9

تصورِ پاکستان سے تصویرِ پاکستان تک: حمید علی

پاکستان محض ایک خطۂ زمین کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک ایسے خواب، نظریے اور جدوجہد کی عملی تصویر ہے جس کی بنیاد برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے جداگانہ تشخص، تہذیب، مذہب اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے رکھی۔ تصورِ پاکستان دراصل اس احساس سے جنم لیتا ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی، تہذیبی اور سماجی اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے کے لیے ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا اور قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اسی تصور کو منظم سیاسی جدوجہد کے ذریعے حقیقت میں بدل دیا۔ بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔

آزادی کا یہ سفر اگرچہ کامیابی پر منتج ہوا، مگر نومولود پاکستان کو ابتدا ہی سے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مہاجرین کی آباد کاری، وسائل کی کمی، انتظامی ڈھانچے کی تشکیل، معاشی مسائل اور دفاعی خطرات نے نئی ریاست کے لیے بڑے امتحانات کھڑے کر دیے۔ محدود وسائل کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمت نہ ہاری۔ قائدِ اعظم کی قیادت نے قوم کو اتحاد، ایمان اور تنظیم کا پیغام دیا اور یہی اصول پاکستان کے ابتدائی سفر میں قوت کا سرچشمہ بنے۔ ایک ایسی ریاست جس کے پاس وسائل کم تھے، اس نے عزم، محنت اور قربانی کے ذریعے اپنے قدم مضبوط کیے اور دنیا کو یہ احساس دلایا کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں، عزم سے بھی بنتی ہیں۔

پاکستان کی تاریخ ہمیشہ ایک ہی رفتار سے آگے نہیں بڑھی۔ ملک نے سیاسی عدم استحکام، آئینی بحران، جنگوں، معاشی مشکلات، دہشت گردی اور اندرونی اختلافات جیسے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ کبھی جمہوری نظام مضبوط ہوا تو کبھی سیاسی بحران نے ریاستی اداروں کو متاثر کیا۔ 1958ء کے بعد مارشل لا کا دور آیا، پھر جمہوری ادوار بھی دیکھنے میں آئے۔ 1971ء کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا ایک نہایت کرب ناک باب تھا، جب مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ یہ واقعہ پوری قوم کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا، مگر شکست کے اس لمحے میں بھی پاکستان نے خود کو سنبھالا اور ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

1973ء کا آئین پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس آئین نے ریاستی اداروں کے کردار، شہریوں کے بنیادی حقوق اور جمہوری نظام کے لیے ایک متفقہ فریم ورک فراہم کیا۔ اسی دور میں پاکستان نے دفاع، صنعت، تعلیم اور سائنس کے میدانوں میں بھی اپنی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش جاری رکھی۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اسی قومی عزم کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بالآخر 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو بتا دیا کہ وسائل کی کمی کسی قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔ پاکستان ایک باقاعدہ ایٹمی طاقت بن کر خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے والی ریاست کے طور پر سامنے آیا۔

پاکستان نے صرف دفاعی میدان میں ہی اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کیا، بل کہ عالمی سفارت کاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ سرد جنگ کے دور میں پاکستان نے عالمی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ افغانستان کے بحران، خطے کی بدلتی صورتِ حال اور مختلف عالمی تنازعات کے دوران پاکستان نے کئی مواقع پر سفارتی رابطوں، مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے اپنا کردار ادا کیا۔ پاکستان نے مختلف ملکوں کے درمیان رابطوں کے فروغ اور امن کی کوششوں میں بھی حصہ لیا۔ اس کی سفارتی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی طاقتیں کئی اہم علاقائی معاملات میں پاکستان کے جغرافیائی اور سیاسی کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ پاکستان نے کئی مواقع پر مشکل حالات میں مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی کوشش کی۔

دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک ایسا چیلنج بن کر سامنے آئی جس نے ریاست، معیشت اور معاشرے کو شدید متاثر کیا۔ ہزاروں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہل کاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ فوجی آپریشنز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور قوم کے اجتماعی عزم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف کسی ایک ادارے کی نہیں، بل کہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ امن و استحکام کے لیے آج بھی مسلسل جدوجہد جاری ہے اور قومی یک جہتی اس جدوجہد کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

معاشی میدان میں بھی پاکستان نے کئی ادوار میں بحرانوں کا سامنا کیا۔ کبھی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا، کبھی مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو پریشان کیا اور کبھی قرضوں کا بوجھ قومی معیشت کے لیے بڑا مسئلہ بنا۔ توانائی کا بحران، پانی کی کمی، آبادی میں تیزی سے اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کمزوریاں آج کے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔ مگر پاکستان کے پاس ایک بڑی اور نوجوان آبادی، زرعی وسائل، معدنی دولت، جغرافیائی اہمیت اور بے پناہ انسانی صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو درست منصوبہ بندی، شفاف نظام اور مستقل پالیسی کے ذریعے قومی ترقی میں تبدیل کیا جائے۔

پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام ہیں۔ یہی عوام ہیں جنہوں نے قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں، جنگوں میں اپنے جوانوں کو قربان کیا، قدرتی آفات میں ایک دوسرے کا سہارا بنے اور مشکل معاشی حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ آج پاکستان کے نوجوان ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، جدید ہنر، تحقیق، روزگار اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان پاکستان کو ایک مضبوط معاشی اور علمی قوت بنا سکتے ہیں۔ دنیا تیزی سے علم، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی اپنی ترجیحات جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوں گی۔

آج کا پاکستان تصورِ پاکستان سے تصویرِ پاکستان تک ایک طویل اور کٹھن سفر طے کر چکا ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جو مشکلات میں گھرا بھی، ٹوٹا بھی، سنبھلا بھی اور پھر اپنے قدموں پر کھڑا بھی ہوا۔ اس نے محدود وسائل سے اپنا دفاع مضبوط کیا، ایٹمی طاقت کا مقام حاصل کیا، دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور عالمی سفارت کاری میں اپنی اہمیت برقرار رکھی۔ مگر ابھی منزل مکمل نہیں ہوئی۔ اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب پاکستان معاشی طور پر مضبوط، سیاسی طور پر مستحکم، تعلیمی طور پر ترقی یافتہ، سماجی طور پر منصفانہ اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط ریاست بنے گا۔

تصورِ پاکستان ہمیں صرف ماضی کی قربانیوں کی یاد نہیں دلاتا، بل کہ مستقبل کی ذمہ داری بھی سونپتا ہے۔ پاکستان کا قیام ایک منزل نہیں، بل کہ ایک مسلسل سفر تھا، ہے اور رہے گا۔ اس سفر میں ہر نسل کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ کر اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ اگر ہم اتحاد، دیانت، قانون کی پاس داری، علم، تحقیق اور محنت کو اپنا شعار بنا لیں تو وہ پاکستان جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا، اسے ایک مضبوط حقیقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہی تصورِ پاکستان سے حقیقی تصویرِ پاکستان تک کا سفر ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی قومی ذمہ داری بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں