22

کشمیر کونسل کی نشست یا عوامی توقعات کا نیا امتحان؟ تحریر ۔ راجہ محمد رشید۔

میرپور کی سیاست میں حلقہ ایل اے تھری ایک مرتبہ پھر اہم سوال بن کر سامنے آ گیا ہے۔ سابق وزیر حکومت اور حلقہ ایل اے تھری میرپور سے مسلم لیگ ن کے امیدوار رہنے والے چوہدری محمد سعید کا کشمیر کونسل کا بلا مقابلہ رکن منتخب ہونا بلاشبہ ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے، لیکن اس منصب کے ساتھ اب سوال بھی جڑ گیا ہے کہ میرپور اور خصوصاً ایل اے تھری کے عوام ان سے کیا توقع رکھیں؟
چوہدری محمد سعید کے لیے یہ مقام نیا نہیں۔ 2016 کے عام انتخابات میں انہوں نے ایل اے تھری سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو شکست دی تھی۔ بعد ازاں 2021 کے عام انتخابات میں انہیں اسی حلقے سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ضمنی انتخاب میں بھی وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 2026 کے عام انتخابات میں بھی ایل اے تھری سے پیپلز پارٹی کے چوہدری یاسر سلطان کامیاب ہوئے جبکہ چوہدری محمد سعید دوسرے نمبر پر رہے۔
یہ انتخابی پس منظر اپنی جگہ، لیکن اب معاملہ کسی انتخابی شکست یا کامیابی سے آگے بڑھ چکا ہے۔ چوہدری محمد سعید بلا مقابلہ کشمیر کونسل کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور اس منصب کو میرپور کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے کس طرح استعمال ہوتا دیکھتے ہیں، اصل سوال یہی ہے۔
میرپور شہر کے بنیادی مسائل کسی ایک حکومت یا ایک جماعت کے نہیں۔ شہر میں سڑکوں کی حالت، ٹریفک کا دباؤ، پینے کے پانی، نکاسی آب، صفائی، صحت، تعلیم، بجلی، شہری منصوبہ بندی، نوجوانوں کے روزگار اور بالخصوص نئے میرپور کی بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق شہری سہولیات کی ضرورت مسلسل موجود ہے۔ عوام یہ دیکھنا چاہیں گے کہ کشمیر کونسل میں میرپور کی آواز کس انداز میں اٹھتی ہے اور کون سے مسائل عملی طور پر متعلقہ اداروں تک پہنچتے ہیں۔
چوہدری محمد سعید کے سابقہ دورِ وزارت اور حلقے میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ بھی اب دوبارہ عوامی گفتگو کا حصہ بنے گا۔ ماضی کے منصوبوں کا حوالہ اپنی جگہ، لیکن نئی ذمہ داری کے ساتھ اصل معیار یہ ہوگا کہ موجودہ ضرورتوں کو کس طرح ترجیح دی جاتی ہے اور کون سے کام مکمل کرانے کے لیے مسلسل کوشش کی جاتی ہے۔
یہ پہلو بھی اہم ہے کہ مسلم لیگ ن نے 2026 کے عام انتخابات میں ایل اے تھری سے چوہدری محمد سعید کو امیدوار بنایا تھا، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ بعد ازاں مسلم لیگ ن نے انہیں میرپور ڈویژن سے کشمیر کونسل کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا اور اب وہ بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔
اس صورت حال میں ایل اے تھری کے عوام کے ذہن میں ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کشمیر کونسل کی یہ نمائندگی میرپور کے لیے محض سیاسی عہدہ رہے گی یا اسے عملی ترقیاتی اور عوامی خدمت کے ایک مؤثر ذریعہ میں تبدیل کیا جائے گا؟
بالخصوص مسلم لیگ ن کے لیے بھی ایل اے تھری ایک سنجیدہ سیاسی حقیقت ہے۔ گزشتہ انتخابات میں مسلسل ناکامیوں کے بعد یہ حلقہ پارٹی کے لیے صرف انتخابی اعدادوشمار کا معاملہ نہیں بلکہ تنظیمی رابطے، عوامی اعتماد اور مقامی مسائل کے حل سے جڑا ہوا سوال ہے۔ چوہدری محمد سعید چونکہ اس حلقے سے سابق وزیر بھی رہ چکے ہیں اور حالیہ انتخابات میں پارٹی کے امیدوار بھی رہے، اس لیے عوام ان سے پارٹی کی سیاست سے بڑھ کر عملی کارکردگی کی توقع رکھ سکتے ہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ میرپور کے بڑے مسائل کی ایک واضح ترجیحی فہرست سامنے آئے۔ شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر سے لے کر صحت اور تعلیم، نوجوانوں کے روزگار سے لے کر شہری منصوبہ بندی اور عوامی سہولیات تک، ہر شعبے میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون سا مسئلہ کس فورم پر اٹھایا جائے گا اور اس کے حل کے لیے کیا پیش رفت ہوئی۔
کشمیر کونسل کے رکن کی حیثیت سے چوہدری محمد سعید کے سامنے ایک موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ موقع اس لیے کہ انہیں ایک ایسا آئینی و سیاسی پلیٹ فارم ملا ہے جہاں وہ میرپور کی آواز کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکتے ہیں، اور ذمہ داری اس لیے کہ عوام اب صرف وعدہ نہیں بلکہ نتیجہ دیکھنا چاہیں گے۔
حلقہ ایل اے تھری کے عوام نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی فیصلے کیے ہیں۔ انتخابی نتائج بدلتے رہے، سیاسی وابستگیاں تبدیل ہوتی رہیں، مگر عوامی مسائل اپنی جگہ موجود رہے۔ اس لیے اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کس جماعت نے کتنی بار کامیابی یا شکست حاصل کی، بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ میرپور کے مسائل حل کرنے کے لیے کون کتنا عملی کردار ادا کرتا ہے۔
چوہدری محمد سعید کا بلا مقابلہ کشمیر کونسل کا رکن منتخب ہونا ایک نئی ذمہ داری کا آغاز ہے۔ اب میرپور کے عوام یہ دیکھنا چاہیں گے کہ ان کی آواز کونسل کے ایوان سے نکل کر عملی منصوبوں، بہتر شہری سہولیات اور عوامی مسائل کے حل تک کب پہنچتی ہے۔ یہی کارکردگی مستقبل میں اس نمائندگی کی اصل پہچان بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں