13

آزاد کشمیر، نظام کی ناکامی۔۔۔۔ صدارتی ماڈل کی ضرورت : آغاسفیرحسین کاظمی

اسلام آباد کے سیاسی و عسکری ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر حکومت، وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ راولاکوٹ میں جاری دھرنے کے خاتمے سے قبل کالعدم قرار دی جانے والی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جن سیاسی شخصیات، ریٹائرڈ فوجی افسران، وکلاء، صحافتی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ رابطوں یا ثالثی کی کوششوں کا دعویٰ کیا، ان میں سے اکثر کے پاس نہ کوئی باضابطہ مینڈیٹ تھا اور نہ ہی انہیں کسی ریاستی ادارے کی سرپرستی حاصل تھی۔
یہ صورتحال دراصل اس امر کی دلیل ہےکہ اگر ریاستی ادارے مذاکرات کے لیے کسی واضح پالیسی پر متفق تھے تو پھر مختلف شخصیات کی جانب سے ثالثی اور رابطوں کے دعوے کیوں سامنے آتے رہے؟ گزشتہ چند ہفتوں میں ایسا محسوس ہوتا رہا جیسے ایک غیر اعلانیہ مقابلہ جاری ہو، جس میں ہر شخص اپنی سیاسی یا سماجی اہمیت منوانے کے لیے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ ایکشن کمیٹی تک رسائی رکھتا ہے یا اسے مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے۔ اس تمام عمل میں اصل مسئلہ پس منظر میں چلا گیا جبکہ شخصیات اور ان کی سیاسی نمائش نمایاں ہوتی چلی گئی۔
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کون مذاکرات کرا سکتا ہے اور کون نہیں، بلکہ یہ ہے کہ مذاکرات کس مقصد کے لیے ہوں گے اور ان کی حدود و قیود کیا ہوں گی۔ اگر ایکشن کمیٹی کے ابتدائی مطالبات عوامی نوعیت کے تھے اور انہیں ریاست نے خود تسلیم کرتے ہوئے مختلف مراحل میں قبول بھی کیا تھا تو پھر حالات اس نہج تک کیوں پہنچے کہ آج مذاکرات کے دروازے بند کرنے کی بات کی جا رہی ہے؟پاکستان کے خلاف نعرے بازی اداروں کی توہین اور ان کی ہرزہ سرائی اور بعض تقاریر میں یہ تاثر دینا جیسا کہ یہ ہجوم ازاد کشمیر کو ازاد کروانے کی تحریک ہے کیا اس سب کے بعد مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا اگر بات تو سنتا بات کی ہے جو کہ عوامی تھے وہ تو مان لیے جائیں گے تو ان کا کیا کریں گے کیا یہ ہرزہ سرائی معاف کر دی جائے گی اور اسے معاف کرنے کا استحقاق کون رکھتا ہے؟؟؟
یہ امربھی واضح رہنا چاہیے کہ آزاد کشمیر کے ہزاروں شہداء خاندانوں، سابق فوجیوں اور ان طبقات میں جو ہمیشہ پاکستان کے دفاع اور استحکام کے ساتھ وابستہ رہے ہیں، اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب معاملہ عوامی مسائل کا تھا تو اسے سیاسی حکمت، تدبر اور سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے تھا۔ ماضی میں بھی حکومتوں نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے اور ایکشن کمیٹی کو ایک فریق کے طور پر تسلیم کیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مطالبات کی نوعیت تبدیل ہوتی گئی، ان میں اضافہ ہوتا گیا اور بعض ایسے عناصر بھی سامنے آ گئے جنہوں نے عوامی حقوق کے پلیٹ فارم کو اپنے مخصوص سیاسی یا نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔
بارہا ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ایسے نعرے اور بیانیے بھی سامنے آئے ہیں جنہیں آزاد کشمیر کے عمومی اجتماعی شعور کی نمائندگی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بعض افراد نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور بیانات جاری کیے جن سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ تحریک عوامی حقوق سے ہٹ کر کسی اور سمت میں جا رہی ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کچھ افراد نے اپنے سیاسی مستقبل یا بیرون ملک سیاسی پناہ کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے بھی اس فضا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
چنانچہ یہاں بنیادی سوال ریاستی اداروں سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر انہیں معلوم تھا کہ بعض منفی عناصر عوامی مطالبات کے پلیٹ فارم کو استعمال کر رہے ہیں تو پھر ابتدا ہی میں عوامی مطالبات کو مکمل اور مؤثر انداز میں حل کیوں نہ کیا گیا؟ اگر عوامی مسائل حل ہو جاتے تو اس کے بعد ریاست ان عناصر سے یہ سوال پوچھ سکتی تھی کہ پاکستان مخالف نعروں، متنازع بیانیوں یا اشتعال انگیز طرز عمل کا مقصد کیا تھا۔ اس صورت میں عوامی مطالبات اور سیاسی مقاصد الگ الگ ہو جاتے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اور نتیجتاً دونوں معاملات ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو گئے۔
اس تمام صورتحال نے ایک اور تلخ حقیقت بھی نمایاں کی ہے۔ یہ کہ” آزاد کشمیر میں گورننس کا بحران محض چند مہینوں یا چند برسوں کا مسئلہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک ساختی خرابی کا نتیجہ ہے”۔ اگر عوام کے بنیادی مسائل اس حد تک بڑھ جائیں کہ غیر منتخب افراد اور غیر رسمی پلیٹ فارم عوامی حمایت حاصل کر لیں جبکہ منتخب نمائندے پس منظر میں چلے جائیں تو یہ صرف افراد کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی تصور کی جاتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ آزاد کشمیر کا سیاسی ڈھانچہ عوامی مسائل کے حل سے زیادہ سیاسی وابستگیوں، گروہی مفادات اور مرکز کی خوشنودی کے گرد گھومتا رہا ہے۔ عوام کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک انتخابات، اسمبلی، وزارتیں اور سیاسی جماعتیں عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عوامی حقوق کا معاملہ سامنے آیا تو عوام کی توجہ روایتی سیاسی جماعتوں کے بجائے متبادل پلیٹ فارمز کی جانب مبذول ہوئی۔
پانچ اگست 2019 کے بعد کی صورتحال اس ناکامی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ آزاد کشمیر ایک فکری، نظریاتی اور سیاسی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ توقع تھی کہ یہاں کی سیاسی قیادت عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرے گی، عوام کو منظم کرے گی اور ایک قومی بیانیہ تشکیل دے گی۔ لیکن عملی طور پر ایسا نہ ہو سکا۔
اگر سات برس گزرنے کے باوجود ایک ایسا سیاسی نظام کشمیری عوام کو نظریاتی بنیادوں پر منظم نہ کر سکے، اگر وہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر ایک ہمہ گیر قومی تحریک پیدا نہ کر سکے، اگر وہ نوجوان نسل کو ایک واضح فکری سمت نہ دے سکے اور اگر وہ عوامی مسائل کو اس حد تک حل نہ کر سکے کہ متبادل احتجاجی ڈھانچے وجود میں نہ آئیں، تو پھر اس نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
یہی سبب ہے کہ نظام کی تبدیلی کی بحث اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ آیا آزاد کشمیر کو موجودہ پارلیمانی نظام کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے،(جسکی ناکامی باربارعیاں ہو چکی ہے) یا کسی نئے انتظامی ماڈل پر غور کرنا چاہیے۔ موجودہ نظام کے حامی یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ جمہوری عمل کا تسلسل ضروری ہے، لیکن حقیقت پسندی یہی ہے کہ اگر ایک نظام مسلسل مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے تو اس کی اصلاح یا تبدیلی پر بحث جمہوری اصولوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے عین مطابق ہے۔
آزاد کشمیر میں موجود سیاسی تقسیم بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر معاشرے میں پیدا ہونے والی خلیج بعض اوقات ریاستی اور قومی مفادات کو بھی متاثر کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ایسا ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے جو انتظامی استحکام، واضح جوابدہی اور قومی یکجہتی کو فروغ دے؟
چنانچہ سنجیدہ اور محب وطن حلقوں کی جانب سے صدارتی نظام کی تجویز سامنے آتی ہے۔ اس تجویز کے حامیوں کے مطابق آزاد کشمیر میں ایک مضبوط اور براہ راست جوابدہ صدر کا انتخاب کیا جائے جو اپنی کابینہ تشکیل دے اور انتظامی اختیارات کا واضح مرکز ہو۔ اس نظام میں حکومتی کارکردگی کا تعین بھی نسبتاً آسان ہو گا اور سیاسی انتشار میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ ان کے نزدیک اس ماڈل کا مقصد جمہوریت کا خاتمہ نہیں بلکہ انتظامی صلاحیت اور قومی سمت کا تعین ہے۔
یقیناً صدارتی نظام کوئی جادوئی حل نہیں، لیکن موجودہ حالات میں اس پر سنجیدہ بحث کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ہمارے سامنے جنرل حیات خان کادوربطورمثال ہے۔ اس وقت جب عوامی اعتماد میں کمی، سیاسی بے یقینی، گورننس کے مسائل اور ریاستی بیانیے کے بحران جیسے مسائل بیک وقت سامنے موجود ہوں۔
آزاد کشمیر اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف انتخابات کروا دینا شاید تمام مسائل کا حل نہیں ہو گا۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ طے کیا جائے کہ آئندہ دہائیوں میں ریاست کو کس فکری، نظریاتی اور انتظامی سمت میں لے جانا ہے۔ اگر موجودہ نظام اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے تو اس پر تنقیدی نظر ڈالنا ناگزیر ہے۔
یادرہے ،اسوقت معاملہ محض دھرنے کے خاتمہ یا مذاکرات کے آغاز کا نہیں بلکہ ایک وسیع تر قومی مکالمے کی ہے جس میں یہ طے کیا جائے کہ آزاد کشمیر کا سیاسی و انتظامی مستقبل کیا ہو گا۔ اگر یہ مکالمہ سنجیدگی سے نہ ہوا تو وقتی حل شاید وقتی سکون تو دے دیں، لیکن بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔
چنانچہ موجودہ بحران نے اس حقیقت کو صاف عیاں کردیاہے کہ افراد، جماعتوں اور وقتی سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر صدارتی نظام پر بحث کی جائے۔ اور اگر اس بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آزاد کشمیر کو ایک زیادہ مضبوط، جوابدہ اور یکسو انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے تو صدارتی نظام کم از کم ایک ایسا آپشن ضرور ہے جس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے۔اگر پھر وہی پرانا کھیل تماشہ ہی جاری رکھنا ہے تو یاد رکھیں اب معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں۔فرسودہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے میں جتنی دیر کی جائے گی اتنی ہی زیادہ مشکلات چیلنجز جگ انسائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں