انسان جب سفر کرتا ہے تو راستے میں کبھی نہ کبھی رک کر یہ ضرور دیکھتا ہے کہ وہ اپنی منزل سے کتنی دور اور کتنی قریب ہے۔ یہی اصول قوموں اور معاشروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جو قومیں وقتاً فوقتاً اپنا محاسبہ کرتی رہتی ہیں، اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لیتی ہیں، وہ ترقی کی راہوں پر آگے بڑھتی ہیں، جبکہ جو قومیں خود احتسابی سے گریز کرتی ہیں، وہ زوال کے اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہیں۔ آج اگر ہم بحیثیت قوم اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالیں تو ایک اہم سوال ہمارے سامنے کھڑا نظر آتا ہے: ہم کہاں کھڑے ہیں؟یہ سوال صرف سیاسی یا معاشی حالات کا نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ، اخلاقی اقدار، دینی وابستگی، سماجی رویوں اور قومی ترجیحات کا بھی ہے۔ بظاہر ہم ترقی کے دور میں جی رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی ہمارے ہاتھوں میں ہے، دنیا ایک گلوبل گاؤں بن چکی ہے، معلومات کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، لیکن اس ترقی کے شور میں کہیں انسانیت، اخلاص، محبت اور اخلاق کی آواز دبتی محسوس ہوتی ہے۔آج ہمارا معاشرہ عجیب تضادات کا شکار ہے۔ ایک طرف بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں، دوسری طرف کردار کی عمارتیں زمین بوس ہو رہی ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر سے رابطے قائم ہیں، دوسری طرف اپنے گھر کے افراد سے گفتگو کا وقت نہیں۔ ہم ترقی یافتہ آلات کے مالک تو بن گئے ہیں، مگر اپنے دلوں کی ویرانی دور نہ کر سکے۔ ہم نے مشینوں کو تو سمجھ لیا، مگر انسان کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔موجودہ ملکی حالات پر نظر ڈالیں تو معاشی مشکلات نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مہنگائی کی لہر نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ ایک مزدور جو صبح سے شام تک محنت کرتا ہے، وہ بھی اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ بے روزگاری نوجوانوں کے خواب نگل رہی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں۔ ایسے حالات میں مایوسی، بے چینی اور اضطراب کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف معاشی مشکلات ہی ہماری پریشانیوں کی وجہ ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کا زوال صرف خالی خزانوں سے نہیں بلکہ خالی دلوں اور خالی کرداروں سے بھی شروع ہوتا ہے۔ جب دیانت داری کمزور پڑ جائے، امانت کا تصور معدوم ہو جائے، انصاف کا معیار دوہرا ہو جائے اور ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب آ جائیں تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ جھوٹ کو ذہانت، دھوکے کو کامیابی اور مفاد پرستی کو عقلمندی سمجھا جانے لگا ہے۔ معاشرتی تعلقات خلوص کی بجائے ضرورتوں کے تابع ہوتے جا رہے ہیں۔ رشتوں میں محبت کم اور مفاد زیادہ نظر آتا ہے۔ بزرگ والدین اولاد کے ہوتے ہوئے تنہائی کا شکار ہیں۔ بھائی بھائی سے دور ہے، پڑوسی پڑوسی سے بے خبر ہے اور دوست دوستی کے حقیقی مفہوم سے ناواقف ہوتا جا رہا ہے۔سب سے زیادہ تشویشناک پہلو نئی نسل کی فکری اور اخلاقی سمت ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن جب یہی سرمایہ مقصدِ حیات سے بے خبر ہو جائے تو قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ آج نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ سوشل میڈیا کی چکاچوند، مصنوعی شہرت اور وقتی تفریح میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے اپنی صلاحیتوں، ذمہ داریوں اور قومی کردار کا احساس ہی نہیں رہتا۔ مطالعے کا شوق کم ہوتا جا رہا ہے، علم کی جگہ معلومات اور کردار کی جگہ شہرت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔اسلام نے انسان کو صرف عبادات ہی نہیں سکھائیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی نظام عطا کیا ہے۔ قرآن کریم اور سنتِ نبوی ﷺ ہمیں اخوت، محبت، عدل، دیانت، سچائی، حیا اور خدمتِ خلق کا درس دیتے ہیں۔ افسوس کہ ہم نے اسلام کو رسموں اور تقریبات تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کی حقیقی روح کو اپنی عملی زندگی سے دور کر دیا ہے۔ ہماری مسجدیں آباد ہیں لیکن کردار و معاملات میں اسلامی تعلیمات کی جھلک کم دکھائی دیتی ہے۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ زبان کی سختی، الزام تراشی، غیبت، بہتان اور نفرت انگیز رویے عام ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں خیر کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں بدقسمتی سے اسے کردار کشی اور انتشار کا ذریعہ بھی بنا دیا گیا ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ بحیثیت قوم ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ کیا ہم تعلیم کو وہ اہمیت دے رہے ہیں جس کی وہ مستحق ہے؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کی تربیت پر توجہ دے رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے گھروں میں اسلامی اقدار کو فروغ دے رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے فرائض کو اسی سنجیدگی سے ادا کرتے ہیں جس طرح اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہماری قومی سمت کا تعین کرتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب بھی قرآن و سنت کے اصولوں سے وابستہ رہے، دنیا کی قیادت ان کے ہاتھ میں رہی۔ انہوں نے علم، تحقیق، عدل اور اخلاق کے میدانوں میں ایسی مثالیں قائم کیں جنہیں آج بھی دنیا یاد کرتی ہے۔ لیکن جب انہوں نے اپنی اصل پہچان کو فراموش کیا تو زوال ان کا مقدر بن گیا۔ یہی سبق آج ہمارے لیے بھی ہے۔ اگر ہم اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو محض نعروں اور دعوؤں سے نہیں بلکہ اپنے کردار، رویوں اور ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ہمیں اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا۔ والدین کو اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ اساتذہ کو صرف نصاب نہیں بلکہ کردار بھی پڑھانا ہوگا۔ علماء کو اتحاد و اصلاح کا پیغام عام کرنا ہوگا۔ حکمرانوں کو انصاف، شفافیت اور عوامی خدمت کو شعار بنانا ہوگا اور عوام کو قانون کی پاسداری اور دیانت داری کو اپنانا ہوگا۔آج بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں، اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور اصلاح کی راہ اختیار کریں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ یہ آیت ہمارے لیے امید، حوصلے اور عمل کا پیغام ہے۔”ہم کہاں کھڑے ہیں؟” کا جواب صرف حکومتوں، اداروں یا حالات میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے کردار میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم سچائی، دیانت، انصاف، اخوت اور اسلامی اقدار کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہمارا معاشرہ سنور سکتا ہے بلکہ ہمارا ملک بھی ترقی، امن اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ قوموں کی تقدیر نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے بدلتی ہے، اور آج ضرورت اسی کردار کی ہے جو ہمیں ایک بہتر مسلمان، بہتر انسان اور بہتر شہری بنا سکے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم زوال کے کنارے کھڑے رہنا چاہتے ہیں یا اصلاح و ترقی کے سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ یہی سوال آج کا سب سے اہم سوال ہے، اور یہی ہمارے مستقبل کا تعین کرے گا۔
syedsajidalishahbukhari123@gmail.com Ph# 03053748065










