وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر جس عزم، جذبے اور امید کے ساتھ ملک کی نئی نسل کے مستقبل، تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کے حوالے سے اپنی حکومت کے وژن کا خاکہ پیش کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا قدم ہے۔ قوم کو اپنے تاریک حال سے نکلنے کے لیے ایسے ہی روشن خوابوں، واضح اہداف اور مستقبل شناس قیادت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک ماہر نباض کی طرح مرض کی درست تشخیص کر کے اس کا علاج بھی تجویز کر دیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی اور متحرک سرمایہ ہوتے ہیں۔ بالخصوص پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں کی مجموعی آبادی کا تقریباً 65 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان کی تعلیم، تربیت اور روزگار کا مسئلہ محض ایک معمولی حکومتی منصوبہ یا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ یہ قومی بقا، استحکام اور معاشی ترقی کا بنیادی سوال ہے۔
وزیرِ اعظم کا یہ جملہ نہایت اثر انگیز اور بصیرت افروز ہے کہ “1947ء کا پاکستان ہمارے بزرگوں نے اپنی قربانیوں سے بنایا تھا اور 2047ء کا پاکستان نوجوانوں کی سوچ، صلاحیت اور جوش سے بنے گا۔” یقیناً یہ ایک خوبصورت وژن اور موجودہ صدی کے نصف تک پہنچنے کا ایک تاریخی ہدف ہے۔ اس وژن کی روشنی میں دانش اسکولوں کے دائرہ کار کی توسیعات، دانش یونیورسٹی کے قیام، ہونہار طلبہ میں لیپ ٹاپس اور کروم بکس کی تقسیم، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید تعلیم کے لیے طلبہ کو چین بھیجنے کے اقدامات، ‘سکل امپیکٹ پروگرام’ اور ‘نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی’ جیسے منصوبے بلا شبہ سراہے جانے کے قابل ہیں۔ بالخصوص نوجوانوں کو محض سرکاری ملازمت کا امیدوار بنانے کے بجائے انہیں خود روزگار، جدت طرازی، کاروبار اور اسٹارٹ اپس کی طرف راغب کرنا آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ نوجوانوں کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی طرف بھی اہم پیش رفت ہے۔ ماضی قریب تک یہی دیکھا جاتا رہا ہے کہ ہر خواندہ اور نیم خواندہ ناجوان سرکاری نوکری کے حصول میں دفاتر کے چکر لگا لگا کر اپنے کئی قیمتی سال ضائع کرنے کے بعد محنت مزدوری یا کوئی ہنر سیکھنے کی طرف متوجہ ہوتا تھا۔
ایک بات بڑی اہم ہے کہ بڑے منصوبوں اور بلند بانگ عزائم کی اس چمک دمک کے ساتھ کچھ تلخ اور چبھتے ہوئے سوالات اٹھانا بھی نہایت ضروری ہو جاتا ہے؛ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف اعلانات، جذباتی تقریروں اور خوبصورت دستاویزات سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ زمینی حقائق کو بدلنے والے عملی اقدامات سے بنتی ہیں۔
اگر ہم ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو تقریباً دو برس قبل بھی ہمارے وزیرِ اعظم نے اسی جوش و جذبے کے ساتھ ملک میں “تعلیمی ایمرجنسی” نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت بھی تعلیم کو قومی ترجیحِ اول بنانے، اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے اور تعلیمی شعبے میں انقلابی اصلاحات کے بڑے دعوے کیے گئے تھے۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ وہ تعلیمی ایمرجنسی بھی ماضی کے دیگر کئی منصوبوں کی طرح صرف ایک رسمی اعلان بن کر رہ گئی۔ اگر واقعی سنجیدگی کے ساتھ تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جاتی تو آج ہمیں یہ المناک سوال نہ اٹھانا پڑتا کہ اس ملک کے تقریباً دو کروڑ چار لاکھ سے زائد بچے اسکولوں کی چار دیواری سے باہر کیوں ہیں؟
یہ سنسنی خیز اعداد و شمار کسی بھی باشعور اور غیرت مند قوم کے لیے لمحۂ فکریہ اور تازیانہ عبرت ہیں۔ جس ملک کے کروڑوں بچے غربت، جہالت اور ناپرسی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوں، وہاں جدید ترین یونیورسٹیوں، لیپ ٹاپس کی تقسیم اور مصنوعی ذہانت کے بلند تر منصوبوں کے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیم کی فراہمی کا مسئلہ سب سے پہلے حل کرنا ہوگا۔ ایک طرف ہم 2047ء کے ایک درخشان پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف ہماری نئی نسل کا ایک بڑا حصہ بنیادی انسانی و آئینی حق یعنی تعلیم سے محروم ہے۔ یہ سنگین تضاد اور طبقاتی خلیج ختم کیے بغیر ہم آگے بڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکول سے باہر ہر بچے کا ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر باقاعدہ اور شفاف ڈیجیٹل ڈیٹا تیار کیا جائے۔ یہ معائنہ کیا جائے کہ کون سا بچہ غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا رہا، کون سا اسکولوں کی عدم دستیابی یا بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے، اور کون سا بچہ معاشرتی رویوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر تعلیم سے محروم ہے۔ محض تعلیمی ایمرجنسی کا نعرہ لگا دینا کافی نہیں، بلکہ ہر سطح پر قابلِ پیمائش اہداف (Measurable Targets) مقرر کیے جائیں اور عوام کو بتایا جائے کہ کتنے بچوں کو، کتنے عرصے میں اور کس لائحہ عمل کے تحت اسکولوں تک لایا جائے گا۔
وزیرِ اعظم کی گفتگو کا ایک نہایت اہم اور مثبت پہلو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم (TVET) پر زور دینا ہے۔ آج کی جدید اور مسابقتی دنیا میں صرف کاغذ کی ایک ڈگری روزگار کی ضامن نہیں رہی۔ دنیا کا معاشی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، روبوٹکس، سولر ٹیکنالوجی، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، جدید زراعت اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں میں ہنرمند افراد کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہنر سکھانے کے عمل کو صرف چند مخصوص ٹیکنیکل اداروں تک محدود کیوں رکھا جائے؟ ہمارے عام اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں بھی بنیادی نوعیت کی عملی مہارتیں شامل کی جانی چاہئیں۔ اسکولز سے طلبہ کے بھاگ جانے اور غیر حاضر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں دی جانے والی عام تعلیم میں ان کی دلچسپی کم ہوتی ہے۔ مہارتیں سیکھنے کی صورت میں بھگوڑے اور غیرحاضر طلبہ کی شرح بہت کم ہو سکتی ہے۔ میٹرک یا انٹرمیڈیٹ تک پہنچنے والا ہر طالب علم کم از کم ایک ایسا جدید ہنر ضرور جانتا ہو جسے وہ آگے چل کر اپنی آمدن کا ذریعہ بنا سکے۔ اس طرح تعلیم محض کتابوں کو رٹنے اور سند حاصل کرنے کا نام نہیں رہے گی بلکہ زندگی کو باوقار طریقے سے گزارنے کا ذریعہ بن جائے گی۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک بھر میں ٹیکنیکل اداروں کا ایک معیاری جال بچھایا جائے۔ طلبہ کو ہر ضلع کی مقامی معیشت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیت دی جائے؛ جہاں زراعت کا غلبہ ہو وہاں جدید زرعی ٹیکنالوجی، جہاں صنعت ہو وہاں صنعتی مہارتیں، اور سیاحتی علاقوں میں ہوٹل مینجمنٹ اور ٹورازم کی تعلیم دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعت (Industry) اور تعلیمی اداروں (Academia) کے درمیان مضبوط رابطہ استوار کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو دورانِ تعلیم ہی عملی انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔
دانش اسکولوں کا تصور اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے کہ غریب کے بچے کو بھی معیاری تعلیم ملنی چاہیے، لیکن چند دانش اسکول پورے ملک کے تباہ حال تعلیمی ڈھانچے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ حکومت کو تمام سرکاری اسکولوں کے مجموعی معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ ایک باصلاحیت استاد، مناسب عمارت، پینے کا صاف پانی، کمپیوٹر لیب اور محفوظ ماحول ہر پاکستانی بچے کا بنیادی حق ہے، نہ کہ چند خوش نصیبوں کا استحقاق ہے۔
2047ء کا پاکستان تقریروں اور نعروں سے نہیں بلکہ آج کے درست، مسلسل اور دیانت دارانہ فیصلوں سے تشکیل پائے گا۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں صرف لیپ ٹاپ نہیں، بلکہ علم، ہنر، بلند کردار اور باعزت روزگار دینا ہوگا۔ اگر ہم نے آج کے بچے کو اسکول اور نوجوان کو ہنر دے دیا، تو آنے والی نسلیں ایک مضبوط، خوددار اور خوشحال پاکستان کی وارث ہوں گی۔
18











