ریاست اپنے ملازمین سے صرف کام نہیں لیتی بلکہ ان سے ان کی جوانی، صحت، صلاحیت اور زندگی کے بہترین سال بھی لے لیتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم تیس سے پینتیس سال تک وقت کی پابندی، قانون کی پاسداری اور عوامی خدمت کا فرض ادا کرتا ہے۔ وہ گرمی، سردی، بارش، مہنگائی اور بے شمار مشکلات کے باوجود اپنے فرائض انجام دیتا ہے، اس امید پر کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسے باوقار زندگی نصیب ہوگی۔
لیکن افسوس کہ حقیقت اس امید کے برعکس ہے۔
آج پنجاب کا ایک گریڈ 18 کا افسر بھی ریٹائرمنٹ کے بعد اتنی مالی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ اپنی اولاد کی شادیاں باعزت انداز میں کر سکے یا زندگی بھر کی ملازمت کے بعد اپنے لیے ایک چھت تعمیر کر سکے۔ دورانِ ملازمت اس کی تنخواہ گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ ضروریات پوری کرتے کرتے ختم ہو جاتی ہے۔ بچت کا خواب اکثر خواب ہی رہ جاتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جب اسے سکون ملنا چاہیے، تب اس کی آمدنی کم ہو جاتی ہے، اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور بیماریوں کا بوجھ الگ اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے میں پنشن ہی اس کا واحد سہارا ہوتی ہے۔
2 دسمبر 2024 کو جاری ہونے والے پنشن اصلاحات کے نوٹیفکیشن نے سرکاری ملازمین کے دلوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ملازمین محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مستقبل کے معاشی تحفظ کو مزید کمزور کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص نے اپنی پوری زندگی ریاست کی خدمت میں گزار دی تو کیا اس کا بڑھاپا مالی پریشانی، بے یقینی اور محتاجی میں گزرنا چاہیے؟
اگر گریڈ 18 کے افسر کے حالات ایسے ہیں تو گریڈ 1 سے 17 تک کے لاکھوں ملازمین کس کرب سے گزرتے ہوں گے؟ یہ وہ طبقہ ہے جو پہلے ہی محدود آمدنی میں اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس کے لیے زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سرکاری ملازمین کسی پر احسان نہیں کرتے، بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ریاست کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح ریاست پر بھی یہ اخلاقی اور آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی ریٹائرمنٹ کو معاشی بے یقینی میں نہ بدلنے دے۔
مالی مشکلات اپنی جگہ، مگر ان کا حل صرف یہ نہیں کہ ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق محدود کر دیے جائیں۔ ایسے فیصلے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں، نوجوانوں کی سرکاری ملازمت میں دلچسپی گھٹاتے ہیں اور خدمت کرنے والوں کے حوصلے پست کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ وہ 2 دسمبر 2024 کے پنشن اصلاحات کے نوٹیفکیشن پر نظرثانی کریں، ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کو اعتماد میں لیں اور ایسا منصفانہ نظام وضع کریں جو ریاستی وسائل اور سرکاری ملازمین دونوں کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔
ایک فلاحی ریاست کی پہچان یہ نہیں کہ وہ اپنے ملازمین سے کتنا کام لیتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان کی زندگی بھر کی خدمت کا صلہ کس عزت، احترام اور معاشی تحفظ کے ساتھ دیتی ہے۔ سرکاری ملازمین کی یہ آواز صرف ان کی اپنی نہیں، بلکہ انصاف، انسانیت اور ریاستی ذمہ داری کی آواز ہے۔











