پانی کا ہر قطرہ ۔۔۔ آنے والی نسلوں کی امانت
قدرت بعض اوقات قوموں کو ایسے وسائل عطا کرتی ہے جو ان کی ترقی، خوش حالی اور بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔ اگر قوم باشعور ہو تو ان وسائل کو ترقی دے کر اپنا مقدر بدل لیتی ہے جبکہ انہی وسائل کی ناقدری قوموں کو بحرانوں کے دہانے پر بھی لا کھڑا کرتی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں کبھی دریاؤں کا پانی فراوانی کی علامت سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہی ملک پانی کی قلت، زیرِ زمین آبی ذخائر میں مسلسل کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں تک پانی کو ایک لامحدود نعمت سمجھ کر ضائع کیا، حالانکہ دنیا اسے مستقبل کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دے رہی تھی۔ اس سنگین لاپرواہی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کی لکیر پیٹنے سے بہتر ہے کہ مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اس کاحل تلاش کیا جائے کہ ابھی وقت ہے، کل کو یہ وقت بھی گزر گیا تو پچھتاوا ہی باقی رہ جائے گا۔
ہارے ملک میں ہر سال مون سون کی بارشیں اور سیلابی ریلے اربوں گیلن پانی اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ یہ پانی ایک طرف انسانی جانوں، مکانات، فصلوں، مویشیوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچاتا ہے تو دوسری طرف چند ہی ہفتوں بعد بغیر کسی منصوبہ بندی کے دریاؤں سے گزر کر سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہی ملک جو پانی کی فراوانی سے پریشان ہوتا ہے چند ماہ بعد خشک سالی، پانی کی قلت اور پینے کے صاف پانی کے بحران کا شکار نظر آتا ہے۔ گویا ایک ہی سرزمین پر پانی کی زیادتی بھی مصیبت بن جاتی ہے اور اس کی کمی بھی۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک یہ تضاد ہماری قومی پالیسی کا حصہ بنا رہے گا؟
خوش آئند امر یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے کم از کم اس مسئلے کو وقتی سیاسی نعرے کے بجائے ایک مستقل قومی چیلنج کے طور پر دیکھنا شروع کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں صوبے کے بارانی علاقوں، خصوصاً پوٹھوہار کے لیے آئندہ تین برسوں میں مزید 800 منی ڈیمز کی تعمیر کی منظوری اسی سوچ کی عکاس ہے۔ اس سے پہلے 110 منی ڈیمز کی تکمیل بھی ایک اہم پیش رفت ہے، جن کے ذریعے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا عملی آغاز ہو چکا ہے۔ نئے منصوبے سے 32 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی، جو صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں لاکھوں انسانوں، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور پورے خطے کے ماحول کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ یہ ذخیرہ شدہ پانی اس خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے جس کی فصلوں کا دارومدار بارانِ رحمت پر ہے۔ جہاں انسانوں کے پینے کے پانی کی بھی قلت ہے۔
قیادت کی اصل پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ صرف آج کے مسائل نہیں دیکھتی بلکہ آنے والے کل کے خطرات کو بھی محسوس کرتی ہے۔ اسی معیار پر اگر موجودہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کئی ایسے اقدامات کی بنیاد رکھی ہے جو محض وقتی ریلیف نہیں بلکہ دیرپا اصلاحات کی سمت اشارہ کرتے ہیں۔ “ستھرا پنجاب” پروگرام کے ذریعے صفائی کے نظام کو ایک منظم ڈھانچے میں لانے کی کوشش ہو، ماحول دوست گرین بس منصوبے کے ذریعے جدید اور کم آلودگی والی سفری سہولتوں کا فروغ ہو، دیہی و شہری انفراسٹرکچر کی بہتری، کسانوں کے لیے جدید زرعی مشینری پر سبسڈی، فیلڈ ہسپتال، “کلینک آن ویلز”، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی عوامی خدمات یا اب پانی کے تحفظ کے لیے منی ڈیمز اور ری چارج ویلز کی تعمیر، ان تمام اقدامات میں ایک مشترک پہلو نمایاں نظر آتا ہے کہ مسائل کو محض وقتی انتظامی فیصلوں سے نہیں بلکہ مستقل ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حل کیا جائے۔ یہی وہ وژن ہے جو کامیاب حکومتوں کو عام حکومتوں سے ممتاز کرتا ہے۔
آج پاکستان کا ایک اور بڑا المیہ زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح ہے۔ پنجاب کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں لاکھوں ٹیوب ویل دن رات زمین کا پانی کھینچ رہے ہیں، مگر اسے واپس زمین میں پہنچانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ نتیجتاً ہر گزرتے سال کے ساتھ پانی مزید گہرائی میں جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں صاف پانی کی دستیابی ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ری چارج ویلز کی تعمیر کی منظوری نہایت بروقت اور دور اندیش فیصلہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک برسوں پہلے بارش کے پانی کو دوبارہ زمین میں جذب کرنے کے نظام اختیار کر چکے ہیں۔ اگر پنجاب بھی اسی سمت مسلسل آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہوگی بلکہ سیلابی پانی کے نقصانات میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔
البتہ اس قومی مقصد کو صرف سرکاری محکموں تک محدود رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ نجی شعبے کو بھی اس مہم کا حصہ بنائے۔ ہر نئی ہاؤسنگ سکیم، ہر بڑے صنعتی منصوبے اور ہر کمرشل کمپلیکس کے لیے ری چارج ویلز اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا نظام لازمی قرار دیا جائے۔ اسی طرح بلدیاتی اداروں کے ذریعے پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ری چارج ویلز کا جال بچھایا جائے تاکہ بارش اور سیلابی پانی کو ضائع ہونے کے بجائے زمین کے قدرتی ذخائر میں منتقل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں پانی کی بچت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ حکومتیں منصوبے بنا سکتی ہیں، مگر ان کی کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایسے بڑے ترقیاتی منصوبے صرف ماحول یا زراعت تک محدود فوائد نہیں رکھتے بلکہ معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ڈیموں، ری چارج ویلز، نہروں اور آبی ڈھانچے کی تعمیر سے ہزاروں افراد کو روزگار ملتا ہے، مقامی صنعت متحرک ہوتی ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور دیہی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ یوں ایک منصوبہ کئی شعبوں میں ترقی کا محرک بن جاتا ہے۔
پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ جو قومیں آج اس امانت کی حفاظت کریں گی، وہی کل خوش حالی اور استحکام سے ہمکنار ہوں گی۔ پنجاب میں 110 منی ڈیمز کی تعمیر اور مزید 800 منی ڈیمز کی منظوری اس سمت ایک مثبت، حوصلہ افزا اور دور رس قدم ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا، کیونکہ مضبوط قومیں مسائل کو ورثے میں نہیں چھوڑتیں، بلکہ ان کا حل بھی آئندہ نسلوں کے لیے چھوڑ کر جاتی ہیں۔
81











