اگر ہم پاکستان میں چند ہفتوں سے نان ایشو جاری پر بحث و مباحثہ کا تجزیہ کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ سب کچھ ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے شروع کیا گیا ہے اور اس کا ملک کے حقیقی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان میں جاری اداروں کو مستحکم ہوتے ہوئے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے تاکہ اشرافیہ جو پاکستان کے قیام کے بعد سے آج تک ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے میں مصروف ہیں ان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے عمل کو روکنا ہے۔
ان استحصالی طبقات اور ان کی پروردہ تنظیموں کے اس ایجنڈے کا واحد مقصد پاکستان میں عدم استحکام، انتشار اور افراتفری پیدا کرتا ہے اس میں نمایاں کردار تاجروں و صنعت کاروں کی تنظیموں، نام نہاد کاشتکاروں کی تنظیموں، رہیل اسٹیٹ سے وابستہ بلڈرز اینڈ ڈیولپرز مافیاز، میڈیا مافیاز ، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
اس کا آغاز اس اشرافیہ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمنار میں ہوا۔ اس کے لیے کراچی و دیگر علاقوں سے چارٹرڈ فلائیٹ کے ذریعے ان اشرافیہ کے نمائندوں کو جمع کیا گیا ۔
اس وقت جبکہ ملک میں بیرونی طاقتیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں ان استحصالی طبقات کا یہ منفی کردار بہت سے سوالات کو جنم دے ریا ہے ۔
دراصل اس کی بنیادی وجہ تلاش کرنے کے لیے ہمیں زرا ماضی کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ہمارا ماضی اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ پاکستان دشمن بیرونی طاقتیں اور خاص کر ہنود و یہود کا اتحاد ہمیشہ سے ہی پاکستان میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کے ایجنڈے پر کام کرتے آ رہے ہیں۔ جب بھی پاکستان میں استحکام کی جانب گامزن ہونے لگتا ہے تو ان قوتوں کی سازشوں میں تیزی آ جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان قوتوں کو اہنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے پاکستان میں موجود ایجنٹوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کو استحصالی طبقات کی شکل میں ہمیشہ سے میسر رہے ہیں۔ ان استحصالی طبقات نے ہمیشہ ہی پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوششیں کیں ہیں اور ان کو اس کے لیے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل رہی ہے یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک باب ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں نہ ہی سیاسی نظام جڑیں مضبوط نہ کر سکا جس کے نتیجے میں بیوروکریسی مضبوط ہوتی چلی گئی اور ملک کو لوٹنے کے عمل میں بلا شرکت غیرے مصروف عمل رہیں اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حکومتی عہدوں پر فائز صرف گریڈ 17 اور اس کے اوپر والے عہدے داروں پر نظر ڈالیں تو ان میں سے اکثریت اربوں روپوں کے اثاثے رکھتے ہیں جو ملک و بیرون ممالک میں محفوظ ہیں ان افراد کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ اثاثے ان غیر قانونی کاموں کےعوض بناے گئے ہیں جو غیر سرکاری پرائیویٹ سیکٹر کو قانون کے خلاف رعایتیں فراہم کر کے حاصل کئے گئے اور ان پرائیویٹ سیکٹر کے اس کاموں میں غیر قانونی منافع کھربوں میں بھی شمار کرنا مشکل ہے ظاہر ہے یہ سب عوامی وسائل کو لوٹنے کا ایک طویل سلسلہ ملک میں جاری و ساری رہا اور اس کے لیے ملک ہمیشہ سے غیر آئینی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا ہے۔ اور تاریخ کا بڑا حصہ ملٹری آمریت یا کنٹرولڈ ڈیموکریسی پر مشتمل ہے۔
عوامی و سیاسی قوتوں نے اس تمام دورانیہ میں جدوجہد جاری رکھی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے قربانیاں دیں ہیں۔ جو ہماری سیاسی تاریخ کا ایک تابناک باب ہے۔
پاکستان کے قیام کا مقصد ایک ایسے وفاقی ریاست کا قیام تھا جس میں تمام اکائیوں ( صوبوں) کو خودمختاری کی ضمانت تھا۔ مگر قائداعظم کی جلد رحلت اور مسلم لیگ کی ناتجربہ کار قیادت اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی تھی اسلئے جلد ہی سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹز اور عدلیہ کے اتحاد نے ملک میں جمہوریت کو ختم کر کے ملک کو مارشل لاء کے طویل اندھیرے میں دھکیل دیا۔ اس عمل نے بنگال اور دیگر چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کو فروغ دینے کا اہتمام کیا جو آخر کار بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں سامنے آیا اور پاکستان کو تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ دراصل اللہ سبحانہ و تعالٰی کا عذاب اور ایک طرح کی تنبیہ تھی۔ مگر اس کے باوجود ہماری اسٹیبلشمنٹز ہمیشہ ہی سول حکومتوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی اور کوئی بھی سول حکومت اپنی تمام توانائیاں ان سازشوں کا مقابلہ کرنے میں صرف ہوتی رہی اور وہ عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ ان تمام محرکات کی وجہ سے سول ادارے کمزور ہوتے گئے اور بیوروکریسی میں کرپشن عروج پانے لگی۔ نتیجتاً ملکی وسائل میں کمی، آبادی میں اضافہ اوراس کے نتیجے میں اخراجات میں انتہائی تشویشناک اضافہ ہونے لگا۔ اور ملک کو چلنے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا جس سے پاکستانی روپے کی شرح مبادلہ میں دن بدن کمی واقع ہوتی گئی۔
مراعات یافتہ طبقات کو آمرانہ ادوار میں مزید تحفظ ملتا گیا اور عوام مزید مشکلات کا شکار ہوتے گئے۔ پاکستان کو مالی طور پر دیوالیہ ہونے پر پہنچا دیا گیا۔
پاکستان کے ہر انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کا ایک اہم کردار رہا ہے جس کے بعد دھاندلی کا شور برپا کیا جاتا ہے جس کا مقصد سیاسی جمہوری نظام کو غیر مقبول و غیر مستحکم کرنے اور اس کے نتیجے میں نظام پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے ۔
حالیہ 2022 کے انتخابات کے بعد تشکیل کردہ ہابرڈ نظام میں تمام سول اداروں کے نظام ( سسٹم ) کو درست کرنے کی ذمہ داری ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو دی گئی تھی کیونکہ ان ہی کی مداخلت نے ان اداروں کے نظام کو تباہی و برباد کر دیا ہے۔ سول حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور ملک میں سرمایہ کاری لانے کے لیے کام کرنے کی طرف کام کرنے لگی تاکہ ملک میں بےروزگاری و مہنگائی میں کمی لائی جائے۔ درحقیقت سیاسی حکومت نے انتہائی محنت سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اقدامات کئے جن کے اب مثبت نتائج نکلنے کا وقت آ رہا ہے۔ مگر بین الاقوامی حالات اور خطے میں جنگی صورتحال نے دوبارہ سے معاشی بحران پیدا کر دیا ہے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اگرچہ اس موجودہ مہنگائی کا سبب پٹرولیم مصنوعات کی رسل میں رکاوٹ اور اس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہے اس کااثر صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں شدت سے محسوس کی جا رہا ہے ۔
موجودہ حکومت نے ان غیر قانونی ذرائع سے اثاثے بنانے والے اور ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف موثر قانونی سازی کی ہے اور اربوں روپوں کے کاروبار کرنے والے تاجروں و دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے واضح رہے کہ ماضی کے مضبوط ڈکٹیٹروں کو بھی ان استحصالی طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی جرات نہ ہو سکی جس سے ریاستی وسائل لوٹنے کا عمل جاری و ساری رہا اور عوام پر اس کا بوجھ مہنگائی کی صورت میں بڑھتا ہی رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بھی اس عرصے میں اپنا موثر کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے اور اسمگلنگ، منی لانڈرنگ، وغیرہ میں کافی حد تک کامیاب بھی رہی ہے بھارت کو جنگ میں عبرتناک شکست نے پاکستان کو دنیا میں ایک اہم حیثیت دلا دی ہے جس کا سہرا اگرچہ ملٹری کو جاتا ہے مگر اس کے لیے جدید میزائل، جنگی جہازوں اور دیگر ذرائع سیاسی قیادتوں کے ذریعے ہی فراہمی کا اہتمام ہوا تھا۔ اور اس کے لیے وسائل عوام نے قربانیوں دے کر فراہم کیے ہیں۔
اس صورتحال میں جب ملک میں مختلف علاقوں میں پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش عروج پر ہے اور بھارت و افغانستان ملکر پاکستان میں دہشتگردی اور انتشار پھیلانے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں اور ہر روز عوام اور سیکورٹی فورسز شہادتیں دے رہے ہیں اس موقع پر چند موقع پرست حلقوں کی جانب سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں اور خود مختار بلدیاتی نظام جیسے مسائل کو چھیڑنا ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے اور اس میں سازشوں کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔
ان متنازعہ مسائل کو شروع کرنے والےافراد و تنظیمیں کا قریبی تعلق سابقہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ ان کو عوام میں کسی قسم کی پذیرائی حاصل نہیں ہے جو انتہائی تشویشناک بات ہے اگرچہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بذات خود بین الاقوامی اور ملکی مسائل پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان متنازعہ مسائل کو زیر بحث لانے والوں کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پشت پناہی حاصل ہونےکا جو تاثر قائم ہو رہا ہے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
اب اگر ان متنازعہ مسائل کی قانونی حیثیت کے بارے میں بات کریں تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے
آہین پاکستان کے آرٹیکل 239 کے تحت صوبوں کی تشکیل کے پہلے بل پہلے قومی اسمبلی کی کل تعداد کے دو تہائی اکثریت سے منظور لازم ہے اور اس کے بعد سینٹ سے بھی کل تعداد کے دو تہائی اکثریت سے منظوری لازم ہے اس منظوری کے بعد بل صدر کو دستخط کے لیے اسوقت تک نہیں بیھجا جا سکتا جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی بھی کل تعداد کے دو تہائی اکثریت سے اس صوبے کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کی منظوری نہ دے۔
بہت سے لوگ اس سلسلے میں آرٹیکل 48 کے تحت ریفرنڈم کے ذریعے اس عمل کو کرنے کی بات کر رہے ہیں یہ دراصل ان کی آہین و قانون سے ناواقفیت کی دلیل ہے کوئی بھی ریفرنڈم آہین میں ترمیم کا متبادل نہیں ہو سکتا اگر ریفرنڈم ہو بھی جائے تو اس کا عمل صرف اور صرف آرٹیکل 239 کے تحت ہی ہو سکتا ہے۔
کچھ ناسمجھ لوگ آہین میں ترمیم کر کے صوبوں کی تشکیل کے طریقہ کار کو بدلنے کی باتیں بھی کر رہے ہیں وہ دراصل آہین پاکستان سے ناواقفیت رکھتے ہیں کیونکہ آہین میں فیڈریشن کی تشکیل نو کی کوئی دوسری راہ متعین کرنے کی اس موجودہ اسمبلی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے یہ کام صرف ایک آہین ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے اور آئندہ کسی قسم کی بھی نئے آہین کی تشکیل کی طرف جانے کا مطلب پاکستان کی سالمیت سے کھلواڑ کرنا ہو گا اور یہ پاکستان دشمن قوتوں کو پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی کوششوں میں معاون ثابت ہو گا اس لیے اس خطرناک رحجان کو ہر صورت روکنا ہو گا۔ واحد راستہ صرف غیر آئینی مارشل لاء کا نفاذ ہو گا جس کی راہ موجود آہین مسدود کر چکا ہے اور اب عدلیہ بھی اس غیر آئینی اقدام کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ واضح رہے کہ ان ناں ایشوز کو صرف چند مفاد پرست عناصر جو استحصالی طبقات کے ایجنٹ ہیں فروغ دے رہے ہیں یہی کرپٹ لوگوں میڈیا ہاؤسز کے مالکان ہیں جبکہ دوسری طرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ ان معاملات سے بالکل الگ ہے اور وہ سول حکومت کے ساتھ ملکر ملک کے اداروں کی مضبوطی کے عمل میں مصروف ہیں۔ اسلئے یہ بحث صرف وقت کا ضیاع ہے اور یہ صرف ملک میں نفرت اور انتشار پھیلانے کا ہی سبب بن سکتا ہے جو پاکستان دشمن بیرونی و اندرونی عناصر کا ایجنڈا ہے۔
آئینی و قانونی تقاضوں سے ہٹ کر بھی اگر نئے صوبوں کی تشکیل کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس سے ملک و صوبوں کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو جائے گا جو اس معاشی بحران میں کسی طرح بھی قابل عمل حل نہیں ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ پنجاب اسمبلی نے آئینی طور پر بہاولپور صوبہ اور کے پی کے نے ہزراہ صوبہ کی قراردادیں منظور کر چکی ہیں جس پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اس پر عملدرآمد ایک عرصے سے صرف اسی وجہ سے نہیں ہو سکا کہ ملک ان اضافی اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
دوسرے اگر صوبوں کو چھوٹے کرنے سے کوئی مسئلہ حل ہو جاتا تو بات الگ تھی مگر مزید انتظامی یونٹ بنانے سے سول اداروں کی بحالی کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں ہو گا بلکہ وہ مزید طاقتور ہو کو وسائل پر قابو ہو جائیں گے۔ اس کی مثال پنجاب کی موجودہ صورتحال ہے پنجاب جو پاکستان کی آبادی کی اکثریت یعنی 14 کروڑ سے زائد پر مشتمل ہے اس کے سول اداروں کی بحالی اور مضبوطی صرف پچھلے ڈھائی برس کی سخت محنت سے انتہائی بلندیوں پر ہے اور وہاں پر نظام ( سسٹم ) نہ صرف کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے بلکہ سسٹم کی ناکامی کے دعویداروں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب میں اس عرصے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ جب تک اداروں کو مضبوط نہ کیا جائے بلدیاتی نظام کی بحالی کوئی فعال کردار ادا نہیں کر سکتا بلکہ وہ ان اداروں کی کرپشن میں شامل ہو جاتے ہیں جس کا ثبوت سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی موجودگی میں اداروں کی بدحالی سے واضح ہے۔
جہاں تک انتظامی یونٹس کے بنانے کی بات ہے تو یہ نظام صوبوں میں ڈویژن کی سطح پر موجود ہے اور وقتاً فوقتاً صوبوں میں نہئ انتظامی ڈویژن و ضلعوں کی تشکیل نو ہوتی رہتی ہے۔ عوام کے روزمرہ کے مسائل کا تعلق ان ہی انتظامی نظام اور اس سے متعلقہ بلدیات ہے جو اب بھی موجود ہے مگر اس میں سول بیوروکریسی کی کرپشن کو کنٹرول کرنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک عوام کو دروازے تک انصاف کی فراہمی کا تعلق ہے تو یہ ضلعی، و ڈویژن کی سطح پر مکمل طور پر فعال ہیں ہر ڈویژن ہیڈکوارٹر میں ہاہی کورٹ کا نظام قائم کر رہا ہے اور ہر صوبائی دارالحکومت میں سپریم کورٹ قائم ہے۔ اسلئے عوام کو انصاف کی دروازے پر فراہمی کا نئے صوبوں کے قیام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایک طرف تو یہ بے وقت اور فضول بحث شروع کر کے عوام میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے دوسری طرف کشمیر و دیگر علاقوں میں گھیراؤ جلاو کی کیفیت جاری ہے اور اس موقع پر پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی احتجاج کی کال ایک سازش کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا کردار ادا کرتے ہوئے استحصالی نظام کی مضبوطی کیلئے کوشاں رہی ہے اور اس کے اسی منافقانہ پالیسی و عمل کی بناء پر عوام نے ہمیشہ ہی اس کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔
اس نے جو پہہ جام کی کال دی ہے وہ اس سازش کا حصہ ہے اور یہ دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے مگر یہ اپنے مفادات کے لیے ہر وقت ہر کام کرنے کو تیار رہتی ہے۔ واضح رہے کہ پٹرولیم ممصنوعات پر لیوی آی ایم ایف کے پروگرام کے تحت لگائی گئی ہے اور حکومت اس کی خلاف ورزی کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے ملک دوبارہ سے معاشی بحران اور ڈیفالٹ کی طرف چلا جائے گا جس طرح سے عمران خان نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں کیا تھا اور پاکستان کو تباہی و بربادی کے دھانے پر پہنچا دیا گیا تھا۔ ایک بڑی تنقید اعلی عہدیداروں کے حفاظتی پروٹوکول پر ہونے والے اخراجات پر کی جا رہی ہے اس وقت پاکستان جسطری سے دہشت گردی اور بیرونی طاقتوں کی سازشوں کا شکار ہے اس مرحلے میں حفاظتی پروٹوکول انتہائی ضروری ہے کیونکہ کوئی بڑا حادثہ پاکستان کو ایک بہت بڑے بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہوا ہے اور واضح طور پر پر تشدد کارروائیوں کا عندیہ دے رہی ہے ان کا مطالبہ مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے کیونکہ انہوں نے اس احتجاج کو عمران خان کی رہائی سے مشروط کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتوں نے نے سزائیں سنائی تھیں اور ان کی ان سزاوں کے خلاف مختلف اپیلوں کی ہاہی کورٹ اور سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے ان کی سزائیں کو ختم یا بحال رکھنے کا فیصلہ صرف عدلیہ ہی کر سکتی ہے اور حکومت اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں رکھتی۔ اس لیے یہ احتجاج مکمل طور پر غیر آئینی ہے اور اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اس لیے اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری فیلڈ مارشل عاصم منیر پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طورپر ان ناں ایشوز پر جاری بحث کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کریں اور اپنی تمام تر توانائیاں کو پاکستان میں انتشا و افراتفری پیدا کرنے والے عناصر کی سرکوبی کے لیے مختص کریں۔ اور ان اندرونی و بیرونی عناصر پر کڑی نظر رکھیں جو پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔
سیاسی قوتوں کو بھی اس نازل صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کی جا سکے اور کسی کو دوبارہ سے عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھانے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکے۔
واضح رہے کہ آنے والے دنوں دن پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے تمام محب وطن پاکستانیوں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا اور ریاستی اداروں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا تاکہ پاکستان دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا لیے جا سکے ۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی اپنی رحمت سے ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو ناکامی سے دوچار کرئے گا۔ ان شاءاللہ۔











