12

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی پمز میں میڈیا سے گفتگو

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پمز چلڈرن ہسپتال کا دورہ کیا اور انتہائی نگہداشت کے بچوں کے یونٹ میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی دلخراش سانحہ ہے، ایک ماہ سے کم عمر بچوں کی نگہداشت کے یونٹ میں پیش آنے والے واقعے پر جن والدین کے لختِ جگر جاں بحق ہوئے، ان سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور کسی بھی ذمہ دار کو کیفرِ کردار تک پہنچائے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے اور وزیراعظم کے سامنے بھی اپنا احتساب پیش کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق شام 6 بج کر 38 منٹ پر اسپارک ہوا اور ایک منٹ بعد 6 بج کر 39 منٹ پر ڈاکٹرز نے مدد طلب کی۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں واقعے کی تمام تفصیلات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آکسیجن نے شعلہ پکڑا اور آکسیجن کی تمام لائنوں میں آگ نظر آ رہی تھی، جبکہ آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پمز کی موجودہ صورتحال بھی غیر معمولی دباؤ کی عکاس ہے۔ 250 سے 300 مریضوں کے لیے بنائے گئے پمز میں روزانہ تقریباً 8 ہزار مریض آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کا قلمدان سنبھالے انہیں ایک سال دو ماہ ہوئے ہیں اور اس عرصے میں متعدد ہسپتالوں اور سینکڑوں بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ واقعے میں غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار کسی بھی فرد کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں