ریاست کسی فرد، جماعت یا وقتی سیاسی کیفیت کا نام نہیں۔ ریاست ایک مستقل ادارہ جاتی نظام ہے، جس کی بنیاد قانون، آئین، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر قائم ہوتی ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوری زندگی کا لازمی حصہ ہے، مگر جب اختلاف احتجاج سے آگے بڑھ کر تشدد، توڑ پھوڑ اور ریاستی نظم کو چیلنج کرنے کی صورت اختیار کر لے تو معاملہ محض سیاست کا نہیں رہتا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ہونے والی 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں نمایاں کیا گیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں داخلی استحکام، قومی سلامتی، دہشت گردی کے خاتمے اور قانون کی بالادستی پر تفصیلی توجہ دی گئی۔ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ بدامنی، انتشار یا 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش، خواہ اس کے لیے کوئی بھی جواز پیش کیا جائے، سے قانون کے مطابق فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔ یہ مؤقف دراصل اس اصول کی طرف اشارہ ہے کہ ریاستی نظم کو چیلنج کرنے کے لیے کسی سیاسی یا سماجی نعرے کو ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔
9 مئی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے ریاستی اداروں، سیاسی سرگرمیوں اور قانون کی عمل داری کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ اس واقعے کی سیاسی تشریحات اپنی جگہ، مگر ریاستی تنصیبات پر حملے، تشدد اور قانون شکنی کسی بھی معاشرے کے لیے معمول نہیں بن سکتے۔ اختلافِ رائے کا حق آئینی ہے، احتجاج بھی جمہوری عمل کا حصہ ہے، مگر ہر حق کے ساتھ قانون کی حدود وابستہ ہوتی ہیں۔ جہاں یہ حدود ختم ہوتی ہیں، وہاں ریاست کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ پاکستان میں سیاسی اختلاف کو سیاسی میدان میں رکھا جائے۔ دلیل کا جواب دلیل سے، منشور کا جواب منشور سے اور سیاسی مقبولیت کا جواب عوامی حمایت سے دیا جائے۔ سڑک کو میدانِ تصادم اور ریاستی املاک کو سیاسی غصے کا نشانہ بنانے سے نہ جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور نہ عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں۔ سیاسی قوتوں کی اصل طاقت ان کے کارکن، دلیل، تنظیم، منشور اور عوامی رابطہ ہوتے ہیں، انتشار نہیں۔
لیکن داخلی استحکام کا مسئلہ صرف سیاسی کشیدگی تک محدود نہیں۔ پاکستان کو دہشت گردی کے ایک پیچیدہ چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ’’پوری قوم اور پوری حکومت‘‘ کے نقطۂ نظر پر زور دیا گیا۔ اس ایک جملے میں ایک بڑی قومی حقیقت پوشیدہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی جنگ نہیں۔ یہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیاسی قیادت، علما، میڈیا، تعلیمی اداروں اور عام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں سکیورٹی فورسز کا کردار بنیادی ہے، مگر دیرپا امن کے لیے اس سے آگے بھی دیکھنا ہو گا۔ دہشت گردی کے نیٹ ورک توڑنے کے ساتھ ان نظریات، سہولت کاری کے نظام اور سماجی کمزوریوں پر بھی کام کرنا ہو گا جو انتہا پسندی کو جگہ فراہم کرتے ہیں۔ ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، مضبوط انتظامیہ، سرحدی نگرانی، عوامی تعاون اور نوجوان نسل کے لیے بہتر تعلیمی و معاشی مواقع اس جامع حکمتِ عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی جغرافیائی حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال، سرحدی چیلنجز اور داخلی سلامتی کے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلح افواج کی آپریشنل تیاری محض ایک عسکری ضرورت نہیں، بل کہ قومی دفاع کا بنیادی تقاضا ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ اور داخلی و خارجی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی تیاری برقرار رکھنے کا اعلان اسی قومی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم کسی بھی ریاست کی طاقت صرف اس کے دفاعی وسائل میں نہیں ہوتی۔ اصل طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ادارے اپنے آئینی دائرے میں کام کریں، قانون سب کے لیے یکساں ہو، شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں اور سیاسی اختلاف قومی سلامتی کے دائرے سے باہر نہ نکلے۔ عوامی حمایت بھی اسی وقت پائیدار بنتی ہے جب ریاستی نظام قانون، انصاف اور ذمہ داری کے اصولوں پر قائم رہے۔
پاکستان کو آج نعروں سے زیادہ نظم، تصادم سے زیادہ مکالمے اور انتشار سے زیادہ استحکام کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف ختم نہیں ہونا چاہیے، بل کہ اسے آئینی راستوں پر چلنا چاہیے۔ حکومت پر تنقید بھی ہونی چاہیے، ریاستی پالیسیوں پر سوال بھی اٹھنے چاہییں اور عوام کو اپنے سیاسی حقوق بھی استعمال کرنے چاہییں، مگر ہر سرگرمی قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ یہی جمہوری عمل کی بنیادی روح ہے۔
277ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا پیغام اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریاست اپنی سلامتی، خود مختاری اور داخلی استحکام کے معاملات پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی اور دہشت گردی کے خلاف طویل المدت قومی حکمتِ عملی پر زور دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پائیدار استحکام صرف ریاستی طاقت سے نہیں، بل کہ قانون، سیاسی عمل، مؤثر حکمرانی اور عوامی اعتماد کے باہمی امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان کو فیصلہ کن لمحوں میں فیصلہ کن قومی شعور کی ضرورت ہے۔ ریاستی اداروں کا احترام ہو، آئینی حقوق کا تحفظ ہو، قانون کی بالادستی قائم ہو، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہو اور سیاسی اختلاف کو تصادم کے بجائے آئینی عمل کا حصہ بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے انتشار کے دروازے بند اور استحکام کے راستے کھل سکتے ہیں۔
ریاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ریاستی پالیسی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے، حکومت کو تنقید کا سامنا بھی کرنا چاہیے، مگر ریاستی نظم کو توڑنا کسی بھی اختلاف کا متبادل نہیں۔ پاکستان کا مستقبل شور، تصادم اور انتشار سے نہیں، بل کہ قانون، آئین، قومی یک جہتی اور ذمہ دار سیاسی رویوں سے تشکیل پائے گا۔ ریاست مضبوط ہو گی تو شہری محفوظ ہوں گے، قانون مضبوط ہو گا تو انصاف کا راستہ کھلے گا، اور داخلی استحکام مضبوط ہو گا تو پاکستان بیرونی چیلنجز کا بھی زیادہ اعتماد کے ساتھ سامنا کر سکے گا۔











