قوموں کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب اختلافات کی بلند دیواریں بھی وطن کے نام پر خود بخود گر جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں نہ سیاسی وابستگی دیکھی جاتی ہے، نہ نظریاتی تقسیم، نہ ذاتی پسند و ناپسند۔ صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے: کیا ہم اپنے وطن اور اس کے محافظوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟
گزشتہ چند روز سے پاکستان، بالخصوص بلوچستان ، گودار اور کراچی میں، دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، چیک پوسٹوں اور ہیڈ کوارٹرز پر حملے کیے جا رہے ہیں اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دہشت گرد اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ پاکستان کو میدانِ جنگ میں شکست نہیں دے سکتے، اس لیے ان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ قوم کے حوصلے توڑ دیے جائیں، عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی دیوار میں دراڑ ڈال دی جائے اور خوف کو ہماری اجتماعی نفسیات پر مسلط کر دیا جائے۔
مگر شاید دہشت گرد ہر بار ایک حقیقت بھول جاتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں میں اختلافات ضرور ہیں، لیکن جب وطن کی سلامتی کا سوال اٹھتا ہے تو یہی قوم ایک پرچم تلے جمع ہونا جانتی ہے۔ اس کی ایک روشن مثال وہ قومی یک جہتی تھی جو آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پوری دنیا نے دیکھی۔ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی اور دشمن کو واضح پیغام ملا تھا کہ پاکستانی قوم کو تقسیم کرنا آسان نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی اداروں کی پالیسیوں پر تنقید ہو سکتی ہے، حکومتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور مختلف معاملات پر الگ الگ آرا رکھی جا سکتی ہیں۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ لیکن ایک سپاہی، جو سرحد پر کھڑا اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی انجام دے رہا ہے، اسے سیاسی اختلافات کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے سینے پر لگنے والی گولی یہ نہیں پوچھتی کہ اس کی رائے کیا ہے، اس کا تعلق کس علاقے سے ہے یا وہ کس سوچ کا حامل ہے۔ وہ صرف پاکستان کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کرتا ہے۔
ہمارے جوانوں نے اس وطن کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، ان کی قیمت کسی لفظ میں ادا نہیں کی جا سکتی۔ کسی ماں نے اپنا بیٹا کھویا، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا، کسی بہن کا بھائی وطن پر نثار ہو گیا اور کسی بیوی کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ وہ داستانیں ہیں جن پر پاکستان کے امن کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
دہشت گردوں کا مقصد صرف جانیں لینا نہیں ہوتا، بل کہ وہ قوم کے اعتماد کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے پر شک کریں، اپنے محافظوں سے بدظن ہو جائیں اور داخلی انتشار کا شکار ہو جائیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی خواہش ہے، اور یہی وہ خواہش ہے جسے ناکام بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آج سوشل میڈیا کے دور میں ایک اور محاذ بھی کھل چکا ہے۔ افواہیں، غیر مصدقہ خبریں اور اشتعال انگیز بیانیے پل بھر میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے میں ہر پاکستانی پر لازم ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، صرف مستند معلومات پر یقین کرے اور کسی ایسے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنے جو دشمن کے مقاصد کو تقویت دے۔
بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا، سندھ ہو یا پنجاب، اس دھرتی پر بہنے والا ہر قطرۂ خون ہم سب کا مشترکہ دکھ ہے۔ دہشت گرد نہ کسی صوبے کے خیر خواہ ہیں اور نہ کسی قومیت کے۔ ان کا واحد مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ اس لیے ہمارا جواب بھی صرف ایک ہونا چاہیے: اتحاد، حوصلہ اور استقامت۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے تمام داخلی اختلافات کو قومی سلامتی سے الگ رکھیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، سیاسی بحثیں بھی جاری رہتی ہیں، لیکن وطن ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اگر وطن محفوظ ہے تو اختلافِ رائے بھی محفوظ ہے، جمہوریت بھی محفوظ ہے اور ہمارا مستقبل بھی محفوظ ہے۔
دہشت گردوں کے لیے ہمارا پیغام بالکل واضح ہونا چاہیے تم ہمارے جوانوں کو نشانہ بنا سکتے ہو، لیکن ہمارے حوصلے نہیں توڑ سکتے۔ تم حملے کر سکتے ہو، مگر پاکستان سے محبت کرنے والے دلوں کو تقسیم نہیں کر سکتے۔ یہ قوم پہلے بھی اپنے شہداء کے خون کی امین تھی، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔
پاکستان کے محافظوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، سیاست اپنی جگہ، لیکن جب بات پاکستان کی ہو گی تو ہمارا مؤقف صرف ایک ہو گا: وطن سب سے پہلے، اور وطن کے محافظ ہمارے احترام اور حمایت کے مستحق ہیں۔











