6

آزاد جموں کشمیر اسمبلی میں 12 کشمیری مہاجرین کی نشستوں کا انتخاب

تحریر: سردار نسیم اقبال ایڈووکیٹ  
آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کو اس وقت پوری ریاست جموں کشمیر کی حقیقی نمائندہ اسمبلی بنانا وقت اور حالات کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد، جب ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر دیا، تو ریاست جموں کشمیر کی وحدت، شناخت اور تاریخی تشخص کو شدید دھچکا پہنچا۔ ان حالات میں آزاد جموں کشمیر کی آئینی اور سیاسی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔دوسری جانب گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کے تاریخی اور آئینی ڈھانچے سے الگ کرنے کے اقدامات، اور مختلف حصوں میں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کے خاتمے نے ریاستی وحدت کے تصور کو مزید کمزور کیا۔ اس تناظر میں آزاد جموں کشمیر واحد ایسا خطہ رہ گیا ہے جو اب بھی ریاست جموں کشمیر کی تاریخی شناخت اور وحدت کی علامت کے طور پر موجود ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس اسمبلی کو مستقبل میں پوری ریاست کی نمائندہ حیثیت دینے کے لیے آئینی اور سیاسی اصلاحات کی جائیں۔موجودہ آئینی بندوبست، یعنی آزاد جموں کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974ء (ترمیم شدہ 2018ء) کے تحت آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی 53 ارکان پر مشتمل ہے۔ ان میں 33 نشستیں آزاد کشمیر کے دس اضلاع سے براہِ راست انتخابات کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں، جبکہ 12 نشستیں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ مزید 8 مخصوص نشستوں میں خواتین، علما، ٹیکنوکریٹس اور اوورسیز کشمیری نمائندگی شامل ہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے مہاجرین کی ان 12 نشستوں کا معاملہ شدید عوامی، آئینی اور سیاسی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف قانونی ماہرین تک محدود نہیں رہا بلکہ عوامی حقوق اور جمہوری مساوات کی تحریکوں کا حصہ بن چکا ہے، خصوصاً جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ عوامی تحریک کے بعد۔ایک مؤقف یہ ہے کہ پاکستان میں قائم مہاجر حلقوں پر مشتمل موجودہ انتخابی نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، کیونکہ آزاد کشمیر سے باہر قائم انتخابی حلقے آزاد کشمیر کے اندر اقتدار اور قانون سازی کے توازن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق وہی لوگ حکمرانی کے فیصلوں میں بنیادی اختیار رکھتے ہوں جو براہِ راست آزاد کشمیر کے اندر رہتے ہیں اور انہی قوانین و اداروں کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔اس کے برعکس دوسرا مؤقف یہ ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی صرف عددی یا انتخابی معاملہ نہیں بلکہ اس کی گہری تاریخی اور آئینی بنیاد موجود ہے۔

مہاجر نشستیں اس حقیقت کی علامت سمجھی جاتی ہیں کہ تقسیم، ہجرت اور بے دخلی کے باوجود ریاست جموں کشمیر کے مہاجرین کی سیاسی شناخت ختم نہیں ہوئی۔ اسی لیے ان نشستوں کا مکمل خاتمہ ریاست جموں کشمیر کے غیر حل شدہ تنازع اور غیر مشروط غیر محدود “حقِ خودارادیت” کے مقدمے کو کمزور کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دونوں مؤقف مکمل طور پر مسئلے کا حل پیش نہیں کرتے۔ مکمل خاتمہ تاریخی شناخت کے مسئلے کو نظر انداز کرتا ہے، جبکہ موجودہ نظام جمہوری مساوات اور انتخابی شفافیت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ ایک درمیانی اور متوازن راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔موجودہ نظام میں ایک بنیادی مسئلہ ووٹروں کے غیر متوازن تناسب کا ہے۔ آزاد کشمیر کے ایک عام انتخابی حلقے میں اوسطاً 80 ہزار سے ایک لاکھ ووٹرز ہوتے ہیں، جبکہ بعض مہاجر نشستوں پر ووٹرز کی تعداد چند ہزار تک محدود ہے۔ یہ فرق جمہوری برابری اور مساوی نمائندگی کے اصول سے متصادم ہے۔ مزید یہ کہ مہاجرنشستوں کے انتخابات آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مؤثر انتظامی دائرہ اختیار سے باہر ہوتے ہیں، جس سے شفافیت، نگرانی اور قانونی عملداری پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان بھر میں منتشر مہاجر آبادی کی غیر منظم ووٹر لسٹیں، انتخابی عمل کو پیچیدہ اور متنازع بناتی ہیں۔ ان حلقوں میں مالیاتی اثر و رسوخ، ووٹر لسٹوں پر اعتراضات اور انتخابی تنازعات بھی بارہا سامنے آتے رہے ہیں، جس سے اسمبلی کے جمہوری وقار پر اثر پڑتا ہے۔
ان مسائل کا قابلِ عمل آئینی حل یہ ہو سکتا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کے انتخاب کو براہِ راست ووٹنگ کے بجائے “متناسب نمائندگی” (Proportional Representation) کے اصول پر منتقل کر دیا جائے۔ اس طریقہ کار کے تحت آزاد کشمیر کی 33 جنرل نشستوں پر کامیاب ہونے والی جماعتوں کو ان کے حاصل کردہ ووٹ اور نشستوں کے تناسب سے مہاجر نمائندے نامزد کرنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔اس نظام سے کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:انتخابی شفافیت میں اضافہ ہوگا غیر منظم ووٹر لسٹوں کا مسئلہ ختم ہوگا مالیاتی بدعنوانیوں اور انتخابی تنازعات میں کمی آئے گی مہاجر نمائندگی آئینی اور جمہوری اصولوں کے زیادہ قریب آ جائے گمسئلہ کشمیر کی تاریخی اور سیاسی حیثیت بھی برقرار رہے گی اسی طرح آئینی اصلاحات کے ذریعے مہاجر نشستوں کی تعداد کو ووٹر تناسب کے مطابق ازسرِنو متعین کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں دو نشستیں معذور افراد اور تین نشستیں بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے مختص کی جا سکتی ہیں تاکہ اسمبلی زیادہ جامع اور نمائندہ ادارہ بن سکے۔اوورسیز کشمیریوں کی سیاسی و معاشی اہمیت کو بھی اب تسلیم کیا جا رہا ہے بیرونِ ملک کشمیری اب صرف ترسیلات زر بھیجنے والی کمیونٹی نہیں بلکہ قومی ترقی کے فعال شراکت دار تصور کیے جا رہے ہیں۔
لہٰذا آزاد کشمیر کو “مکمل خاتمے” اور “مکمل برقرار رکھنے” کے درمیان کسی ایک انتہا کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے ایک متوازن، دانشمندانہ اور آئینی درمیانی راستہ موجود ہے جو تاریخی شناخت کو بھی محفوظ رکھ سکتا ہے اور جمہوری مساوات کے اصول کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔آنے والے وقت میں ضروری ہے کہ آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان، لداخ اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی پرمشتمل ایک وسیع تر نمائندہ اسمبلی کے قیام پر سنجیدہ غور کیا جائے، تاکہ پوری ریاست جموں کشمیر کی وحدت، شناخت اور حق حکمرانی حق ملکیت اور حق آزادی کے تصور کو ایک مضبوط سیاسی آئینی بنیاد فراہم کی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں