23

جشن آزادی مبارک :شمع صدیقی

میری طرف سے سب کو جشن آزادی مبارک،آ ج یہ الفاظ کہتے ہوے میرا دل رو رہا ہے کیونکہ مرے دل پر بہت بوجھ ہے میں اداس ہوں کہ ہم قیامت والے دن کیسے اپنے قائد محترم کا سامنا کرینگے انکو یہ کیسے بتاینگے گے وہ پاکستان جو ہمارے قائد نے انتھک کوششوں اور بڑی مشکلوں اور محنت سے ہمارے لیے اور ہماری آ نے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ پاکستان کے طور پر حاصل کیا تھا انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اب ایسا نہی رہا ۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ وہ پاکستان ہوتا جس کا خواب ہمارے ڈاکٹر علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جسکو عملی جامہ ہمارے عظیم قائد اعظم نے پہنایا تھا اور کس طرح وہ ناممکن کو ممکن کر پاے تھے یہ بات وہی ہمارے بزرگ جانتے ہیں جو اس وقت موجود تھے اور وہ ہمارے بزرگ ہمیشہ قائد اعظم کے ساتھ ساتھ کھڑے اس کڑے وقت میں بھی اور الحمدللہ سبکی کوششوں اور محنت کے ثمر میں اللہ کریم نے ہمیں پاکستان سے نوازا ۔
پھر ہم سب نے مل کر پاکستان کو سنوارا بہت محنت اور لگن کے ساتھ کیچھ نہ ہوتے ہوے بھی اس وقت ایک خوبصورت زندگی گزار رہے تھے اس احساس کے ساتھ کہ اب ہم آ زاد ہیں ہماری کوئی بال بھی بیکا نہی کر سکتا ہم سب اپنی مرضی سے ایک آ زاد زندگی گزاریں گے اور کوئی ہمیں اب ٹیڑھی نظر سے نہی دیکھ سکتا اور اسوقت سبکے جذبات اس بات کی غمازی کرتے تھے کہ ہم ایک آ زاد وطن کے باسی ہیں اور ہم یہ عہد بھی دھراتے ہیں کہ ہم ہمیشہ اپنے وطن کو سر بلند رکھنگے اور اس وطن کا چپہ چپہ اب ہم سبکی ذمداری ہے ہم اس کے رکھوالے ہیں اور کوئی جرآت نہ کرے ہم پر اب ٹیڑھی نظر ڈالنے کی ،،،جی قارئین ہم اس فخر کے ساتھ اپنی ایک آ زاد زندگی گزار رہے تھے کہ مرے ملک کو اک بری نظر لگ گئی ہم اپنے سیدھے رستے سے ہٹ کر الٹی سیدھی راہوں پر چلنے لگے ہم ہر احساس سے عاری ہو گیے ہمارے ساتھ ایک ایسا کھیل کھیلا گیا جو ہمارے دماغ پر حاوی ہو تا گیا اور ہم سب اسی کے پیچھے چل پڑے اور اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ گئے اور سب سے پہلے ہمارے اندر یہ احساس پیدا کیا گیا کہ جدید دنیا کے باسی بنیں اور اعلی درجے کے فیشن کریں اور ہمارے لباس عمدہ ہو حلانکہ لباس تو ہم اسوقت بھی عمدہ ہی استعمال کرتے تھے کہ جس سے ہماری پردہ مکمل ہوتا تھ جو دیکھنے میں بھی آ نکھوں کو بھلا لگتا تھا اور ہمارے لباس کے تقاضے جو جسم کو ڈھکنے کے لیے کافی تھے پھر ہمیں یہ احساس دلایا کہ لباس کی تراش خراش کیچھ اور ہونی چاہیے اور۔ ہماری خواتین کو اس طرف لایا گیا اور پھر زیادہ تر خواتین بس ہر وقت اسی سوچ میں رہنے لگیں کہ میں ایسا لباس پہنوں جب بھی کسی محفل میں جاؤں تو لوگ میجھے دیکھتے رہ جائیں وہ میرے لباس سے متاثر ہوں میری تعریف کریں اور ہر عورت بس ایسی بھاگ دوڑ میں رہنے لگی قارئین دشمنوں نے صرف یہ ہی نہی کیا جب انہوں نے دیکھا کہ اس قوم کو انکے مقصد سے ہٹانا بہت آ سان ہے تو انہوں نے ایک وار اورکیا ۔جو انکی پلاننگ کے مطابق بہت کامیاب ہوا۔
جی قارئین میں بات کر رہے تھی کہ میری پاک سر زمین پر کسطرح وار کیے گیے انہیں انکے مقصد سے ہٹانے کے لیے ۔اب جو دوسرا وار کیا وہ تو انتہائی گھٹیا بھی کہونگی اور خطرناک بھی وہ تو میرے علامہ اقبال کے شاہینوں کو لے ڈوبا اس وار نے ہمارے ملک کے تقریباً ہر نوجوان نسل کو ایسا جکڑا کہ وہ اپنی سدھ بدھ ہی کھو بیٹھے اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہ رہی ہوں کہ اس وار نے ان میں برے بھلے کی تمیز ہی کھو دی اب
ہمارے علامہ اقبال کے شاہینوں کے ہاتھ میں یہی ہتھیار ہے اور زندگی کے کسی بھی میدان میں ہوں وہ اس ہیتھیار موبائل کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں جہاں انہیں ذرا سا بھی موقع ملتا ہے وہ دنیا سے بے خبر اس میں کھو جاتے ہیں اور اپنے کام اور مقاصد کو بھلا دیتے ہیں۔
قارئین یہ دشمن کی وہ چال ہے جس نے ان نوجوانوں کو جنکے والدین نے اپنے محترم قائد سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی نسلوں کو قائد کے بناے ہوے اصولوں پر چلاینگے اپنے بچوں اپنی نسلوں کو پاکستان کا محافظ بنائینگے اور ہماری ملک اتنی ترقی کرے گا کہ دنیا دیکھتی رہ جاے گی اور وقت ایسا ہوا بھی ،مگر دشمن یہ نہی چاہتا تھا کہ ہم نے الگ ملک تو حاصل کر لیا اور اب یہاں ایک آزاد اور مرضی کی زندگی گزاریں ،تو انہوں نے میرے پیارے وطن کے علامہ اقبال کے شاہینوں کو بھٹکانے کے لیے چالیں شروع کر دیں اور وہ اپنی پلاننگ میں کامیاب بھی ہو گئے اور انہیں اپنے وطن کی ترقی کرتے یہ نوجوان بلکل بھی نہی بھاے تو انہوں نے انہیں بھٹکانے اور انکے مقصد سے ہٹانا شروع کر دیا،اور میرے وطن کے معصوم بچے، بچیاں ان ہتھکنڈوں کا شکار ہوتی رہیں اور آج سب ہی اسکے مضبوط جالوں میں پھنس چکے ہیں اور انہیں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس مقصد سے ہٹ چکی ہیں وہ نوجوان نسل جو ایک مقصد لے کر نکلی تھی ہم اتنی ترقی کر ینگے کہ دنیا پیچھے رہ جاے گی ۔
یہاں قارئین میں ایک بات کیطرف آپکی توجہ دلانا چاہتی ہوں کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں میں حوصلہ اور ہنر ہے کہ وہ چاہیں تو اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر دریاؤں کے رخ موڑ سکتے ہیں اور یہی بات تھی جو دشمنوں کو ہضم نہی ہورہی تھی کہ اگر یہ سب پاکستانی نوجوان ایک ہو گیے تو ہماری یہاں کوئی بھی کاروائی کامیاب نہی ہوسکے گی اور یہی بات سوچ کر انہوں نے ان نوجوانوں کو راہ سے بھٹکا دیا اور انکی یہ چالیں میرے وطن کے شاہینوں کو مسلسل بھٹکا رہیں ہیں اور انہیں انکے مقصد سے ہٹا رہیں ہیں ۔ اور دشمنوں نے یہاں پر ہی بس نہی کیا بلکہ اب موبائل میں ہزاروں قسم کے دیدہ زیب نظاروں کہانیوں ۔فلموں گانوں اور بے انتہا آپشنز کا اضافی کر کے اسکو پرکشش بنا دیا ہے اور اگر اسکو وہ چھوڑنا بھی چاہیں تو نہی چھوڑ سکتے اور یہ زندگی کا وہ عذاب ہی کہونگی کہ ہزاروں نوجوانوں کی جانیں لے چکا ہے تک ٹاک کے چکر میں ،ہزاروں بچیاں بے راہروی کا شکار ہو گئی ہیں اور بے شمار گھر ٹوٹ چکے ہیں زندگی اک وبال بن گئی ہے والدین اپنی اولاد کے آ گے بےبس نظر آتے ہیں مگر یہ ہاتھوں سے چھوٹتا ہی نہی کہ کس طرح اس سے راہ فرار اختیار کی جاے اور اپنے جوانوں کو دوبارہ انکے مقصد کی طرف لایا جائے ۔
اور قارئین ہمارے نوجوان نسل کو اس طرف لگا کر ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بچوں کو اس میں مصروف کر کے دشمن اپنا کام آسانی سے کرنا چاہ رہا ہے ۔
اب وقت کی ایک بہت اھم ضرورت ہے کہ ان بچوں کو دشمن کے ہتھکنڈوں سے بچانے کے لیے ایسی لاحلہ عمل تیار کیا جاے کہ ہماری نوجوان نسل اس سےچھٹکارا پا سکے تاکہ وہ اپنے ملک پہ توجہ دیں اور یہاں ایک بات میں ضرور کہنا چاہوں گی کہ ہمارے یہ نوجوان انتہائی ذھین اور فطین بچے ہیں انکو اس بات کا احساس دلانا ضروری ہے اور خاص طور پر جو شعر علامہ اقبال نے اپنے نوجوان کے لیے کہا کہ
۔،،محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ،,,,,,ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند،،،،
اور انشاللہ وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنے ان نوجوانوں کو دنیا فتح کرنے دیکھنگے اپنی آ نکھوں سے اور یہی نوجوان دنیا سے اپنی طاقت کا لوہا منواینگے انشاللہ
اور قارئین یہاں والدین کو بھی اپنے فرائض منصبی ادا کرنے ہونگے اپنی اولاد سے وابستہ امیدوں کو کامیاب کرنے کے لیے انہیں دین کی طرف لانا ہوگا انہیں نماز کا پابند کرنا ہوگا اور انشاللہ جب یہ نوجوان اللہ کریم کر احکامات پر عمل پیرا ہونگے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں کامیاب ہوئے سے نہی ہٹا سکتی۔اور انہی نوجوانوں کے لیے ہمارے علامہ اقبال نے کہا ،،،،
نہی ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی ۔۔

دعاگو ،،،شمع صدیقی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں