42

ووٹ کو عزت دو؛آزاد کشمیرکی پارلیمانی روایت تحریر آغاسفیرحسین کاظمی،سینیئر جرنلسٹ اے جے کے

مضبوط حکومت یا داخلی کشمکش؟ آزاد کشمیر کی نئی حکومت سازی میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے سامنے ایک چیلنج سے کم نہیں ۔چونکہ آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی کامرحلہ آچکا،یہ مرحلہ محض وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ اس وقت یہ پارلیمانی روایات، سیاسی برداشت اور جماعتی نظم و ضبط کا ایک اہم امتحان بھی بن چکا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت بالخصوص میاں محمد نواز شریف کی سیاسی سوچ اور ماضی کے بیانیے کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
میاں محمد نواز شریف کا معروف سیاسی نعرہ “ووٹ کو عزت دو” رہا ہے۔ اسی نعرے کے تناظر میں سنجیدہ حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ جب ایک جماعت کو پارلیمانی اکثریت حاصل ہو اور اس جماعت کی صدارت ایک ایسے شخص کے پاس ہو جو طویل عرصے سے جماعتی اور پارلیمانی سیاست میں اپنا کردار ادا کرتا آیا ہو تو کیا پارلیمانی روایت کا تقاضا یہ نہیں کہ جماعت اپنے صدر کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے ترجیح دے؟یہ سوال کسی دوسرے امیدوار کی اہلیت کو چیلنج کرنے کے لیے نہیں بلکہ پارلیمانی روایت، جماعتی تسلسل اور سیاسی استحکام کے حوالے سے اٹھایا جا رہا ہے۔
سنجیدہ حلقوں کی رائے میں شاہ غلام قادر،سیاسی اختلافِ رائے میں بھی سیاسی شائستگی رکھتے ہیں،شاہ صاحب کا سیاسی سفر آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیاست میں ایک الگ حوالہ رکھتا ہے۔ ان کے بارے میں سیاسی مخالفین سمیت مختلف حلقوں میں یہ تاثر رہا ہے کہ انہوں نے سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے گریز کیا اور اختلافِ رائے کے باوجود سیاسی شائستگی کو برقرار رکھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو محض ایک سیاسی امیدوار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے پارلیمانی کردار کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے جو مختلف سیاسی قوتوں کے ساتھ مکالمے کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔آزاد کشمیر جیسے حساس سیاسی ماحول میں، جہاں حکومت کو نہ صرف اپنی جماعت بلکہ اپوزیشن، سول سوسائٹی اور مختلف عوامی حلقوں کے ساتھ بھی معاملات چلانے ہوتے ہیں، یہ وصف معمولی اہمیت نہیں رکھتا۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک زمانے تک مہاجر نشستوں کے حوالے سے یہ اعتراض سامنے آتا رہا کہ بعض امیدوار محدود ووٹ لے کر قانون ساز اسمبلی تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس تناظر میں شاہ غلام قادر نے ایک مختلف سیاسی راستہ اختیار کیا۔انہوں نے وادی نیلم جیسے مشکل اور جغرافیائی و سیاسی اعتبار سے حساس حلقے کا انتخاب کیا اور وہاں سے انتخابی سیاست کا عملی میدان اختیار کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نمایاں عوامی حمایت حاصل کرتے ہوئے اپنی سیاسی حیثیت کو محض کسی مخصوص نشست یا گروہی سیاست تک محدود نہیں رہنے دیا۔
یہ پہلو ان کے سیاسی سفر میں اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ انتخابی سیاست کے مشکل میدان میں براہِ راست عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاست میں شریف برادران کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی سمجھی جاتی رہی ہے کہ شدید سیاسی اختلاف کے باوجود وہ مکمل سیاسی تصادم کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور سیاسی راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔آزاد کشمیر کے موجودہ حالات میں بھی ایسی ہی سیاسی حکمت عملی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔یہاں معاملہ صرف یہ نہیں کہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے کون زیادہ اہل ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت سازی کا فیصلہ ایسا ہو جو آنے والے دنوں میں جماعت کے اندر اتحاد، اسمبلی میں استحکام اور ریاست میں سیاسی اعتماد کو مضبوط کرے۔
جماعتی صدر اور وزارتِ عظمیٰ؛ کیا پارلیمانی روایت یہی ہے؟دنیا بھر کے پارلیمانی نظاموں میں یہ اصول مختلف صورتوں میں نظر آتا ہے کہ جس جماعت کو عوامی مینڈیٹ یا پارلیمانی اکثریت حاصل ہو، اس جماعت کی قیادت ہی حکومت کی سربراہی سنبھالنے کی بنیادی امیدوار ہوتی ہے۔یقیناً ہر نظام میں حالات، عددی اکثریت اور سیاسی ضرورت کے مطابق مختلف فیصلے کیے جا سکتے ہیں، لیکن جب جماعت کا صدر خود منتخب پارلیمانی نمائندہ ہو اور وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے مطلوبہ سیاسی تجربہ بھی رکھتا ہو تو اسے نظر انداز کرنے کا فیصلہ لازماً سیاسی سوالات کو جنم دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے سامنے آج اصل چیلنج کسی ایک شخصیت کو آگے لانا نہیں بلکہ ایسا فیصلہ کرنا ہے جس سے پارلیمانی پارٹی متحد رہے اور حکومت شروع ہی سے اندرونی اختلافات کا شکار نہ ہو۔
سنجیدہ حلقوں کا کہناہے کہ آزادکشمیرمیں حکومت سازی کا عمل علاقائی اور قبائلی تقسیم سے بالاتر فیصلہ دورس نتائج کا حامل ہو گا،اور درپیش چیلنجزکے مقابلے میں بھی موثرتب ہوگا،جب کھینچا تانی کے بغیر وزیراعظم کا انتخاب ہو۔چونکہ آزاد کشمیر کی سیاست میں علاقائی، برادری اور قبائلی عوامل ہمیشہ اثرانداز رہے ہیں۔ انتخابی سیاست میں یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، مگر حکومت سازی کا فیصلہ اگر انہی بنیادوں پر ہونے لگے تو ریاستی سطح پر سیاسی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
اس وقت بھی مختلف حلقوں کی جانب سے اپنی اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایسے ماحول میں مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ، گروہی مہم یا علاقائی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایسا فیصلہ کرے جسے پوری جماعت قبول کر سکے۔کیونکہ اگر فیصلہ جماعتی اکثریت کے بجائے گروہی دباؤ کے نتیجے میں محسوس ہوا تو اس کے اثرات صرف وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب تک محدود نہیں رہیں گے۔اصل امتحان حکومت چلانے کا ہے۔آزاد کشمیر اس وقت معمول کے سیاسی حالات سے نہیں گزر رہا۔ گزشتہ عرصے میں عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے ریاستی سیاست اور حکومت کے لیے کئی بنیادی سوالات کھڑے کیے۔ اپوزیشن نے بھی متعدد معاملات میں فعال کردار ادا کیا اور عوامی مسائل کو سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا۔اب نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ صرف اقتدار سنبھالنے تک محدود نہ رہے بلکہ ڈیلیور بھی کرے۔
عوام کو ریلیف، اداروں کی کارکردگی، مالی نظم و ضبط، بنیادی سہولیات، روزگار اور انتظامی اصلاحات جیسے معاملات پر عملی پیش رفت درکار ہے۔اس کے لیے ایک ایسی حکومت ضروری ہے جس کے سربراہ کے پاس اپنی پارلیمانی جماعت پر مضبوط گرفت ہو اور وہ اپوزیشن کے ساتھ بھی بامعنی سیاسی تعلقات قائم کر سکے۔یہی مضبوط قائدِ ایوان ہی آگے کا راستہ کھول سکتا ہے،آزاد کشمیر کے موجودہ حالات میں قائدِ ایوان کا کردار محض کابینہ کی سربراہی تک محدود نہیں ہوگا۔ اسے اسمبلی کے اندر اپنی جماعت کو متحد رکھنا، اپوزیشن سے رابطہ برقرار رکھنا، عوامی احتجاج کے اسباب کو سمجھنا اور وفاقی حکومت کے ساتھ ریاستی معاملات پر مؤثر انداز میں بات چیت کرنا ہوگی۔
اگر حکومت سازی کے پہلے ہی مرحلے میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اندر سرد جنگ شروع ہوگئی تو اس کا براہِ راست اثر حکومتی کارکردگی پر پڑ سکتا ہے۔اس کے برعکس اگر جماعتی قیادت ایسا فیصلہ کرتی ہے جو پارلیمانی روایت، جماعتی اتحاد اور سیاسی شائستگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو تو نئی حکومت کو ایک مضبوط آغاز مل سکتا ہے۔فیصلہ صرف ایک وزارتِ عظمیٰ کا نہیں۔اسوقتبمسلم لیگ ن کی قیادت کے سامنے معاملہ صرف یہ نہیں کہ آزاد کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا۔بلکہ یہ ہے کہ کیا فیصلہ ایسی پارلیمانی روایت کو مضبوط کرے گا جس میں جماعتی قیادت، پارلیمانی مینڈیٹ اور سیاسی تجربے کو اہمیت حاصل ہو؟
میاں محمد نواز شریف نے جب “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ دیا تو اس کا بنیادی مفہوم سیاسی مینڈیٹ اور جمہوری فیصلے کی توقیر سے جڑا ہوا تھا۔ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا موجودہ مرحلہ اسی تصور کو عملی سیاست میں پرکھنے کا ایک موقع بھی ہے۔
شاہ غلام قادر کو وزیراعظم بنانا یا نہ بنانا بالآخر مسلم لیگ ن کی ترجیحات کاآئینہ داراورقیادت کا سیاسی فیصلہ ہوگا، لیکن اس فیصلے کے اثرات صرف ایک شخصیت یا ایک منصب تک محدود نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں جماعت کے اندرونی اتحاد، حکومت کی کارکردگی اور آزاد کشمیر کے سیاسی استحکام پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔آزاد کشمیر کو اس وقت ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو اندر سے متحد، باہر سے باوقار اور عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔کیونکہ موجودہ حالات میں حکومت کے پاس وقت کم اور ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ عوامی تحریکوں، اپوزیشن کے فعال کردار اور ریاستی مسائل کے پس منظر میں اب صرف حکومت بنانا کافی نہیں؛ حکومت کو چلانا اور نتائج دینا ہی اصل امتحان ہوگا۔اور اس امتحان کی پہلی شرط شاید یہی ہے کہ حکومت سازی کا فیصلہ ایسا ہو جس پر کل خود حکومت کی پارلیمانی بنیاد کمزور نہ پڑ جائے۔
سنجیدہ حلقوں کایہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تو صدر ریاست کا انتخاب بھی ہونا ہے ۔اس آئینی منصب کو پارٹی سیاست سے بالاتر رکھنے کےلئے بہترین منتظم مگرغیرسیاسی شخصیت کاانتخاب کرناناگزیرہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں