریفک کا ازدحام صورتحال کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اگر کسی طالب علم یا استاد کو گھر پہنچنے میں ایک سے دو گھنٹے لگ جائیں تو صبح سے شروع ہونے والا تعلیمی معمول تقریباً پورا دن لے سکتا ہے۔ گھر واپس پہنچنے کے بعد طلبہ کو کھانا کھانے، آرام کرنے، ہوم ورک مکمل کرنے اور کئی صورتوں میں ٹیوشن یا دینی تعلیم کے لیے بھی وقت نکالنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ کھیل، مطالعہ، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور مناسب آرام بھی ضروری ہے۔ اگر یہ توازن متاثر ہو تو بچے کی مجموعی صحت اور تعلیم میں دلچسپی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

بچوں کے لیے بہتر تعلیم کا انحصار صرف کلاس روم میں زیادہ وقت گزارنے پر نہیں ہوتا۔ مناسب نیند، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون بھی سیکھنے کے عمل کے اہم حصے ہیں۔ مسلسل کئی گھنٹوں تک تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رہنے اور اس کے بعد طویل سفر سے طلبہ جسمانی تھکن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تھکن براہِ راست طلبہ کی توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ اگر بچوں کو روزانہ اسی معمول کا سامنا کرنا پڑے تو رفتہ رفتہ ان میں بے زاری، چڑچڑاپن اور تعلیم سے دلچسپی کم ہونے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔

طلبہ کی غذائیت کا مسئلہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر خاندان کے معاشی اور گھریلو حالات یکساں نہیں ہوتے۔ بہت سے بچے مناسب ناشتہ کیے بغیر اسکول پہنچتے ہیں، جبکہ بعض والدین کے لیے روزانہ لنچ باکس تیار کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر ان خاندانوں میں جہاں دونوں والدین ملازمت کرتے ہیں، یہ ایک اضافی ذمہ داری بن سکتی ہے۔ اگر اسکول کے اوقات بڑھائے جائیں اور مناسب خوراک اور صاف پینے کے پانی کی سہولیات موجود نہ ہوں تو اس کا اثر طلبہ کی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی کارکردگی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اس صورتحال میں خواتین اساتذہ کے مسئلے پر بھی خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ سندھ کے اسکولوں اور کالجوں میں بڑی تعداد میں خواتین تدریسی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سی خواتین اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں بھی نبھاتی ہیں۔ اگر کوئی خاتون استاد دوپہر 2:30 بجے ادارے سے نکلے اور گھر پہنچنے میں ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ لگ جائے تو وہ شام کے وقت گھر پہنچے گی۔ اس کے بعد اسے کھانا تیار کرنے، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر گھریلو ذمہ داریاں بھی انجام دینا ہوتی ہیں۔ یہ صورتحال اضافی ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ تعلیمی پالیسیاں بناتے وقت ان زمینی حقائق کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔

مرد اساتذہ کی بھی مختلف خاندانی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ بہت سے اساتذہ کو اپنے بچوں کو اسکول سے واپس لانا، گھریلو معاملات سنبھالنا یا روزانہ طویل سفر کرکے اپنے ادارے تک پہنچنا پڑتا ہے۔ کام کے اوقات بڑھانے سے آرام اور خاندانی زندگی کے لیے دستیاب وقت کم ہو سکتا ہے۔ استاد کی جسمانی اور ذہنی کیفیت بھی اس کی تدریسی کارکردگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس لیے صرف اساتذہ کو زیادہ دیر تک اداروں میں بٹھانے کے بجائے اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ دستیاب وقت میں وہ زیادہ مؤثر تدریس کیسے کر سکتے ہیں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اسکول میں زیادہ وقت گزارنا لازمی طور پر بہتر تعلیم کا سبب بنتا ہے؟ تعلیمی معیار کا انحصار صرف کام کے اوقات بڑھانے پر نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق تدریس کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، کلاس روم کے ماحول، طلبہ کی دلچسپی، تعلیمی سہولیات اور مجموعی انتظامی نظام سے بھی ہے۔ اگر اضافی وقت بامقصد تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے صرف روایتی یا غیر ضروری سرگرمیوں میں گزر جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

سندھ حکومت کو تعلیمی اوقات کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے بنیادی مسائل بھی حل کرنے چاہئیں۔ سندھ کے بہت سے تعلیمی ادارے اب بھی صاف پینے کے پانی، مناسب واش رومز، بجلی، فرنیچر، لائبریریوں، سائنس لیبارٹریوں اور جدید تدریسی وسائل سے محروم ہیں۔ اگر ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر اسکول کے اوقات بڑھائے جائیں تو تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری لانا مشکل ہوگا۔

اسی طرح تعلیمی پالیسیاں بناتے وقت سندھ کے مختلف علاقوں کے حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ دور دراز علاقوں میں محدود ٹرانسپورٹ کی سہولیات، بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ، سخت موسمی حالات اور گھروں سے تعلیمی اداروں کا فاصلہ مختلف نوعیت کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے پورے صوبے پر یکساں طریقہ کار نافذ کرنے کے بجائے ایسا نظام زیادہ عملی اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جو مقامی حالات کو بھی مدنظر رکھے۔

اگر حکومت تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے تعلیمی اوقات میں اضافے کو ضروری سمجھتی ہے تو اس کے اثرات کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اساتذہ، طلبہ، والدین اور تعلیمی ماہرین سے مشاورت کے ذریعے نئے اوقات کے حقیقی فوائد اور مشکلات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی پالیسی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب اسے زمینی حقائق اور تمام متعلقہ فریقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا جائے۔

آخرکار، تعلیم کا مقصد بچوں کو صرف زیادہ وقت اسکول میں رکھنا نہیں بلکہ انہیں بہتر انسان، ذمہ دار شہری اور باصلاحیت فرد بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک متوازن تعلیمی نظام ضروری ہے؛ ایسا نظام جس میں تدریس کا معیار بلند ہو، طلبہ کو سیکھنے کے لیے سازگار ماحول ملے، اساتذہ ذہنی سکون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور والدین کے لیے بھی یہ نظام عملی اور قابلِ انتظام ہو۔

سندھ کے تعلیمی مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے صرف گھڑی کی سوئیوں کو دیکھ کر نہ کیے جائیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اضافی اوقات کے دوران بچے کیا سیکھ رہے ہیں، ان کی صحت پر کیا اثر پڑ رہا ہے اور گھر واپس پہنچنے کے بعد آرام، مطالعے اور خاندانی زندگی کے لیے کتنا وقت باقی رہ جاتا ہے۔ تعلیمی کامیابی صرف زیادہ اوقات سے حاصل نہیں ہوتی؛ یہ بہتر وقت کے مؤثر استعمال اور بہتر تدریس سے حاصل ہوتی ہے۔

ممتاز سندھی
لیکچرار، میرپورخاص کالج | تعلیمی محقق | کالم نگار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں