3

مقدس سفر قومی وقار :حمید علی

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں دنیا بھر سے مسلمان عقیدت، محبت اور عبادت کے جذبے کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ یہاں قدم رکھتے ہی انسان کے دل میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ زبان پر ذکرِ الٰہی، دل میں خشوع اور نگاہوں میں عقیدت ہوتی ہے۔ ایسے مقدس ماحول میں انسان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہر عمل سے عبادت، شائستگی اور انسانیت کا مظاہرہ کرے۔ افسوس کہ اکثر بعض پاکستانی زائرین کے ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو نہ صرف انفرادی کردار پر سوال اٹھاتے ہیں بل کہ پوری قوم کے وقار کو متاثر کرتے ہیں۔

حرمین شریفین میں کبھی کوئی شخص لوگوں سے رقم مانگتا دکھائی دیتا ہے، کبھی کسی کے بٹوا گم ہونے کی داستان سنائی جاتی ہے اور کبھی کوئی سامان چوری ہونے کا بہانہ بنا کر دوسروں سے مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ظاہر ہے، ہر ضرورت مند شخص کو دھوکے باز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقی مجبوری اور حادثہ کسی کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے مگر اگر کوئی شخص باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ مقدس مقامات پر آنے والے لوگوں کی عقیدت اور ہمدردی سے فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ صرف اخلاقی جرم نہیں بل کہ ان مقدس مقامات کے احترام کے بھی منافی ہے۔

عمرہ ایک عبادت ہے، کوئی ذریعۂ معاش نہیں۔ احرام کی حالت میں، اللہ کے گھر کے سائے میں اور رسولِ اکرم ﷺ کے شہر میں انسان اگر اپنی ضرورت کے نام پر لوگوں کو دھوکا دے، جھوٹ بولے یا بھیک مانگنے کو معمول بنا لے تو اسے اپنے عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ عبادت کا اصل مقصد انسان کے اندر پاکیزگی، تقویٰ، صبر اور کردار کی بلندی پیدا کرنا ہے۔ اگر حرم میں حاضری کے باوجود ہمارا رویہ وہی رہے جو دنیا کے کسی عام بازار میں ہوتا ہے تو پھر ہمیں اپنے سفرِ حرم کے مقصد پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے رہنی چاہیے کہ بیرونِ ملک سفر کرنے والا ہر پاکستانی صرف ایک فرد نہیں ہوتا۔ وہ جہاں جاتا ہے، اپنے ساتھ پاکستان کا نام بھی لے کر جاتا ہے۔ اس کا لباس، گفتگو، رویہ، لین دین اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ غیر محسوس طور پر اس کے ملک کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اسی لیے یہ کہا جاتا ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والا شہری اپنے ملک کا غیر رسمی سفیر ہوتا ہے۔ اگر وہ قانون کا احترام کرے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے، صفائی کا اہتمام کرے اور شائستگی سے پیش آئے تو پاکستان کا مثبت تاثر قائم ہوتا ہے لیکن اگر وہ بھیک مانگے، دھوکا دے، قانون توڑے یا دوسروں کو پریشان کرے تو اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا۔

حرمین شریفین میں مختلف ملکوں سے آنے والے لاکھوں مسلمان موجود ہوتے ہیں۔ ہر شخص کی نظر صرف اپنی عبادت پر نہیں ہوتی بل کہ وہاں مختلف معاشروں اور قوموں کے لوگوں کے رویے بھی ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستانی زائرین میں سے کچھ لوگ سڑکوں، بازاروں یا حرم کی حدود کے آس پاس بھیک مانگتے نظر آئیں تو یہ منظر یقیناً تکلیف دہ ہے۔ خصوصاً خواتین اور بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنا ایک ایسا رویہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ عمرہ یا زیارت کے مقدس سفر کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا کہ لوگوں کے جذبات کو متاثر کر کے رقم حاصل کی جائے، کسی طور مناسب نہیں۔

سعودی عرب نے حرمین شریفین کے انتظام، زائرین کی سہولت اور نظم و ضبط کے لیے وقت کے ساتھ مختلف قوانین اور ضوابط سخت کیے ہیں۔ ویزا پالیسی، رہائش، نقل و حرکت اور حرمین شریفین کے اطراف نظم و ضبط کے حوالے سے سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد زائرین کی حفاظت، سہولت اور مقدس مقامات کے تقدس کو برقرار رکھنا ہے۔ ہمیں ان اقدامات کو صرف پابندیوں کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے بل کہ ایک ذمہ دار زائر کی حیثیت سے یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارا طرزِ عمل بھی ان انتظامات کو بہتر یا مشکل بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سعودی عرب میں کسی قانون کی خلاف ورزی یا غیر مناسب سرگرمی کا نتیجہ صرف ایک فرد کو نہیں بھگتنا پڑ سکتا بل کہ اس کے اثرات دوسرے پاکستانی زائرین کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر چند افراد کی وجہ سے پاکستانیوں کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو کہ وہ قوانین کی پابندی نہیں کرتے یا مقدس مقامات پر بھی غیر مناسب سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں تو اس کا نقصان ان لاکھوں باعزت پاکستانیوں کو ہوتا ہے جو ہر سال انتہائی عقیدت اور نظم و ضبط کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے مذہبی رہنما، علما، ٹریول ایجنسیاں، عمرہ گروپس اور متعلقہ ادارے زائرین کو سفر سے پہلے صرف مناسکِ عمرہ ہی نہ سمجھائیں بل کہ سعودی قوانین، حرمین شریفین کے آداب، صفائی، نظم و ضبط اور قومی وقار کے تقاضوں سے بھی آگاہ کریں۔ زائرین کو بتایا جائے کہ کسی اجنبی سے جھوٹ بول کر رقم حاصل کرنا، جعلی ضرورت ظاہر کرنا یا بھیک مانگنا نہ عبادت کا حصہ ہے اور نہ پاکستانی معاشرے کی کوئی قابلِ فخر روایت۔

میری اپنے ہم وطنوں سے بھی نہایت درد مندانہ اپیل کرنی چاہیے کہ خدارا حرمین شریفین کو اپنی حرص، فریب اور ذاتی مفاد سے آلودہ نہ کریں۔ اللہ کے گھر اور مدینہ منورہ میں حاضری زندگی کی عظیم سعادت ہے۔ وہاں جا کر اپنے دامن کو گناہ، جھوٹ اور دھوکے سے بچانا ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر واقعی ضرورت ہو تو باقاعدہ اور جائز ذرائع سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے مگر عبادت کے مقدس سفر کو لوگوں کو دھوکا دینے کا ذریعہ بنانا کسی صورت زیب نہیں دیتا۔

پاکستانی قوم دنیا بھر میں محنت، محبت اور مہمان نوازی کے حوالے سے ایک پہچان رکھتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ حرمین شریفین میں بھی اپنے کردار سے یہی پہچان مضبوط کریں۔ ہم جہاں جائیں، پاکستان کا نام ہمارے ساتھ جاتا ہے۔ اس لیے ہر پاکستانی زائر خود سے صرف ایک سوال کرے: میں حرم سے کیا لے کر واپس آ رہا ہوں اور میرے عمل سے میرے ملک کا کیا تاثر جا رہا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے دل کو مطمئن کر دے تو یقین رکھیے، ہمارا سفر صرف جسمانی سفر نہیں رہا؛ وہ کردار، ایمان اور انسانیت کی طرف ایک حقیقی سفر بن چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں