44

غرور اور تکبر مٹ جائے گا – الطاف احمد لیکچرر

سورۃ آل عمران (3:140):
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
ترجمہ:
“اور یہ وہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔”
تبدیلی کائنات کا اصول ہے ۔ جیسے ہر دن کے بعد رات ہے اور ہر تاریک رات کے بعد روشن سویرا ہے ۔ خزاں کے بعد رنگین بہار ہے تو آخرکار بہار کے بعد ایک بار پھر خزاں کا ڈیرہ ہے ۔۔
کائنات کے اندر تغیر و تبدل کا یہ سلسلہ روز ازل سے ہے اور ابد تک اسی طرح چلتا رہے گا۔۔
انسانوں ، قوموں اور ملکوں کی زندگیوں میں بھی یہی تغیر و تبدل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکوں کے سرحدیں بھی تغیر و تبدل سے کبھی سمٹتی اور کبھی بڑھتی رہتی ہیں اور ان ملکوں کے اندر حکومتیں اور ان کے حکمران بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔۔
ہمیشہ کے لیے دوام کسی بھی سلطنت ، بادشاہ یا حکمران کو حاصل نہیں ہے۔۔
کئی بار بادشاہوں کی اولادیں شکست اور ناکامیوں سے دوچار ہو کر دشمنوں کے ہاتھوں غلام بن جاتی ہیں جبکہ کئی بار غلاموں کی اولادیں اللہ کی مرضی اور محنت ، کوشش و جدوجہد سے قطب الدین ایبک کی صورت میں تخت حکمرانی تک پہنچ جاتی ہیں ۔۔
ہماری لاکھ کوششوں اور اہتمام و احتیاط کے باوجود بعض دفعہ تغیر و تبدل کا یہ عمل رکتا نہیں ہے۔۔ شیر جنگل میں دھاڑتے رہتے ہیں لیکن ہرن کے بچے بھی اسی جنگل میں پروان چڑھتے رہتے ہیں ۔۔ فرعون کے سپاہی موسیٰ( علیہ سلام ) کو مٹانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں لیکن موسیٰ علیہ سلام فرعون کے گھر میں پرورش پاتے رہتے ہیں اور ایک روز وہی موسیٰ علیہ سلام فرعون کی خدائی کے جھوٹے دعوے کو ملیامیٹ کر کے اس کی حکمرانی کا تخت الٹ دیتے ہیں۔۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ اور نائب ہے لیکن حقیقی معنوں میں اللہ کا خلیفہ اور نائب وہی انسان ہے کہ جو اللہ پاک کے احکامات پر عمل پیرا ہو کر خود کو اللہ کا خلیفہ اور نائب ثابت کر کے دکھائے ۔۔
قرآن پاک کے اندر مومنین اور صالح بندوں کے لیے اللہ کا ایک وعدہ بھی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ :

” اللہ کا وعدہ ہے کہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اللہ انہیں زمین کی حکومت عطا کرے گا جیسے کہ ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی.”

لیکن جو شخص بھی اللہ کے اس وعدے کا پاس نہیں رکھ سکے گا ، اللہ کے حکم سے روگردانی کرے گا ، اللہ کے خلیفہ یعنی نائب ہونے کا حق ادا نہیں کرے گا تو اللہ اسے پھر زوال سے دوچار کر کے اپنا نائب اور خلیفہ ہونے کا یہ حق کسی اور کو عطا فرما دے گا ۔۔
سفر معراج کی رات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے مقام سے ہوا جہاں ایک شخص بھاری گھٹڑی اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا گھٹڑی اس سے اٹھائی نہیں جا رہی تھی لیکن وہ اس کے بوجھ میں مزید اضافہ کر رہا تھا ۔۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل امین سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو جبرائیل امین نے عرض کی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ پاک نے دوسرے لوگوں کی امانتوں کا ذمہ دار بنایا ہے لیکن وہ ان امانتوں کے بوجھ کو اٹھانے سے قاصر ہیں اور ساتھ ہی ان امانتوں میں مزید اضافہ کے خواہش مند بھی ہیں ۔۔
موجودہ دور میں ہمارے سیاسی اور حکومتی نمائندوں کا بھی یہی حال ہے کہ اللہ نے ان کو عوام کے وسائل ، عوام کی امانتوں کا امین بنایا ہے لیکن وہ اس مقدس فرض کی بجاآوری میں ناکام رہنے کے ساتھ ساتھ ان امانتوں اور وسائل میں مزید اضافہ کے خواہش مند بھی ہیں ۔۔ یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پاس موجودہ امانتوں اور وسائل میں بدعنوانی اور غیر منصفانہ تقسیم کے مرتکب بھی ہوتے ہیں ۔۔
جب یہ عوامی نمائندے اللہ کے وعدے کا پاس نہیں رکھتے تو اللہ ان کو شکست سے دوچار کر کے کسی اور کو ان کے مقام پر براجمان فرما دیتا ہے ۔۔
یہ ہے کائنات کی تبدیلی اور رب کے فیصلوں کا اصول ہے کہ یہاں دوام کسی کو بھی حاصل نہیں ہے ۔۔
جب اللہ کسی شخص کو کسی ، حکمران کو ، کسی بادشاہ کو ناکامی سے دوچار کرنا چاہے گا تو اس کی لاکھ کوششوں اور اہتمام کے باوجود وہ کسی معمولی انسان کے ہاتھوں زوال کا شکار ہو جائے گا ۔۔ کسی معمولی انسان کے ہاتھوں اس کی بادشاہت ، اس کی سلطنت و حکومت ، اس کا غرور اور تکبر ملیامیٹ ہو جائے گا ۔۔
ساری تدبیریں ، سارے منصوبے ، ساری افواج ، سارا اسلحہ اسی طرح دھرا کا دھرا رہ جائے گا ۔۔
یہ سارے وسائل ، طاقت اور اہتمام اس کے زوال اور ناکامی کو روک نہیں سکیں گے ۔۔۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کئی دفعہ انسان زندگی کے کئی معاملات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سر توڑ کوشش و محنت بھی کرتا ہے ،
سرمایہ اور وسائل بھی خرچ کرتا ہے ،
دوڑ دھوپ بھی کرتا ہے لیکن پھر بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔
مثال کے طور پر کوشش و محنت کرنے کے باوجود وہ کسی تعلیمی امتحان میں ناکام رہتا ہے ،
کوشش اور ذہانت کے باوجود کسی مقابلے کے امتحان میں ناکام رہتا ہے ، سیاست کے میدان میں مطلوبہ کامیابی حاصل کرنے میں کوشش ، محنت اور سرمایہ لگانے کے باوجود ناکام رہتا ہے ۔۔
کوشش ، محنت ، سرمائے اور اثر و رسوخ کے باوجود ناکام رہنے کے پیچھے بنیادی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ برے رویے ، برے اخلاق یا کسی پر کئے گئے ظلم و ستم کی وجہ سے انسان ناکام رہتا ہے ۔۔
کسی غریب ، مظلوم ، لاچار ، یتیم یا اللہ کے کسی نیک بندے کے دل سے نکلی ہوئی بددعا انسان کو کامیاب نہیں ہونے دیتی ۔۔
زندگی کے کئی معاملات میں کسی انسان کے دل سے نکلی ہوئی بددعا انسان کی کامیابیوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے ۔۔
بقول بابا بلھے شاہ :

مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے ،
ڈھا دے جو کجھ ڈھینڈا ۔۔
اک بندیاں دا دل نہ ڈھانویں ،
رب دلاں وچ رہندا۔۔۔

چودھری الطاف احمد لیکچرار تاریخ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں