پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر سیاسی شطرنج کی بساط بچھ چکی ہے۔ انتخابات قریب آتے ہی سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی، نئی صف بندی اور طاقت کے نئے مراکز کا ابھرنا ملکی سیاست کا مستقل حصہ رہا ہے۔ آج ایک مرتبہ پھر یہی منظر دکھائی دے رہا ہے، مگر اس بار سیاسی توجہ کا مرکز استحکام پاکستان پارٹی بنتی جا رہی ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں میں گلگت بلتستان سے شروع ہونے والی سیاسی شمولیتوں کا سلسلہ اب آزاد کشمیر کے انتخابات تک پہنچ چکا ہے۔ مختلف حلقوں میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سابق امیدوار اور بااثر سیاسی رہنما استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ رفتار سیاسی حلقوں کے لیے حیران کن بھی ہے اور قابلِ غور بھی۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا یہ صرف انتخابی سیاست کا معمول ہے یا پھر ملک میں ایک نئی سیاسی صف بندی تشکیل پا رہی ہے؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار کے امکانات جہاں بھی نظر آئیں، سیاسی شخصیات کا رخ بھی اکثر اسی جانب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انتخاب سے پہلے نئی سیاسی صف بندیاں بنتی اور پرانی ٹوٹتی دکھائی دیتی ہیں۔
استحکام پاکستان پارٹی ابھی ایک نسبتاً نئی جماعت ہے، لیکن اس نے مختصر عرصے میں خود کو سیاسی منظرنامے پر نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں ہونے والی شمولیتیں اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ پارٹی اپنی تنظیمی بنیاد کو مضبوط بنانے اور مختلف علاقوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
تاہم سیاست صرف سیاسی شخصیات کی آمد و رفت کا نام نہیں۔ پاکستان کا ووٹر اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے نرخ، معاشی استحکام، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی جیسے مسائل ووٹر کی ترجیحات میں شامل ہو چکے ہیں۔ عوام اب صرف اس بات پر فیصلہ نہیں کرتے کہ کون سی شخصیت کس جماعت میں شامل ہوئی، بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کون ان کے مسائل کا قابلِ عمل حل پیش کرتا ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات اس حوالے سے اہم اشارے دے سکتے ہیں۔ اگر استحکام پاکستان پارٹی اپنی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت کو عوامی ووٹ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ قومی سیاست میں اس کے کردار کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر روایتی جماعتیں اپنا ووٹ بینک برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں تو یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ صرف شمولیتوں کی سیاست ہر جگہ یکساں نتائج نہیں دیتی۔
پاکستان کی سیاست اس وقت ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف روایتی جماعتیں اپنی سیاسی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف نئی سیاسی قوتیں اپنے لیے جگہ بنانے کی جدوجہد میں ہیں۔ آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ استحکام پاکستان پارٹی کی طرف بڑھتا ہوا یہ سیاسی قافلہ وقتی انتخابی لہر ہے یا ملکی سیاست میں ایک دیرپا تبدیلی کا آغاز۔
سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جماعتیں صرف بااثر شخصیات کی شمولیت سے نہیں، بلکہ عوامی اعتماد، مضبوط تنظیم، واضح منشور اور مؤثر کارکردگی سے مضبوط ہوتی ہیں۔ یہی اصول استحکام پاکستان پارٹی پر بھی لاگو ہوگا۔ اگر یہ جماعت عوامی توقعات پر پورا اترتی ہے تو اس کے لیے سیاسی امکانات روشن ہو سکتے ہیں، لیکن اگر یہ سلسلہ صرف انتخابی موسم تک محدود رہا تو پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اپنی روایتی ڈگر پر واپس آ سکتی ہے۔
آنے والے دن نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ قومی سیاست کے لیے بھی اہم ہیں۔ یہ دن فیصلہ کریں گے کہ پاکستان میں سیاست کا محور بدلے گا یا پھر روایتی جماعتیں ہی ایک بار پھر اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں کامیاب رہیں گی۔












