16

جین زی: پاکستان میں مزاحمت کی نئی نسل حمید علی

ہر عہد کی اپنی ایک شناخت ہوتی ہے۔ کوئی نسل روایت کی امین کہلاتی ہے، کوئی ترقی کی علامت بنتی ہے، اور کوئی اپنے سوالوں، خوابوں اور مزاحمت کے سبب تاریخ میں جگہ بناتی ہے۔ اکیسویں صدی کی نئی نسل، جسے دنیا جین زی (Generation Z) کے نام سے جانتی ہے، انہی نسلوں میں شامل ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو تقریباً 1997ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہوئے، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ پروان چڑھے، اور جنہوں نے معلومات تک رسائی کو اپنی سب سے بڑی قوت بنا لیا۔ پاکستان میں بھی جین زی ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے، جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

پاکستانی معاشرے میں مزاحمت کی روایت نئی نہیں۔ اس سرزمین نے آمریت، ناانصافی، سماجی جبر، صنفی امتیاز، معاشی ناہمواری اور اظہارِ رائے پر قدغن جیسے کئی ادوار دیکھے ہیں۔ تاہم، جین زی کی مزاحمت اپنے انداز، زبان اور ذرائع کے اعتبار سے گزشتہ نسلوں سے مختلف ہے۔ یہ نسل صرف جلسوں اور جلوسوں تک محدود نہیں، بل کہ موبائل فون، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل مہمات، ویڈیوز، پوڈکاسٹس اور تخلیقی اظہار کے ذریعے بھی اپنا مؤقف دنیا تک پہنچاتی ہے۔

پاکستان کا نوجوان آج بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی مسائل، ذہنی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور محدود مواقع جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ یہی مسائل اس نسل کو سوال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جین زی ہر روایت کو آنکھیں بند کر کے قبول کرنے کے بہ جائے اس کی منطق تلاش کرتی ہے۔ وہ جواب چاہتی ہے، احتساب چاہتی ہے اور شفافیت کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہی رویہ بعض حلقوں کو بغاوت محسوس ہوتا ہے، حالاں کہ بہت سے نوجوان اسے مثبت تبدیلی کی جدوجہد سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں مزاحمت کا ایک اہم پہلو اظہارِ رائے ہے۔ نوجوان اب اپنے خیالات کو صرف نجی محفلوں تک محدود نہیں رکھتے، بل کہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سماجی، تعلیمی، ماحولیاتی اور سیاسی موضوعات پر اپنی آرا پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ اس اظہار کے نتیجے میں کبھی تنقید، مخالفت یا سماجی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ نسل اپنی آواز بلند کرنے سے گریز نہیں کرتی۔

جین زی کی مزاحمت صرف سیاسی نہیں، بل کہ سماجی بھی ہے۔ یہ نسل خواتین کی تعلیم، بچوں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ، ذہنی صحت، معیاری تعلیم، میرٹ اور مساوی مواقع جیسے موضوعات پر بھی سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ رضاکارانہ مہمات، آگاہی پروگرام، سماجی تنظیموں میں شرکت اور آن لائن مہمات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نوجوان صرف تنقید نہیں کرتے، بل کہ بہت سے مواقع پر عملی کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم، اس نسل کی مزاحمت پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ بعض ناقدین کے نزدیک سوشل میڈیا پر ہونے والا احتجاج عارضی اور جذباتی ہوتا ہے، جو زمینی سطح پر دیرپا تبدیلی پیدا کرنے میں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔ بعض اوقات نامکمل معلومات، افواہوں یا جذباتی بیانیوں کی وجہ سے غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مزاحمت تحقیق، دلیل، برداشت اور ذمہ داری کے ساتھ کی جائے، تا کہ اختلاف تعمیری مکالمے میں تبدیل ہو سکے۔

پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر جین زی اپنی توانائی، تخلیقی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل مہارت کو مثبت سمت میں استعمال کرے تو وہ معاشرے میں بہتر طرزِ حکمرانی، علمی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور قومی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر یہ قوت نفرت، تقسیم یا غیر مصدقہ معلومات کے فروغ میں استعمال ہو تو اس کے منفی اثرات بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔

مزاحمت کا اصل مقصد محض مخالفت نہیں، بل کہ اصلاح، انصاف اور بہتری کی جستجو ہونا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی تحریکیں دیرپا اثرات چھوڑتی ہیں، جو دلیل، برداشت، شعور اور مثبت عمل پر قائم ہوں۔ پاکستان کی جین زی کے سامنے بھی یہی امتحان ہے کہ وہ اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھے، اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں رکھے اور قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم جانے۔

تعلیمی اداروں، خاندانوں، ذرائع ابلاغ اور ریاستی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی آواز سنیں، ان کے سوالات کو اہمیت دیں اور انہیں قومی ترقی کے عمل میں شریک کریں۔ کسی بھی معاشرے میں نوجوانوں کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بہ جائے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع فراہم کرنا زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔

جین زی پاکستان کا حال بھی ہے اور مستقبل بھی۔ یہ نسل اگرچہ روایت سے مختلف انداز میں سوچتی اور اظہار کرتی ہے، مگر اس کے اندر بہتر پاکستان کا خواب بھی موجود ہے۔ مزاحمت اس وقت بامقصد بنتی ہے، جب اس کا رخ تعمیر، انصاف، علم اور مکالمے کی طرف ہو۔ اگر پاکستان کی جین زی اپنی فکری آزادی کو ذمہ داری، تحقیق اور اخلاقی شعور کے ساتھ جوڑ دے تو وہ محض ایک نسل نہیں، بل کہ قومی تبدیلی کی ایک مضبوط قوت ثابت ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں