7

بامقصد مذاکرات اتحاد ویکجہتی وقت کی اہم ضرورت۔ طارق ندیم درانی


فوری اعتماد سازی کے اقدامات ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں
حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں؛ تصادم نہیں، مذاکرات ہی بحران کا باوقار اور پائیدار حل ہیں
آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک نہایت نازک، حساس اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ موجودہ کشیدگی نے نہ صرف سیاسی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی، کاروبار، تعلیم، نقل و حمل اور مجموعی ریاستی استحکام کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ایسے حالات میں حکومت ہو یا عوامی ایکشن کمیٹی دونوں پر یکساں قومی، آئینی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے فیصلوں، بیانات اور اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی، بداعتمادی اور محاذ آرائی میں مزید اضافہ کریں۔ سیاست اور عوامی تحریکوں میں انتہا پسندی، ضد، غیر لچکدار رویوں اور مسلسل تصادم کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
بالغ اور ذمہ دار قیادت کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ اختلافات کو طاقت یا محاذ آرائی سے نہیں بلکہ تحمل، تدبر، مفاہمت اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی اور عوامی بحرانوں کا دیرپا حل طاقت کے استعمال یا سخت مؤقف سے نہیں بلکہ اعتماد سازی، قانون کی حکمرانی، انصاف، برداشت اور مسلسل مکالمے سے نکلتا ہے۔
جب ریاستی قیادت اور عوامی قیادت وسیع تر عوامی اور قومی مفاد کو مقدم رکھتی ہیں تو مشکل ترین بحران بھی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
حکومت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے، غیر ملوث زیرِ حراست افراد کی رہائی کو یقینی بنائے، غیر ضروری گرفتاریوں، چھاپوں اور سخت کارروائیوں کا سلسلہ محدود کرے، اور پہلے سے طے شدہ معاہدوں پر مکمل، شفاف اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
ایسے اقدامات کسی کمزوری کا اظہار نہیں بلکہ ایک مضبوط، بااعتماد اور عوام دوست ریاستی طرزِ عمل کی علامت ہوتے ہیں، جو مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔
دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی پر بھی اتنی ہی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وسیع تر عوامی اور قومی مفاد، انسانی جانوں کے تحفظ، امن و امان اور آزاد جموں و کشمیر کے استحکام کو ہر دوسرے مفاد پر مقدم رکھتے ہوئے، اگر حکومت اعتماد سازی کے عملی اقدامات کا آغاز کرے، تو اپنے احتجاج اور دھرنے کو عارضی طور پر مؤخر کرنے پر سنجیدگی سے غور کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنی جدوجہد، احتجاج اور تمام سیاسی سرگرمیوں کو آئینی، قانونی اور پُرامن دائرۂ کار کے اندر رکھتے ہوئے آگے بڑھانا چاہیے۔
ایک منظم، ذمہ دار اور قانون کے دائرے میں رہنے والی عوامی تحریک نہ صرف اپنی اخلاقی ساکھ کو مضبوط کرتی ہے بلکہ اپنے مطالبات کو زیادہ مؤثر، باوقار اور قابلِ قبول انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتی ہے۔
اسی تناظر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر بظاہر مفاہمت، اعتدال اور مذاکرات کے حامی راہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ موجودہ حالات میں ان کی گرفتاری نے اعتماد سازی کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کی سلامتی اور قانونی حقوق کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، اور اگر قانونی تقاضوں کے مطابق ممکن ہو تو ان کی رہائی پر بھی غور کیا جائے تاکہ اعتماد سازی اور مذاکرات کے عمل کو مزید تقویت مل سکے۔یہ وقت سیاسی برتری ثابت کرنے، طاقت کا اظہار کرنے یا ایک دوسرے کو شکست دینے کا نہیں بلکہ عوام کے دکھ درد کو کم کرنے، ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرنے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا ہے۔
حکومت کو تحمل، فراخ دلی، آئینی بالادستی اور قانون کی یکساں عملداری کا عملی ثبوت دینا چاہیے، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی ذمہ دار، پُرامن اور آئینی جدوجہد کی روایت کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ دونوں فریقوں کو اشتعال انگیز بیانات، غیر ضروری سخت مؤقف، نفرت انگیز زبان اور ایسے اقدامات سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے جو فاصلے بڑھائیں، بداعتمادی پیدا کریں اور مذاکرات کے دروازے بند کر دیں۔ہم سب کی بھی ایک مشترکہ قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ موجودہ حالات میں ہر فرد، ہر سیاسی و سماجی جماعت، ہر تنظیم، ہر ادارہ، ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو جذبات بھڑکانے، اشتعال انگیزی پھیلانے یا تقسیم کو گہرا کرنے کے بجائے امن، برداشت، ذمہ داری اور مفاہمت کا کردار ادا کرنا چاھئیے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن نفرت، اشتعال اور تصادم کسی بھی معاشرے کو کمزور کر دیتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص آگ بھڑکانے والا نہیں بلکہ آگ بجھانے والا بنے، فاصلے بڑھانے والا نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے والا بنے، اور اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کرے۔ یہی ایک مہذب، باشعور اور ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام مزید کشیدگی، جانی نقصان، معاشی جمود اور سیاسی عدم استحکام کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
آج قیادت اور معاشرے دونوں کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ وقتی جذبات، سیاسی مفادات اور محاذ آرائی سے بلند ہو کر ریاست، عوام اور آنے والی نسلوں کے مفاد کو مقدم رکھیں۔ اگر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی فوری اعتماد سازی کے اقدامات کریں، باہمی احترام کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کریں، اور معاشرے کا ہر فرد امن، برداشت اور ذمہ داری کا علمبردار بن جائے تو موجودہ بحران نہ صرف پرامن انداز میں حل ہو سکتا ہے بلکہ آزاد جموں و کشمیر میں پائیدار امن، مضبوط جمہوری روایات، عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور ایک محفوظ و روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے اور تجزیے پر مبنی ہے، جس کا مقصد وسیع تر عوامی مفاد، پائیدار امن، آئین و قانون کی بالادستی اور بامقصد مکالمے کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔ اختلافِ رائے ہر قاری کا حق ہے، اور اس تحریر کا مقصد کسی فرد، جماعت یا ادارے کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ امن، برداشت اور مفاہمت کی سوچ کو فروغ دینا ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں