8

آزا کشمیر میں بے چینی کی فضا :سردار کبیر الطاف

ملک کی سنجیدہ اعلی شخصیت موجودہ حالات پہ کردار ادا کریں ۔۔انا پرستی سب کو لے ڈوبے گی ۔
کشمیر میں عوامی مسائل حل نہ ہوے تو کشمیر میں امن امان بحال ہوتے نظر نہیں آ رہا اشیا خوردونوش کی قلت کو ختم کرتے ہوے ۔غیر جانب دار کمیشن تشکیل دیا جاے تاکہ حقائق کی روشنی میں منصفانہ کردار ادا کیا جاے موجودہ حالات مسلسل کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں ۔پاکستان امریکہ اور ایران کی ثالثی کی خوشی میں اتنا مگن ہے کہ کشمیر جل رہا ہے ۔ آر پار دونوں اطراف روانہ اربوں کا نقصان ہو رہا ہے ۔پنڈی کی تمام منڈیاں ویران ہیں۔ انٹری پوائنٹ پہ پاکستانی پولیس اور فورڈ اتھارٹی کے ناکے قائم ہیں ۔اشیا خوردونوش ۔بچوں کا دودھ تک کشمیر لیجانے میں پابندی عائد ہے ۔افراتفری کا سماں ہے۔ جہاں ہر طرح کی کھانے پینے کی چیزوں میں قلت ہے وہاں ۔پٹرول سمیت مہنگے داموں سبزیاں خریدنے پہ مجبور ہیں ۔ دولاکھ لوگ راولاکوٹ شہر کے انٹری پوائنٹ پہ دھرنا دیکر بیٹھے ہیں جبکہ مظفر آباد میں بھی یہی پوزیشن ہے کشمیر میں ہر اضلاع میں کرفیو ہے کشمیر کی موجودہ حکومت اور وفاقی وزیر سے عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری مزاکرات میں 38رکنی بنیادی حقوق اور آئینی معاملات پہ ایک مائدہ طے پایا تھا جس کے بعد کوپالا میں تین دن سے دھرنا میں بیٹھے دو ڈویژن کے مظاہرین نے قیادت کے اعلان پر مائدہ طے پا جانے کے بعد دھرنا ختم کیا تھا ۔عرصہ سات ماہ تک ۔ نہ تو قانون سازی کی گی نہ جاری مائدے کی کسی شک پہ عمل ہوا قیادت نے 30 مئی لاسٹ تاریخ دیکر دوبارہ 9جون کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ۔ حکومت نے 30مئ کو مزاکرات کا سلسلہ شروع کیا ڈیڈ لاک ہو گیا کچھ مطالبات پہ وفاقی حکومت نے سات جون کو دوبارہ نشست کا اعلان کیا تھا ۔لیکن مزاکرات جاری رکھنے کے بجاے کشمیر حکومت نے سات جون کو اے پی سی بولا کر آل پارٹی سے سائن لیکر وفاق کو بھج دیا جس میں کہا گیا کہ ایکشن کمیٹی ملک دشمن ہے لہزا اس کو کالعدم کر دیا جاے ۔ ایک ایسا الفاظ کا چناؤ کیا گیا جس کے بعد ۔ اور پاکستان سے پندرہ ہزار فورسز تعینات کر دی گی ۔جبکہ تیس سے زائد لوگ موت کے منہ میں چلے گے سینکڑوں زخمی ۔ سیکڑوں کا کا پتہ ہیں شھید ہونے والوں کے جسد خاکی بھی ورثہ کو نہ ملی ۔تمام سابقہ مائدہ جات کے تحت ختم کیے گے مقدمات کو ری اوپن کر دیا۔ کشمیر بھر میں نئے مقدمات کردے ۔ کریک ڈاؤن میں سب کچھ ناپید کر دیا ۔ عوامی تحریک کے چار لیڈران کی سر کی قیمت لگا دی ۔ڈیڈھ سو مقدمات ۔ اور فورتھ شیڈول میں نام ڈال دیے گے ۔ دوکانات اور لوڈر گاڑیوں کو لو ٹنے کے شوائد آنے لگے گھروں میں خواتین اور بچوں پہ چھاپے بھی مارے جانے لگے یہ ساری صورت حال کو کس نے پیدا کیا۔اس سے قبل بھی کشمیر اور پاکستان کے درمیان ایسا کبھی نہیں ہو سکا ۔جو جون دو ہزار 26 میں پیش آیا دشمن اپنی پلانگ میں کامیاب ہو چکا۔ دونوں اطراف میں ریاستی مشینری اور عوام آمنے سامنے ہیں ۔ جبکہ عوامی قیادت نے پندرہ روزہ دھرنے کے بعد مظفر باد کا دوبارہ رخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کشمیر حکومت کے پاس کیا پلان ہے ۔ ملک میں خون خرابہ قید سالی۔ الیکشن ۔یا غیر جانب دار کمیشن تشکیل دیکر ساری صورت حال کے پیش نظر ۔ مزاکرات کے زریعہ ریاستی بد آمنی بے چینی کی فضا کو کس طرح ختم کرنے کا پلان کریں گے
ہیومن رائٹس آزاد جموں کشمیر انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دشمن اپنا کھیل میں اب تک کامیاب جا رہا ہے۔ پاکستان کو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوے کالعدم کا نوٹیفکیشن واپس لیتے ہوے مزاکرات کی فضا کو بہتر بنا یا جاے ۔ سو فیصد قانونی مسائل حل ہوتے ہوے نظر آتے ہیں ۔ جس سے دونوں اطراف میں بہت اعلی ظرفی کی ضرورت ہے ۔تمام شعبہ جات پر اعلی قائدین اور ماہرین پر مشتمل غیر جانب دار کمشن تشکیل دیا جاے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب جاندار ٹیم کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں ورنہ۔ موجودہ حالات کشمیر اور پاکستان پہ کسی بڑی آزمائش سے کم نہ ہیں۔ دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاے گا ۔ہاتھ ملتی رہ جاے گی دنیا ساری کچھ بھی نہ اے گ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں