10

خاموشی کے بجائے عملی اقدامات : سجاد حسین اعوان

آزاد جموں و کشمیر میں جاری عوامی بے چینی اب صرف ایک مقامی سیاسی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس نے قومی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ ایسے میں محض بیانات، اعلانات اور سیاسی حمایت کے اظہار سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں مولانا فضل الرحمٰن، حافظ نعیم الرحمٰن، سینیٹر مشتاق احمد خان، محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری،شاہد خاقان عباسی اور دیگر قومی رہنماؤں نے اس بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے، لیکن موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی قیادت، خواہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، اس معاملے کو صرف بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی کردار ادا کرے۔
اسی طرح حکومت پاکستان اور عسکری قیادت کو بھی اس حساس صورتحال پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو قومی تناظر میں دیکھتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان اعتماد سازی اور مؤثر رابطے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ حالات کے مزید پیچیدہ ہونے سے پہلے ایک قابلِ قبول اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ اب آزاد کشمیر کی حکومت یا مقامی سیاسی قیادت کے دائرۂ اختیار سے آگے بڑھ چکا ہے۔ ابتدا میں یہ ایک عوامی حقوق کی تحریک تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ حالیہ دنوں برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کے احتجاج بھی اسی بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں، جو پاکستان کے بین الاقوامی تشخص پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے زمینی حالات کا قریب سے مشاہدہ رکھنے والے ایک صحافی کی حیثیت سے میرا تجزیہ یہ کہ آزاد کشمیر عوام کی بھاری اکثریت کی سیاسی اور جذباتی وابستگی ریاستِ پاکستان کے ساتھ ہے، جبکہ خودمختاری یا علیحدگی کی سوچ چند محدود حلقوں تک محدود تھی۔ تاہم عوامی حقوق کی تحریک کے آغاز کے بعد آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے بعض سخت اور غیر لچکدار رویوں نے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھا دیے۔ جب لوگوں نے محسوس کیا کہ ان کے بنیادی مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے روایتی سیاسی نظام مؤثر کردار ادا نہیں کر رہا تو بڑی تعداد میں عوام عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کی طرف متوجہ ہوئی، کیونکہ وہاں انہیں مسلسل اپنے بنیادی حقوق کی بات سنائی دیتی رہی۔
تاہم حالیہ شٹر ڈاؤن، لاک ڈاؤن اور احتجاجی تحریک دھرنوں کے دوران یہ تاثر بھی ابھر کر سامنے آیا کہ تحریک کے اندر مختلف نظریاتی رجحانات رکھنے والے حلقوں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو تحریک ابتدا میں عوامی اور معاشی حقوق تک محدود تھی، وہ بعض حلقوں میں آئینی اور جغرافیائی حقوق سے متعلق مباحث کی طرف بھی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بروقت سیاسی بصیرت اور مؤثر مذاکرات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
دوسری جانب ایک اہم حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ جب پاکستان کی قومی سیاسی قیادت نے ثالثی اور مصالحتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی تو آزاد کشمیر کے عوام بشمول کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس پیش رفت کو مجموعی طور پر مثبت انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔ اس ردِعمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ تمام تر تحفظات اور موجودہ سیاسی کشیدگی کے باوجود آزاد کشمیر کی واضح اکثریت آج بھی ریاستِ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کو اہم سمجھتی ہے، قومی قیادت پر اعتماد رکھتی ہے اور اس کے کردار اور فیصلوں کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ یہی اعتماد اس بحران کے حل کے لیے سب سے بڑی بنیاد بن سکتا ہے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے بعض واقعات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مقامی سیاسی قیادت شدید عوامی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ بلوچ بیٹھک میں سابق ممبر کشمیر کونسل ملک پرویز اختر اعوان، پلندری میں سابق وزیر نجیب نقی، جبکہ کھوئی رٹہ میں سابق وزیر صحت نثار انصر ابدالی اور ولید انقلابی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کئی سیاسی رہنما اپنے حلقوں میں الیکشن کیمپین تو دور معمول کی سیاسی اور سماجی سرگرمیاں بھی آزادانہ طور پر انجام دینے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ بحران اب صرف انتظامی نہیں بلکہ اعتماد کے بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ایسے حالات میں اس مسئلے کو صرف آزاد کشمیر کی حکومت پر چھوڑ دینا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ وفاقی حکومت، اپوزیشن، پارلیمنٹ، ریاستی اداروں اور تمام متعلقہ فریقوں کو ایک جامع سیاسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا، عوام کے تحفظات سننے ہوں گے، ان سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا اور آئینی معاملات پر انہیں اعتماد میں لینا ہوگا۔
قومی میڈیا کی ذمہ داری بھی اس موقع پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اشتعال انگیزی، الزام تراشی یا کشمیری عوام کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنے کے بجائے متوازن، ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ تجزیے تبصرے کرے تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ ایسے مواقع پر بروقت فیصلے کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے، جبکہ تاخیر اکثر بحرانوں کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ اگر پاکستان کی سیاسی قیادت، حکومت و اپوزیشن، ریاستی ادارے اور عسکری قیادت نے فوری، سنجیدہ اور مشترکہ اقدامات نہ کیے تو اس کے نتائج صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کے قومی مفادات، مسئلہ کشمیر کے سفارتی مؤقف اور ریاستی یکجہتی پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ آج بھی وقت ہے کہ تصادم کے بجائے مذاکرات، دوریوں کے بجائے اعتماد اور خاموشی کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دی جائے، کیونکہ یہی راستہ قومی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں