16

کشمیر؛ زخم جو بھر نہ سکا حمید علی

پانچ اگست 2019ء تاریخِ کشمیر کا وہ سیاہ باب ہے، جسے وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکتی۔ یہ وہ دن تھا، جب بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کیے اور ایک متنازع خطے کی آئینی و انتظامی شناخت کو بدلنے کی کوشش کی۔ کشمیریوں کے لیے یہ محض ایک آئینی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ان کے سیاسی، سماجی اور بنیادی حقوق پر ایک ایسا وار تھا، جس کے اثرات آج بھی وادی کے گلی کوچوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

اسی مناسبت سے پاکستان میں پانچ اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے، تاکہ عالمی ضمیر کو یاد دلایا جا سکے کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی زندہ ہے اور کشمیری عوام کی آواز ابھی خاموش نہیں ہوئی۔

کشمیر۔۔۔ جسے قدرت نے برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں، بہتے دریاؤں اور شفاف جھیلوں سے سجایا، تاریخ نے اسے ایک طویل آزمائش دے دی۔ یہ وہ سرزمین ہے، جہاں حسن اور حزن ایک ساتھ سانس لیتے ہیں؛ جہاں وادی کی خاموشی میں کبھی بہتے پانی کی آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی کسی ماں کے دل کی دھڑکن۔ جہاں کسی گھر کی دہلیز پر انتظار برسوں سے کھڑا ہے اور کسی آنکھ میں اپنے پیارے کی واپسی کا خواب آج بھی زندہ ہے۔

پانچ اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی وہ شقیں ختم کرنے کا اقدام کیا، جن کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت حاصل تھی، جبکہ خطے کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس اقدام سے قبل اور اس کے بعد مقبوضہ علاقے میں سخت پابندیاں عائد کی گئیں، مواصلاتی ذرائع محدود کیے گئے اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں لگیں۔

بھارت نے اسے اپنا داخلی معاملہ قرار دیا، مگر کشمیر کی تاریخ، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا سوال اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

کسی خطے کے قوانین تبدیل کیے جا سکتے ہیں، نقشے پر لکیریں کھینچی جا سکتی ہیں، انتظامی ڈھانچے بدلے جا سکتے ہیں، مگر لوگوں کے دلوں میں موجود حق اور آزادی کی خواہش کو کسی حکم نامے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یہی کشمیر کا سب سے بڑا سوال ہے۔

کشمیر کا مسئلہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کے ایوانوں میں موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس مسئلے پر قراردادیں منظور ہوئیں اور کشمیری عوام کے مستقبل کے تعین کے لیے ان کی خواہشات کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

اس لیے پانچ اگست صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ دنیا کو یہ یاد دلانے کا دن بھی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

دنیا اگر انسانی حقوق کو واقعی آفاقی اصول سمجھتی ہے تو پھر کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بھی اس کی توجہ کی مستحق ہے۔ انسانی حقوق کا تعلق کسی خاص قوم، مذہب یا خطے سے نہیں ہوتا۔ کسی ماں کا آنسو سرحد نہیں پہچانتا، کسی بچے کا خوف قومیت نہیں پوچھتا اور کسی انسان کی آزادی کی خواہش کسی جغرافیے کی پابند نہیں ہوتی۔

یہی وہ مقام ہے، جہاں کشمیر کا مقدمہ سیاسی اختلاف سے آگے بڑھ کر انسانی ضمیر کا مقدمہ بن جاتا ہے۔

ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ عالمی برادری آخر کب تک کشمیر کے مسئلے کو سیاسی مصلحتوں کے ترازو میں تولتی رہے گی؟ کب تک عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی عینک سے انسانی حقوق کو دیکھتی رہیں گی؟ اگر دنیا کے کسی اور حصے میں انسانی آزادیوں پر قدغنیں تشویش کا باعث بنتی ہیں تو کشمیر میں بھی انسانی وقار، آزادی اور بنیادی حقوق کے سوال کو اسی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔

پانچ اگست کا دن ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کو کس طرح مؤثر بنا سکتے ہیں۔ صرف ایک دن تقریریں، ریلیاں اور سیمینار منعقد کرنا کافی نہیں۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر زندہ رکھنے کے لیے مسلسل سفارتی جدوجہد، مؤثر ابلاغ، عالمی میڈیا سے رابطہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔

کشمیریوں کی آواز کو دنیا کے ایوانوں تک پہنچانے کے لیے جذبات کے ساتھ دلیل، تحقیق، قانون اور سفارت کاری کا راستہ بھی اختیار کرنا ہو گا۔

پاکستان کے لیے کشمیر محض خارجہ پالیسی کا ایک موضوع نہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کے ساتھ پاکستانی عوام کی گہری جذباتی وابستگی موجود ہے۔ کشمیر کے پہاڑوں سے نکلنے والے دریاؤں کا تعلق پاکستان کی زندگی سے ہے اور کشمیری عوام کی تکلیف پاکستانی معاشرے کے احساسات کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہر سال پانچ اگست کو کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے بھارتی اقدامات کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتا ہے۔

مگر کشمیریوں کے لیے سب سے قیمتی چیز صرف ہماری آواز نہیں، بلکہ ہماری مستقل آواز ہے۔ انہیں یہ احساس رہنا چاہیے کہ دنیا انہیں بھولی نہیں۔ ان کی جدوجہد کسی وقتی خبر کا حصہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ پانچ اگست ہمیں اسی عزم کی تجدید کا موقع دیتا ہے کہ کشمیر کو عالمی ضمیر کے سامنے زندہ رکھا جائے گا۔

کشمیر کی کہانی میں درد بہت ہے، مگر امید بھی کم نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل ہو، ہمیشہ نہیں رہتی۔ وقت کے پہیے کو طاقت کے زور پر ہمیشہ ایک سمت میں نہیں روکا جا سکتا۔ جو قومیں اپنے خوابوں کو زندہ رکھتی ہیں، ان کی امیدیں بھی زندہ رہتی ہیں۔

کشمیر کے بچے بھی اس صبح کے حق دار ہیں، جہاں ان کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں اور آنکھوں میں خوف کے بجائے مستقبل کے خواب ہوں۔ کشمیر کی مائیں بھی اس دن کی منتظر ہیں، جب ان کے دروازوں پر انتظار کے سائے چھٹ جائیں گے۔ کشمیری نوجوان بھی ایک ایسے مستقبل کے حق دار ہیں، جہاں ان کی شناخت، عزت اور بنیادی حقوق محفوظ ہوں۔

پانچ اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کسی ایک دن کا موضوع نہیں۔ یہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ یہ دن ہمیں احتجاج کے ساتھ ساتھ اپنے عزم کی تجدید کا پیغام دیتا ہے کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت اور انسانی وقار کے لیے آواز بلند کی جاتی رہے گی۔

کشمیر آج بھی دنیا کے ضمیر کے سامنے ایک سوال بن کر کھڑا ہے۔ پانچ اگست اس سوال کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی قوم کی خواہش کو حکم نامے سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور کسی خواب کو پابندیوں کی دیواروں میں ہمیشہ کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا۔

کشمیر کا زخم پرانا ضرور ہے، مگر اس کا درد آج بھی تازہ ہے۔ پانچ اگست صرف یومِ استحصال نہیں، یہ اس عزم کی تجدید بھی ہے کہ انصاف کی صبح تک کشمیر کی آواز کو خاموش نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں