”وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ“ یہ محض ایک خوب صورت شعری مصرع نہیں بل کہ انسانی تہذیب کی پوری تاریخ کا خلاصہ ہے۔ عورت وہ ہستی ہے جس کے وجود سے گھر کو گھر، رشتوں کو معنویت اور معاشرے کو تہذیبی حسن ملتا ہے۔ ماں کی صورت میں وہ نسلوں کی تربیت کرتی ہے، بیٹی بن کر گھر میں محبت کے رنگ بکھیرتی ہے، بہن بن کر رشتوں کو مضبوط کرتی ہے اور بیوی کی صورت میں، زندگی کے سفر میں شریکِ حیات بن کر قدم سے قدم ملاتی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں خواتین کا کردار ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ قربانیاں دیں۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ساتھ تحریکِ پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے بھی سیاسی، سماجی اور قومی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ آج پاکستان کی خواتین تعلیم، طب، صحافت، سیاست، عدلیہ، افواج، کھیل، تجارت اور تحقیق سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی قابلیت ثابت کر رہی ہیں۔
آج کی پاکستانی عورت صرف چار دیواری تک ہی محدود نہیں۔ وہ درس گاہ میں استاد ہے، اسپتال میں ڈاکٹر اور نرس ہے، عدالت میں منصف ہے، دفتر میں افسر ہے، جامعہ میں محقق ہے، میدانِ عمل میں سپاہی ہے اور کاروباری دنیا میں کامیاب صنعت کار بھی ہے۔ وہ گھر کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت اور ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دیہی علاقوں کی عورت بھی کھیتوں میں محنت کرتی، مویشی پالتی اور اپنے خاندان کی کفالت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مگر اس روشن تصویر کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔ افسوس کہ جس عورت کو معاشرے کی بنیاد کہا جاتا ہے اسی کے ساتھ ہمارے معاشرے میں کئی مقامات پر ناانصافی، امتیاز اور زیادتی کا رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ کہیں اسے تعلیم سے محروم کر دیا جاتا ہے، کہیں کم عمری میں شادی پر مجبور کیا جاتا ہے، کہیں جہیز کے نام پر اس کی زندگی کو عذاب بنا دیا جاتا ہے اور کہیں اسے وراثت کے شرعی اور قانونی حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں میں بیٹی کو آج بھی بوجھ سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ وہی بیٹی کل کسی گھر کی روشنی اور کسی خاندان کا سہارا بن سکتی ہے۔
خواتین کے خلاف تشدد ہمارے معاشرے کا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ گھریلو تشدد، ہراسانی، تضحیک، جسمانی و ذہنی اذیت اور بعض اوقات قتل جیسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم نے عورت کے مقام کو حقیقتاً سمجھا بھی ہے یا صرف تقریروں تک محدود رکھا ہے؟ عورت کو عزت دینے کے دعوے بہت ہیں مگر اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے۔ کیا ہم اس کی آواز سننے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اسے تعلیم ملازمت اور زندگی کے فیصلوں میں اپنی رائے رکھنے کا حق دیتے ہیں؟
عورت کے ساتھ زیادتی صرف جسمانی تشدد کا نام نہیں۔ کسی لڑکی کو اس کی صلاحیت کے باوجود تعلیم سے روک دینا، بیٹے کو ترجیح دے کر بیٹی کو کمتر سمجھنا، عورت کی رائے کو بے وقعت جاننا، اس کے خوابوں کا مذاق اڑانا اور اسے صرف اس لیے محدود کر دینا کہ وہ عورت ہے _ یہ سب ناانصافی کی مختلف شکلیں ہیں۔ معاشرہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے ہر فرد کو اپنی صلاحیت بروئے کار لانے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ عورت کو مواقع دینا دراصل معاشرے کو آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خواتین کے حقوق کی بات خاندان کے خلاف بغاوت نہیں بل کہ خاندان کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، بااختیار اور پُراعتماد عورت بہتر نسل کی تربیت کر سکتی ہے۔ ایک ایسا گھر جہاں عورت کی عزت کی جاتی ہو، وہاں بچوں کو بھی احترام، برداشت اور انسانیت کا درس ملتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں عورت کو مسلسل خوف، تحقیر اور محرومی کا سامنا ہو، وہاں آنے والی نسلوں کی شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
اسلام نے عورت کو جو مقام عطا کیا وہ ہمارے لیے روشن مثال ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت کی خوش خبری ہو یا بیٹیوں کی اچھی تربیت پر اجر کی بشارت، اسلام عورت کو عزت، تحفظ اور حقوق فراہم کرتا ہے۔ وراثت میں حصہ، نکاح میں رضامندی اور انسانی وقار کا تصور اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں بل کہ ایک مکمل انسان اور باعزت فرد ہے۔ لہٰذا مذہب کے نام پر عورت کے بنیادی حقوق سلب کرنا اسلام کی روح کے خلاف ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خواتین کے مسائل کو محض عالمی دنوں کی تقریبات اور رسمی نعروں تک محدود نہ رکھیں۔ آٹھ مارچ آئے تو عورت کے حقوق پر گفتگو اور باقی سال خاموشی، یہ رویہ مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے تبدیلی کا آغاز کرنا ہوگا۔ بیٹی کو بیٹے کی طرح تعلیم دیں، اس کی رائے سنیں، اسے وراثت کا حق دیں، اس کے ساتھ عزت سے پیش آئیں اور اسے یہ احساس دیں کہ وہ کسی سے کم نہیں۔ تبدیلی قانون سے ضرور آ سکتی ہے مگر اس کی بنیاد تربیت اور رویوں کی اصلاح سے پڑتی ہے۔
ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت بھی اسی شدت سے کرنا ہوگی۔ انھیں یہ سکھانا ہوگا کہ عورت کمزور نہیں، برابر کا انسان ہے۔ ماں کی عزت، بہن کا احترام، بیوی کے حقوق اور بیٹی کی محبت صرف اخلاقی تعلیم نہیں بل کہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہیں۔ جب ہماری تربیت نسلوں میں منتقل ہوگی تو شاید وہ دن بھی آئے گا جب عورت کو اپنے جائز حق کے لیے جنگ نہ لڑنی پڑے۔ اس کے خواب اس کی پہچان ہوں گے اور اس کی صلاحیت اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں طاقت بنے گی۔
وجودِ زن سے تصویرِ کائنات میں رنگ ہے مگر اس تصویر کے رنگ اس وقت ہی مکمل ہوں گے جب عورت کو خوف کے بجائے تحفظ، محرومی کے بجائے حق، خاموشی کے بجائے آواز اور امتیاز کے بجائے مساوات ملے گی۔ ہمیں عورت کو محض ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کے رشتوں سے نہیں بل کہ ایک مکمل انسان کی حیثیت سے بھی دیکھنا ہوگا۔ اس کے احترام کو احسان نہیں، اس کا بنیادی حق سمجھنا ہوگا۔
جس معاشرے میں عورت محفوظ، باعزت اور بااختیار ہو وہاں خاندان مضبوط ہوتے ہیں، نسلیں سنورتی ہیں اور قومیں ترقی کرتی ہیں۔ عورت کے وجود کو عزت دینا دراصل انسانی وجود کو عزت دینا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم صرف یہ نہیں کہیں گے کہ وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ بل کہ اپنے کردار سے ثابت بھی کریں گے کہ اس تصویر کا ہر رنگ محفوظ روشن اور باوقار ہے۔











