صدا بصحرا
رفیع صحرائی
12 جون: محنت کش بچوں کا عالمی دن
ہر سال 12 جون کو دنیا بھر میں محنت کش بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کی توجہ ان کروڑوں بچوں کی طرف مبذول کروانا ہے جو کھیلنے، سیکھنے اور اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کے بجائے کارخانوں، ورکشاپوں، کھیتوں، بھٹوں، ہوٹلوں، گھریلو ملازمتوں اور دیگر مشقت طلب کاموں میں مصروف ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچپن محض عمر کا ایک مرحلہ نہیں بلکہ زندگی کی بنیاد ہے، اور جب کسی بچے سے اس کا بچپن چھین لیا جائے تو درحقیقت اس کے مستقبل کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ یہ دن بچوں سے ان کا بچپن چھین لینے والی محرومیوں کے خلاف ایک عہد کے طور پر منایا جاتا ہے کہ ان محرومیوں کو دور کر کے بچوں کو ان کا بچپن لوٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
محنت کش بچوں کے عالمی دن کا آغاز 2002 میں بین الاقوامی ادارۂ محنت (ILO) نے کیا تھا تاکہ دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کے مسئلے پر شعور اجاگر کیا جا سکے اور اس کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں منایا جاتا ہے اور حکومتیں، غیر سرکاری تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور سماجی کارکن مختلف تقریبات اور مہمات کے ذریعے چائلڈ لیبر کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے جدید دور میں بھی چائلڈ لیبر ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے۔ آئی ایل او اور یونیسیف کی تازہ ترین عالمی رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 13 کروڑ 80 لاکھ بچے مزدوری کر رہے تھے، جن میں سے 5 کروڑ 40 لاکھ بچے خطرناک نوعیت کے کاموں یا مزدوری میں مصروف تھے جو ان کی صحت، تعلیم اور زندگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اگرچہ 2020 کے مقابلے میں صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم دنیا 2025 تک چائلڈ لیبر کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان بھی اس مسئلے سے بری طرح متاثر ہے۔ ملک میں چائلڈ لیبر کے بارے میں مستند اعدادوشمار کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تاہم سرکاری اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ہمارے ہاں لاکھوں بچے مختلف شعبوں میں مزدوری کر رہے ہیں۔ اینٹوں کے بھٹے، زرعی شعبہ، ورکشاپیں، گھریلو ملازمتیں، چھوٹی صنعتیں اور ہوٹل ایسے شعبے ہیں جہاں کم عمر بچوں کی بڑی تعداد کام کرتی دکھائی دیتی ہے اور یہ سب ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے شہروں اور دیہات میں چائے کے ڈھابوں، مکینک شاپس اور بازاروں میں کام کرتے بچے اس تلخ حقیقت کی روزانہ یاد دہانی کراتے ہیں۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں۔ وفاق اور صوبوں نے کم عمری میں مزدوری، جبری مشقت اور خطرناک کاموں میں بچوں کی ملازمت کے خلاف قوانین بنائے ہیں۔ حکومتیں وقتاً فوقتاً دعویٰ کرتی ہیں کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے درمیان اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے۔ چھاپوں، آگاہی مہمات اور چند نمایاں کارروائیوں کے باوجود چائلڈ لیبر مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب رسمی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ جس ملک میں غربت کی شرح عالمی بینک کے نئے بین الاقوامی معیار کے مطابق 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہو۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہو اور مہنگائی کی رفتار کو گزشتہ چند سالوں سے پر لگے ہوئے ہوں وہاں چائلڈ لیبر کا خاتمہ آسان کام نہیں ہے۔
اس سلسلے میں غیر سرکاری تنظیموں اور فلاحی اداروں کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ ہمارے ملک میں کئی این جی اوز بچوں کی تعلیم، بحالی، قانونی معاونت اور والدین کی معاشی مدد کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ ان اداروں نے ہزاروں بچوں کو مزدوری سے نکال کر دوبارہ سکولوں میں داخل کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم مسئلے کی وسعت اتنی زیادہ ہے کہ صرف غیر سرکاری تنظیمیں اسے حل نہیں کر سکتیں، اس کے لیے ریاست، معاشرے اور نجی شعبے کی مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔
چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ جب گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو جائے تو والدین اکثر مجبوری کے تحت بچوں کو کام پر بھیج دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم کی ناقص سہولیات، سکول چھوڑنے کی بلند شرح، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، سماجی بے حسی اور قوانین پر کمزور عملدرآمد بھی اس مسئلے کو بڑھاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں تو بچوں کی مزدوری کو معمول کی بات سمجھا جاتا ہے، جو اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
اگر واقعی چائلڈ لیبر کا خاتمہ مطلوب ہے تو صرف نعروں اور تقریبات سے کام نہیں چلے گا۔ سب سے پہلے ہر بچے کے لیے معیاری اور مفت تعلیم کو یقینی بنانا ہوگا۔ غریب خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مؤثر بنانا ہوگا تاکہ والدین اپنے بچوں کو مزدوری کے بجائے سکول بھیج سکیں۔ فنی تعلیم، وظائف، سکول میل پروگرام، بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ سہولیات اور غریب خاندانوں کی مالی معاونت جیسے اقدامات مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔ اسی طرح چائلڈ لیبر سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی ضروری ہے۔ البتہ اس کارروائی سے پہلے درج بالا سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی لازمی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ چائلڈ لیبر صرف حکومتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی رویہ بھی ہے۔ جب ہم سستے مزدور کے طور پر کسی بچے سے کام لیتے ہیں تو دراصل اس مسئلے کو زندہ رکھنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو مزدوری پر رکھنے کے بجائے ان کی تعلیم اور تربیت کی حوصلہ افزائی کرے۔
12 جون کا دن محض ایک عالمی دن نہیں بلکہ ایک سوال ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو کتاب، قلم اور خواب دینا چاہتے ہیں یا اوزار، مشقت اور محرومی ان کا مقدر کرنا چاہتے ہیں؟ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر بچے سکولوں کے بجائے مزدوری پر مجبور ہوں تو ترقی کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، معاشرہ، والدین، اساتذہ، میڈیا اور نجی شعبہ مل کر ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں ہر بچہ سکول جا سکے، محفوظ ماحول میں پروان چڑھے اور اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکے۔ کیونکہ بچے مزدور نہیں، قوم کا مستقبل ہوتے ہیں
2










