جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی JAAC کی سرگرمیوں اور احتجاج نے آزادکشمیر جیسے پرامن خطے کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے عام آدمی سے متعلقہ 2 مطالبات آٹے اور بجلی سے شروع ہہونے والی تحریک ابتدائی دونوں مطالبات منظور ہونے کے بعد 38مطالبات اور پھر بعض انتہائی انوکھے اور عجیب وغریب اضافی مطالبات تک جا پہنچی اورآخر میں ایک دو مطالبات خاص طور پر مہاجرین کی نشستوں پر ڈیڈلاک کا شکار ہوگئی راولاکوٹ دریک میں جاری دھرنے میں بعض مقررین کی باغیانہ تقاریر نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے لاک ڈاون اور ٹرانسپورٹ کی بندش سے عوام الناس کی زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے آج اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ JAAC کے احتجاج سے آزادکشمیر کے عوام نے کیا کھویا کیا پایا۔
گزشتہ 15/16 سال سے آزادکشمیر میں اقتدار کے میوزیکل چئیر کے کھیل نے سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا بار بار وزرائے اعظم کی تبدیلی، مرکزی حکومت اور خفیہ اداروں کی مداخلت، ممبران اسمبلی کی آئے روز کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی روش ،حکومتی کرپشن، بدانتظامی، نااہلیوں اور شاہ خرچیوں نے عام آدمی کو سیاست و نظام حکومت سے بد ظن کردیا ہوا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جب سستے آٹے اور سستی بجلی کے نام پر JAAC نے احتجاجی سرگرمیوں کا آغاز کیا تو اسے عوام کی طرف سے بلاتخصیص پذیرائی ملی اور جب یہ دونوں مطالبات منظور کرلئے گئے تو اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا اس احتجاج کے دوران مظاہرین کی طرف سے تشدد، توڑ پھوڑ، گالی گلوچ بدزبانی نے آزادکشمیر کے ادب و احترام اور شرافت اور شائستگی پر مبنی سیاسی و سماجی کلچر کو شدید نقصان پہنچایا نفرت دشمنی اور بدتہذیبی کی ایسی دیواریں کھڑی کی گئیں جو مدتوں ختم نہیں ہوں گی
اگرچہ ہر زندہ اور بیدار شہری کو نہ صرف اپنے حقوق اور مسائل سے آگاہی پونی چاہئے بلکہ اس کے لئے اسے عملی جدوجہد بھی کرنی چاہئیے قانون اور سیاسیات کے ایک طالبعلم کی حثیت سے میں ذاتی طور پر بھی عوامی حقوق اور ان کے لئے عملی جدوجہد کا علمبردار ہوں لیکن آزادکشمیر ایک انتہائی حساس خطہ پے جس کے مسلہ کشمیر کے تناظر میں مخصوص حالات ہیں ہیاں کسی سو فیصد جائز حق کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے بھی بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ ہوجائے جس سے مسئلہ کشمیر کو یا مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو نقصان پہنچے یا کشمیر اور پاکستان کے لازوال رشتے میں کوئی دراڑ پڑے یا ہمارے ازلی دشمن ھندوستان کو کوئی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے ۔موجودہ احتجاجی تحریک کے دوران لگتا ہے ان تینوں باتوں کے سرزد ہونے کا پورا اہتمام کیا گیا ہر وہ بات کی گئی جس سے لوگ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو بھول کر صرف آزادکشمیر پر ہی توجہ مبذول کریں اہل پاکستان اور اہل کشمیر جو کہ ہر دوسرے پاکستانی سے بڑھ کر پاکستانی ہیں ،کے مابین لازوال رشتے کو شدید نقصان پہنچے اور ھندوستان کو 78 سالوں میں پہلی دفعہ خوشی کے شادیانے بجانے کا موقع ملا۔ اآزادکشمیر ہمیشہ امن و امان اور باہمی رواداری کا گہوارہ رہا ہے لیکن اس تحریک نے آزادکشمیر جسے پرامن خطے کو جس بدامنی کی طرف دھکیلا اس کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی۔ ھندوستان لاکھ جتن کرنے کے باوجود آزادکشمیر میں بدامنی نہیں پھیلا سکا پہلی مرتبہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب پوگیا اور دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں ھندوستانی مظالم ، جبرو استبداد اور حق خود ارادیت کی جدوجہد سے ہٹ کر آزادکشمیر کی طرف مبذول پوئی
بیرون ملک ڈائسپورا بھی اس مرحلے پر جذباتی ماحول کا شکار ہو کر احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھا گزشتہ 78 برسوں میں تارکین وطن ھندوستانی ایمبیسیز اور ہائی کمشنز کے سامنے حق خود ارادیت کی آواز اٹھاتے رہے ھندوستان اسے کبھی کاونٹر نہیں کرسکا پہلی مرتبہ ہمارے لوگوں کی عقل و دانش پر پردہ پڑھ گیا اور وہ ھندوستانی ایمبیسیز کے بجائے پاکستانی کمیشن کے سامنے سراپا احتجاج تھے
یہ بات بھی اب کوئی راز نہیں رپی کہ ہمارے کچھ نیشلسٹ را کے پے رول پہ ہیں اور وہ ھندوستانی ایجنڈے کی تکمیل میں سرگرداں ہیں انہیں اس کے لئے بھاری معاوضہ ملتا ہے برطانیہ اور یورپ میں یپی عناصر تھے جنہوں نے پاکستانی ہائی کمیشنز کے سامنے اپنے ہی لوگوں کو لاکھڑا کیا لیکن عام تارکین وطن اس سازش کو بھانپ نہیں سکے اور جذباتیت کا شکار ہوگئے
اگرچہ JAAC کے ابتدا میں عوامی حقوق سے متعلقہ مطالبات درست تھے تاہم ان کا تشدد، نفرت، بدزبانی ، قتل و غارت ،گالم گلوچ اور بد تہذیبی پر مبنی طریقہ کار انتہائی قابل اعتراض تھا اور چند نیشلسٹوں کی وقتا فوقتا متنازعہ تقاریر نے بھی شکوک و شبہات اور خدشات کو جنم دیا سیاسیات اورقانون کے ایک ادنی طالبعلم کی حثیت سے مجھے JAAC کی نیک نیتی پہ اسی وقت شبہ ہوگیا تھا جب اس احتجاج کے دوران پاکستان اور آزادکشمیر کے درمیان انٹری پوائینٹس بند کرنے کی کال دی گئی تھی کوہالہ، برارکوٹ، آزادپتن، ہولاڑ اور منگلہ پل وغیرہ کے انٹری پوائینٹس نہ صرف پنجاب ، خیبر پختونخواہ اور آزادکشمیر کے درمیان رسل و رسائل اور اآمدورفت کا ذریعہ ہیں بلکہ کشمیر اور پاکستان کے مابین لازوال رشتوں کی بھی علامت پیں آزادکشمیر حکومت سے مطالبات کی آڑ میں ان انٹری پوائیٹس کو بند کرنے کا کیا مطلب تھا کیا یہ پاکستان اور کشمیر کے اٹوٹ تعلق کے اوپر حملہ نہیں تھا کیا اس کا مطلب کشمیر کو پاکستان سے منقطع کرنا نہیں تھا اگر ایسا تھا تو یہ کس محب وطن کشمیری یا پاکستانی کا ایجنڈا ہوسکتا ہے
نظریہ الحاق پاکستان یا پاکستان سے وفاداری کا حلف حذف کرنا کونسا عوامی حقوق کا مطالبہ ہے
98 فیصد مطالبات کی منظوری کے بعدمہاجرین کی نشستوں کے مطالبے کو جو کہ خالصتا آئینی مسئلہ ہے ، زندگی اور موت کا مسئلہ بنالینا کونسا عوامی ایشو ہے پرامن انتحابات کے انعقاد کو روکنا عوامی حق ہے یا عوام کے حق رائے دہی پر غیر قانونی حملہ ہے پاکستان کے خلاف زہر اگلنا ، دھمکیاں دینا اور باغیانہ باتیں کرنا عوامی حقوق کی بات ہے یا ھندوستانی ایجنڈے کی تکمیل۔ لاک ڈاون اور ہڑتال کی وجہ سے آزادکشمیر کے عوام کو بنیادی ضروریات اور اشیائے خوردو نوش سے محروم کرنا کونسی عوامی حقوق کی تحریک ہے۔ بدقسمتی سے بعض پڑھے لکھے ، وکلا ، صحافی اور بیرون ملک بیٹھے لوگ بھی اس سازش کو سمجھ نہیں سکے اور جذباتیت کی رو میں بہہ کر یا کسی سیاسی مخاصمت یا ضرورت کے تحت اسے عوامی حقوق کی تحریک سمجھ بیٹھے ہیں ۔ اس تحریک نے سوائے سستی بجلی اور آٹے پر سبسڈی کے آزادکشمیر کو سواہے نقصان کے کچھ نہیں دیا۔ سستی بجلی تو پہلے بھی آزادکشمیر کے عوام کو ملتی تھی انوار حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی آڑ میں ٹیرف تبدیل کرکے عوام کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ اس کے علاوہ اس احتجاج نے مسئلہ کشمیر ، آزادکشمیر کے عوام اور پاکستان اور کشمیر کے اٹوٹ رشتے کو جتنا نقصان پہنچایا اس کی کوئی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ مہاجرین اور انصار کا سوال کھڑا کرکےاہل کشمیر کے مابین نفرت کے بیج بوئے گئے۔ 50 سے زائد سویلین اور پولیس اہلکاروں کی لاشیں بھی اس تحریک پر ایک بوجھ رہیں گی ۔ دریک دھرنے میں جس طرح کی نفرت انگیز اور باغیانہ تقاریر کی گئی ہیں اس نے اہل کشمیر کے لئے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ برس مظفرآباد مسجد پر اور دیگر جگہوں پر ھندوستانی حملے کی مخبری کس نے کی تھی حالیہ دنوں میں برطانیہ خاص طور پر برمنگھم سے آنے والی کالیں کس کی تھیں اور ان میں JAAC کے چند لیڈروں کے لئے کیا پیغامات تھے آج دریک دھرنے میں چند شخصیات کے پاس جو سیٹلائٹ فون ہیں وہ کس نے دیے ہوئے اگر یہ باتیں معلوم ہو جائیں تو سب کے ہوش ٹھکانے آجائیں
بعض حلقوں کی رائے میں JAAC کی تشکیل اور پروجیکشن میں اندرون ملک سے بھی خفیہ اداروں کے بعض اہلکار ملوث رہے ہیں جن کا مقصد آزادکشمیر کے آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لئے راہ ہموار کرنی تھی اگر ایسا ہے تو ذمہ دارافراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہئیے تاکہ آئندہ کسی کو پاکستان اور آزادکشمیر کی سلامتی سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔ دریک دھرنے کا پرامن خاتمہ بھی ضروری ہے تاکہ عام آدمی اور خواتین اور بچوں کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑیں تاہم دشمن کے ایجنڈے پر کام کرنے والے تخریب کار عناصر کو الگ کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ناگزیر ہے:
سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ
سابق صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی











